آئی ایم سوری صادق خان

آئی ایم سوری صادق خان
 آئی ایم سوری صادق خان

  


میں نہیں جانتا کہ ہم میں سے بہت تھوڑے لندن کے مئیر کے انتخاب میں پاکستانی نژاد مسلمان امیدوار صادق خان کی کامیابی پر مخمصے کا کیوں شکار ہیں، مخمصہ تو چھوٹا سا لفظ ہے مجھے تو اپنے دوست شرمندگی اور احساس کمتری کے مارے لگ رہے ہیں، مجھے ابن انشاء کی لکھی ہوئی اردو کی آخری کتاب کا وہ مولوی یاد آ رہا ہے جو ایک دائرے کے اندر ڈنڈا گھما تے ہوئے چلا چلا کرکہہ رہا ہے، چل نکل اسلام کے دائرے سے، ہمارے دوستوں نے صادق خان کو اسلام اور پاکستان دونوں کے دائرے سے نکالنے کے لئے اپنے اپنے لیپ ٹاپ اور قلم ڈنڈے کی طرح ہی اٹھا رکھے ہیں۔ جی جی، درست کہا آپ نے، اس کامیابی میں ہمارے اسلام اوربے چارے پاکستان نے تو کوئی کردارادا نہیں کیا ، ہاں ، اسلام تو وہاں صرف اسلامو فوبیا کی تہمت اٹھانے کے لئے استعمال ہوا تھا اور اگر کبھی بھارت نژاد وریندا شرما لیبر پارٹی ہی کی ٹکٹ پر لندن کا مئیر منتخب ہوا تھا تو وہ ہندوستانیوں کی عزت اور کامیابی تھی مگر اس عزت اورکامیابی سے ہم پوری طرح لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں، صادق خان کو عاق کرتے ہیں، دلائل دیتے ہیں کہ یہ کسی پاکستانی نہیں صرف لیبر پارٹی کے ایک کارکن کی کامیابی ہے جو کوئی بھی ہوسکتا تھا۔لوگ اپنے ساتھ لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور ہم قسمت سے ساتھ لوگوں کی نفی کرتے ہیں۔ ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر مثالیں لاتے ہیں کہ ہمارا فلاں ، فلاں مخالف صادق خان کی حمایت کر رہا تھا لہذا صادق خان کی کامیابی پر خوشی مت مناو ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب چودھری سرور برطانیہ چھوڑ کے وطن واپس لوٹے تھے تو ان پر کچھ تصویریں دکھاتے ہوئے شراب کی دکان چلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اگر میں اپنے ان دوستوں کے ساتھ چلا جاوں تو پھر تارکین وطن کی کوئی کامیابی پاکستان کی کامیابی نہیں رہے گی۔

