مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف عسکری تحریک نے پھر سے جڑ پکڑ لی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف عسکری تحریک نے پھر سے جڑ پکڑ لی

واشنگٹن (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف عسکری تحریک نے پھر سے جڑ پکڑ لی ہے حتی کہ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم نے اعلان کیا ہے کہ کشمیری آخری منزل کے لیے بندوق بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جرم نہیں۔امریکی جریدہ فارن پالیسی میگزین نے مقبوضہ کشمیر مین عسکریت کے احیا پر رپورٹ شائع کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کشمیر کھو رہا ہے کشمیر میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے ساتھ ہی آزادی کی جدوجہد کے لیے عوامی حمایت بھی اضافہ ہو رہا ہے۔کشمیری نوجوانوں کی طرف سے بھارتی اسٹیبشلمنٹ کے خلاف ہتھیار اٹھانے میں نیا اضافہ ہوا ہے زیادہ تر تعلیم یافتہ اور مالی طور پر خوشحال گھرانوں کے نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہو رہے ہیں۔حریت پسندوں کے ساتھ کشمیری عوام کی حمایت نے بھارتی اسٹیشلمنٹ میں کھلبلی مچا دی ہے۔بھارت کو قیام امن کے لیے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ یکسان مذاکرات کرنا چاہیے۔فارن پالیسی اپنے مضمون بھارت کشمیر کھو رہا ہے میں لکھتا ہے کہ مودی کے کشمیر کے 12 ارب ڈالر کے پیکیج نے بھی کوئی تاثر نہیں چھوڑا بھارت کو کالے قوانین کو منسوخ کرنے ہوں گے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث فوجیوں کو سزا دینی چاہیے کئی لوگوں کی رائے ہے کہ بھارت کشمیر کا سیاسی حل نکالنے میں مخلص نہیں۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم نے اشارہ دیا ہے کہ ہم آخری منزل کے لیے بندوق بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جرم نہیں کشمیر میں 2008ء سے 2010ء تک سویلین احتجاج اہم موڑ ثابت ہوئے ان احتجاجوں میں سیکڑوں نوجوانوں کی شہادت نے مقامی لوگوں میں بھارت کے خلاف نفرت اضافہ کیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...