جب تک بھارت کا ایک بھی سپاہی اس سرزمین پر موجود ہے جدوجہد ہر قیمت اور ہر صورت میں جاری وساری رہے گی ‘علی گیلانی

جب تک بھارت کا ایک بھی سپاہی اس سرزمین پر موجود ہے جدوجہد ہر قیمت اور ہر صورت ...

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ریاست کا مستقبل بھارت کے ساتھ نہ صرف یہ کہ غیر محفوظ ہے، بلکہ یہ ہر حیثیت سے ایک گھاٹے اور خسارے کا سوادا ہے۔ اگر محبوبہ مفتی ریاست کے مستقبل کو بھارت کے ساتھ محفوظ قرار دیتی ہے تو یہ ان کا ذہنی دیوالیہ پن ہے اور اس طرح کی خام خیالی کا کشمیر میں کوئی بھی خریدار نہیں ہے۔ کشمیری جبری قبضے کے خلاف 47سے برسرِ جدوجہد ہیں اور جب تک اس ملک کا ایک بھی سپاہی اس سرزمین پر موجود ہے ان کی یہ جدوجہد ہر قیمت پر اور ہر صورت میں جاری وساری رہے گی۔

ریاستی وزیراعلی محبوبہ مفتی کی طرف سے بھارت سے الحاق اور ریاست کا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ ہے کو ہمالیہ جتنا بڑا جھوٹ اور حقائق وشواہد کے بالکل برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محبوبہ مفتی کرسی پر بنے رہنے کیلئے اپنے دلی کے آقاو ں کی ہر ممکن طریقے سے خوشنودی حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے وہ حکومت میں اپنے زعفرانی ساجھے داروں سے بھی دو قدم آگے نکل رہی ہے۔ حریت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیری عوام نے محبوبہ مفتی کو الحاق یا ریاست کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کا کوئی منڈیٹ نہیں دیا ہے اور محترمہ اپنے قد اور حد سے بڑی باتیں کرکے اپنی پوزیشن کو مضحکہ خیز بنارہی ہیں۔ حریت ترجمان ایاز اکبر نے ایک بیان میں کہا کہ انڈین یونین کے ساتھ محض ایک فردِ واحد نے الحاق کیا ہے اور کشمیری عوام نے اس جبری الحاق کی کبھی بھی توثیق اور تائید نہیں کی ہے، بلکہ وہ پچھلی 7دہائیوں سے اس کے خلاف برسرِ جدوجہد ہیں، محبوبہ مفتی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے باپ کے الحاق کے بارے میں نظرئیے کا احترام کرے اور الحاق کو حتمی تسلیم کرے، البتہ اس کو یہ اختیار ہرگز بھی حاصل نہیں کہ وہ کشمیری عوام پر اپنے خیالات کو تھوپنے کی کوشش کرنے اور الحاق کے بارے میں ان کو بھی اپنے آپ پر قیاس کرے محبوبہ مفتی کوآر ایس ایس اور جن سنگھیوں کی چاکری کرنی ہے تو شوق سے کریں، لیکن کشمیری عوام کے جذبات اور قربانیوں کی توہین کرنے کا انہیں کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ حریت نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا یہ کہنا کہ ریاست کا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ ہے ان کی اپنے کو شاہ سے زیادہ وفادار ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے اور پچھلے 69سال کے دوران میں پیش آئے حالات وواقعات اس بیان کی تائید نہیں کرتے ہیں ۔بیان کے مطابق محبوبہ مفتی نے پاکستان میں جن پھانسیوں کا تذکرہ کیا ہے، ان میں کم از کم پہلے تو عدالتی کارروائی ہوتی ہے اور پھر عدلیہ کی طرف سے ہی ایسے فیصلے صادر ہوجاتے ہیں، جموں کشمیر میں البتہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا،ایک معمولی سپاہی کسی بھی وقت کسی بھی شہری کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے اور اس سے کسی قسم کی باز پرس ہوتی ہے اور نہ محبوبہ مفتی یا کوئی اور اس قاتل کا بال بھی بیکا کرسکتا ہے۔ بیان کے مطابق کنن پوشہ پورہ جیسے سینکڑوں واقعات میں فورسز کشمیری خواتین کی عزت تار تار کرتی رہی ہیں، البتہ آج تک کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ کسی واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ممکن ہوسکی ہے، محبوبہ مفتی کے ساتھ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں کہ ریاست کا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...