مجھے حیرت ہوئی کہ صادق خان کی کامیابی پر تنقید اور طنز کے جو نشتر بھارتیوں کو چلانے چاہئے تھے وہ ہم خود چلا رہے ہیں۔ وہ تصویر بھی ڈھونڈ لی گئی ہے جس میں وہ کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں اور ان کی ہم جنس پرستی کی حمایت بھی ہم پاکستانیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے سامنے لائی جا رہی ہے جو ان کی کامیابی کو پاکستان کی ایک کامیابی کے طور پر لے رہے ہیں۔ مجھے تحریک انصاف کے کچھ دوستوں کی تو سمجھ آتی ہے کہ ان کا اصل مسئلہ عمران خان ہیں، عمران خان درست فیصلہ کریں یا غلط ، انہوں نے اس کے ساتھ ہی جانا ہے اور مجھے معذرت کے ساتھ کہنا ہے کہ اگر عمران خان صاحب میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی تو ان کی پارٹی اس رفتار کے ساتھ آسمان سے زمین کا سفر طے نہ کر رہی ہوتی۔ وہ لندن کے مئیر کے انتخاب میں اپنی سابقہ بیوی کے بھائی کے ساتھ تھے، پاکستان کے سیاسی ہنگاموں کو چھوڑ کے وہ لندن جا رہے تھے تاکہ پاکستانی کمیونٹی کو صادق خان کے خلاف ووٹ دینے پر آمادہ کر سکیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ سوشل میڈیا پر میں نے تحریک انصاف کے بہت سارے دوستوں کو یہ وضاحت کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ عمران خان صاحب کی ہدایات کے باوجود زیک گولڈ سمتھ کی بجائے صادق خان کے ساتھ ہیں۔ مجھے اپنی خوشی اور مسرت کا صرف اس بنیاد پر بھی اعلان کرنے میں کوئی عار نہیں کہ لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے ورینداشرما کی حمایت کے باوجود مجموعی طور پر بھارتی کمیونٹی صادق خان کے اسی طرح خلاف تھی جس طرح عمران خان کی حمایت کے باوجود پاکستانی کمیونٹی زیک گولڈ سمتھ کو ناکام بنانے کے لئے سرگرم عمل تھی، بھارتیوں کی مخالفت بتا رہی تھی کہ لندن میں چاہے کسی گلی محلے یا کسی چائے خانے کی بنیاد پر ہی سہی، اس الیکشن کی صورت ایک پاک بھارت جنگ ہو رہی ہے۔ خوشی اور مسرت کے ڈھنڈورے اس بنیاد پر بھی پیٹے جانے چاہئیں کہ زیک گولڈ سمتھ نے اسے رنگ ، نسل اور مذہب کی جنگ بنا دیا تھا ۔ آپ چاہیں تسلیم کریں یا نہ کریں، زیک گولڈ سمتھ کی اس حماقت آمیز مہم کے بعد یہ انتخاب صرف لیبر اور کنزرویٹو پارٹیوں کے درمیان نہیں رہ گیا تھا۔ کیا آپ اس سانحے کے نتائج کا اندازہ کر سکتے ہیں جو زیک گولڈ سمتھ کی کامیابی کی صورت میں رنگ ، نسل اور مذہب کے خانے میں اس سے الگ کھڑے ہونے والوں کو درپیش ہو سکتا تھا ۔ جمائما نے اس غلطی کا اعتراف او ر اس پر تنقید ناکامی کے بعد کی جس غلطی کو وہ دیدہ و دانستہ انتخابی مہم میں اپنے بھائی کے ساتھ مسلسل کرتی چلی آ رہی تھیں۔ لندن کے ووٹروں نے جو کیا ہے امید کی جانی چاہیے کہ وہی کچھ امریکی رائے دہندگان ٹرمپ جیسے احمق کے ساتھ کریں گے ۔یہ کامیابی ہم جیسے جمہوریت کے حا میوں کے لئے بھی اہم ہے جو مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگوں کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ ہم مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اپنے طبقے کی نفسیات کی بنیاد پر ارب پتیوں سے نفرت کرتے ہیں مگر ہمیں یہاں یہ اہم ترین کامیابی بھی کامیابی نظر نہیں آ رہی،ہم اسے برطانوی معاشرے کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جو بہت زیادہ غلط بات بھی نہیں مگر دوسری طرف ہمیں اپنی تاریخ اور سیاست کا ادراک بھی رکھنا چاہئے۔ ایم کیو ایم کے سیاست کے انداز سے آپ لاکھ اختلاف کرتے رہیں مگر اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے بہت سارے مڈل او رلوئر مڈل کلاسیوں کو ایوانوں میں پہنچایا ہے، یہ کریڈٹ بہت ساری جگہوں پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والی جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو بھی دیا جا سکتا ہے اور جب ہم مئیر کے انتخاب کی بات کرتے ہیں تو کیا ہمارے پاس جماعت اسلامی کے اس موقف کی تردید موجود ہے کہ اس نے خان شوز نامی دکان پر سیلز مینی کرنے والے اپنے رکن عبدالستار افغانی کو دو بار پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا مئیر اور ایک مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنایا ۔ وہ درست طورپر اس المیے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا کے لئے کراچی اور ہمارے میڈیا کے لئے جماعت اسلامی اہم نہیں ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ صادق خان مسلمان ہونے کے باوجود لندن کا مئیر بن گیا کیا ہم کسی مسیحی کو کراچی ، لاہور یا اسلام آباد کا مئیر بنا سکتے ہیں تو میرا جواب اثبات میں ہے، اس سلسلے میں صرف وہاں عوامی اعتماد رکھنے والی سیاسی قیادت کو تھوڑی سی جرات کا مظاہرہ کرنا ہو گااور یوں بھی ہم لندن والوں سے بہت بہتر ہیں، ہم اپنے مسیحی ، ہندو اور دیگر غیر مسلم ہم وطنوں کو پارلیمان کا رکن منتخب کرنے کے لئے مسلمانوں کے ووٹوں کا محتاج نہیں کرتے مگر شائد اعتراضیوں کو اپنی کوئی خوبی ، خوبی ہی نہیں لگتی۔

