قومی اسمبلی ،اپوزیشن کادوسرے روز بھی واک آؤٹ ،وزیر اعظم جمعہ کو آئیں گے :پرویز رشید،دونوں قدموں پر دوڑتے ہوئے آئینگے :خورشید شاہ

قومی اسمبلی ،اپوزیشن کادوسرے روز بھی واک آؤٹ ،وزیر اعظم جمعہ کو آئیں گے ...

اسلام آباد (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ اپوزیشن کا پانامہ لیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی اجلاس سے دوسرے روز بھی واک آؤٹ کیا ۔ جب تک وزیر اعظم اجلاس میں آکر وضاحت نہیں دیتے واک آؤٹ جاری رہے گا۔ مسلم لیگ ق ، پی ٹی آئی ، پی پی پی ، جماعت اسلامی ، اے این پی ، ایم کیو ایم ، عوامی مسلم لیگ نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا ۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وزیر اعظم پارلیمینٹ میں آ کر پانامہ لیکس کے معاملے پر قوم کو اعتماد میں لیں چونکہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے حوالے سے ہمارا ملک دنیا میں تیسرے چوتھے نمبر پر آتا ہے وزیر اعظم پر الزامات کے بعد سونے پر سہاگہ ہو گیا ہے اپوزیشن جمہوریت اور حکومت کے خلاف نہیں بلکہ وزیر اعظم سے پانامہ لیکس کی وضاحت چاہتی ہے ۔ نواز شریف 1985 سے اب تک اپنے اثاثے ظاہر کریں گو نواز گو نہیں بلکہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں انہو ں نے کہا کہ پہلے ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اس پر اپوزیشن اب بھی قائم ہے لیکن پارلیمنٹ کا ایک اپنا ہی رول ہوتا ہے وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ میں آئیں اور پانامہ لیکس پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں لیں ۔ وزیر اعظم کی آسانی کے لئے ہم آج پارلیمنٹ میں سوالات کو لکھ دیں گے وزیر اعظم دوسرے روز آ کر اس کا جواب دے دیں ۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان کا نام دنیا میں کرپشن کی وجہ سے بدنام ہوچکا ہے اس داغ کو دھونے کیلئے وزیراعظم ایوان میں آئیں ، وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں نہ آنے سے اراکین اسمبلی بھی دلبرداشتہ ہوکر ایوان میں نہیں آرہے ، وزیراعظم ایوان میں آئیں ہم ان کو بڑے ادب کے ساتھ سنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیس کروڑ لوگ کے منتخب نمائندے ہیں جن کو وزیراعظم ایوان میں آکر اعتماد میں لیں ،پانامہ لیکس میں 250 لوگوں کے اور بھی نام آگئے ہیں، پانامہ لیکس پر وزیراعظم ایوان میں آکر بات کریں جب وزیراعظم آجائینگے تو ہم بھی دونوں قدموں پر دوڑتے ہوئے آجائینگے اس پر وفاقی وزیر پرویز رشید نے سپیکر سے اجازت کے بعد کہا کہ نوا ز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم نہیں بنے وہ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور ہاؤس میں آتے رہتے ہیں اور ایوان میں آکر اراکین کی باتیں سن کر خوش ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے ٹی آر اوز پر بات چیت ہورہی ہے کہ ان کو متفقہ طور پر تیار کیا جائے اور کمیشن بنا کر تحقیقات کی جانی چاہیں لیکن اب اپوزیشن کی خواہش ہے کہ اب وزیراعظم کمیشن کو جواب کی بجائے ایوان میں آکر جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جمعہ کے دن ایوان میں آئینگے اور ایوان کی خواہش پوری کرینگے ۔وزیراعظم جمعہ کو اجلاس میں آکر اپوزیشن کے تمام سوالوں کے جواب دینگے ۔وزیراعظم کی مصروفیات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ ایوان میں نہیں آسکتے ،انہوں نے تاجکستان جانا ہے اس کے بعد جمعہ کہ وہ ایوان میں آئینگے ،اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم جمعہ کو آئینگے تو ہم بھی جمعہ کو انشاء اللہ ادھر ہی نظر آئینگے، انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ وزیراعظم کی مصروفیات کیا ہوتی ہیں ہم بھی پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں نہیں آئے ہم بہت عرصہ سے پارلیمنٹ میں آرہے ہیں جب وزیراعظم آئینگے تو ہم بھی دونوں قدموں پر دوڑتے ہوئے آئینگے، اس کے بعد اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا ، پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن اسمبلی لال چند نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردی جس کے بعد کورم پورا ہونے تک اجلاس کی کارروائی روک دی گئی ۔

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قرآن مجید کی طباعت میں معیاری کاغذ کے استعمال کو یقینی بنایا جائے ۔ یہ قرارداد ایم این اے نعیمہ کشور نے پیش کی تھی جس کی کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔ نعیمہ کشور نے قرارداد کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی طباعت میں غیر معیاری کاغذ استعمال کیا جارہا ہے جس سے کنارہ کشی کرنا ہوگی وزیر مذہبی امور پیر حسنات نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ حکومت خود بھی اس مقصد کیلئے قانونی بل ایوان میں جلد لائے گی اس بل پر کام جاری ہے۔ حکومت مذہبی کتابوں کی طباعت اور اشاعت میں معیاری کاغذ کے استعمال کو ہر حال میں یقینی بنائے گی سپیکر سردار ایاز صادق نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی بلکہ قرارداد کے حق میں بلند آواز سے حمایت کی قرارداد کی منظوری کے وقت ایوان میں اپوزیشن موجود نہیں تھی آخر میں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...