پاکستان ساؤتھ افریقہ ایسوسی ایشن کے قیام سے مافیا کلچر اور چودھراہٹ کا خاتمہ ہو گیا: سید احمد ولید بخاری

پاکستان ساؤتھ افریقہ ایسوسی ایشن کے قیام سے مافیا کلچر اور چودھراہٹ کا خاتمہ ...

جوہانسبرگ(ندیم شبیر سے)پاکستان ساؤتھ افریقہ ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس گزشتہ روز الخیر ریسٹورنٹ ڈربن میں ہوا جس میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اس موقع پر مرکزی صدر سید احمد ولید بخاری نے کہا کہ اب وقت ہے سب پاکستانی نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا اور ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے سبز ہلالی پرچم لہرانے کا ،انہوں نے کہا کہ ہم سب کے ایک ہونے سے مافیا کلچر اور چودھراہٹ کا خاتمہ ہو گا کچھ لوگ ہرکام میں سیاست چمکا رہے ہیں۔ اور عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمدردیاں سمٰٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ہم ایسے لوگوں کو بتا دیا چاہتے ہیں کہ یوتھ ایسے کلچر اور چودھراہٹ کی مخالفت کرتی ہے، جس میں اپنوں کو پروٹو کول اور عام لوگوں کے لئے قطاریں لگ جائیں ولید بخاری نے مزید کہا کہ آج بھی اسالم والے پاکستانیوں کے پاسپورٹ ویسے ہی بن رہے ہیں جیسے پہلے انکوائری کے ذریعے بنتے تھے۔ نیا کچھ بھی نہیں ہوا، یہ صرف پروٹوکول لینے کے لئے سب کچھ کیاگیا تھا اور ہماری عوام کو بے و قوف بنا یا گیا تھا۔میں ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسالم پر ساؤتھ افریقن گورنمنٹ نے ورک پرمٹ بھی بند کر دئیے ہیں ائیر پورٹ سے پاکستانیوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے کیا ان نام نہاد لیڈروں نے اس بارے میں بھی کوئی حل نکالا ہے۔ یا پھر اس پر بھی سیاست کر کے پاکستان ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا جائے گا،اس موقع پر ڈربن کے مشہور و معروف بزنس مین اورسماجی رہنما سجاد خان دھنوتڑ نے بھی نوجوانوں سے خطاب کیا اور یوتھ ایسوسی ایشن کے قیام اوران کے قیام اور ان نوجوانوں کے اس ا قدام پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے پورے ساؤتھ افریقہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں میں کچھ کرنے کا شعور لے کر ایک جگہ اکھٹے بٹھانے کی ٹھانی۔ میں آج بہت خوش ہوں کہ ہمارے نوجوانوں نے کچھ کرنے کا عزم کیا ہے سجاد خان دھنوتڑ نے سید احمد ولید بخاری،سعید میو،مرزا عمیر،فہیم منج اور دوسرے تمام مرکزی لیڈر جو کہ یوتھ ایسوسی ایشن کے لئے دن رات ایک کر کے تمام نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر نے کے لئے کوشاں ہیں میں ان تمام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اپنی طرف سے پورے تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔

مزید : عالمی منظر


loading...