صادق خان کے انتخاب میں اسلام اور پاکستان کی کامیابی کی دانستہ اور نادانستہ نفی کرنے والے اس کے مسلمان ہونے اور پاکستانی نژاد ہونے سے انکار نہیں کرسکتے۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ عام پاکستانیوں کو صادق خان کی کامیابی سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، فائدہ تو لندن کے رہنے والوں کو ہو گا جو پبلک ٹرانسپورٹ کے سستے کرایوں کی سہولت مسلسل حاصل کرتے رہیں گے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک وزیر رہنے والے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کئے رکھیں گے جس کا باپ انہی کے شہر میں برس ہا برس تک بس چلاتا رہا۔ وطن کو چھوڑ جانے والے ہمارے پاکستانی بھائیوں کی اولادیں بہت حد تک انگریزبن چکی ہیں۔ ہم شاہ رخ خان اور عامر خان کو مسلمان تسلیم کرتے ہیں جن کی بیویاں ہندو ہیں اور جن کی اولادوں کے بارے علم ہی نہیں کہ وہ کیا مذہب اختیار کریں گی اور یوں بھی اگر ہم سب شاہ رخ خان، عامر خان اور صادق خان کو مسلمان تسلیم کرنے سے انکار بھی کر دیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا کہ اس سے پہلے ہمارے بہت سارے فرقے اپنے سے اختلاف رکھنے والے تہجد گزاروں کو بھی کافر قرار دیتے ہیں مگر اسلام کے تمام دشمن انہیں مسلمان ہی سمجھتے اوراسی کے مطابق اپنی نفرت کا نشانہ بناتے ہیں۔ آپ جاننے او رماننے سے انکا ر کردیں مگر صادق خان کا مخالف زیک گولڈ سمتھ اچھی طرح جانتا او رمانتاہے کہ صاد ق خان کون ہے۔میں اگرلاہور میں بیٹھ کے صادق خان کے لندن میں انتخاب پر خوش اور مطیع الرحمان نظامی کی متوقع پھانسی پر دکھی ہوتا ہوں تو یہی نظریہ پاکستان ہے۔ کسی نے کہا، تمہارا یہ نظریہ پاکستان کیا پاکستان کی جغرافیائی حدوں کے اندر نہیں رہ سکتا، میں مسکرایا اور جواب دیا، نظریہ پاکستان تو اسلام ہے، یہ اپنی محبتوں اور نفرتوں میں جغرافیائی سرحدوں کا کب پابند ہے۔ بس ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے کچھ دوست اپنے منہ پر کالک مل کے گورے ہونا چاہتے ہیں حالانکہ اپنا چہرہ روشن کرنے کا اصل طریقہ کچھ اور ہے۔

مزید : کالم


loading...