پنجاب اسمبلی، سانحہ ایبٹ آباد کیخلاف مذمتی اور مفاد عامہ کی متعدد قراردادیں منظور

پنجاب اسمبلی، سانحہ ایبٹ آباد کیخلاف مذمتی اور مفاد عامہ کی متعدد قراردادیں ...

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی نے ایبٹ آباد میں جرگے کے فیصلے کی روشنی میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعے کیخلاف مذمتی قرارداد سمیت مفاد عامہ کی مختلف قراردادیں بھی متفقہ طو رپر منظور کر لیں، ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے اسمبلی رولنگ کے باوجود وقفہ سوالات کے دوران صوبائی سیکرٹری کی ایوان میں عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکرٹریز کو اسمبلی میں آنا اور جوابدہ ہونا پڑے گا انہوں ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کو خط لکھ کر صوبائی سیکرٹریز کے رویے سے آگاہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیکرٹریز کا یہی رویہ رہا تو پھر میں اس چیئر پر نہیں بیٹھوں گا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی حسب معمول اپنے مقررہ وقت صبح دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ اور 18منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر حمید ہ وحید الدین نے ترقی خواتین اورحاجی محمد الیاس انصاری نے سماجی بہبود و بیت المال سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے جبکہ پارلیمانی سیکرٹری ملک احمد کریم کسور لنگڑیا ل کی عمرہ کی ادائیگی کیلئے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے منصوبہ بندی و ترقیات کے تمام سوالات موخر کر دئیے گئے ۔اجلاس کے شروع میں تحریک انصاف کے رکن میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ایسے بھی سوالات ہیں جن کے تین سال بعد جوابات آرہے ہیں ایجنڈے میں کل آٹھ سوالات ہیں جن میں سے دو کے جوابات ہی موصول نہیں ہوئے اسمبلی کے بزنس کو مذاق بنا دیا گیا ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری حاجی الیاس انصاری نے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں صرف ایک دارالامان ہے اور آئندہ مالی سال میں ٹاؤن شپ کے علاقہ میں ایک اور دارالامان قائم کرنے کیلئے فنڈز مختص کئے جائینگے۔ فائزہ ملک کے ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ اٹھارویں ترامیم کے بعد صوبائی حکومت کو وفاق سے کوئی دارالامان نہیں ملا ۔صوبائی وزیر حمید ہ وحید الدین نے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ پنجاب کے اندر جتنے بھی حکومتی ادارے ہیں ان میں خواتین کیلئے الگ سے واش رومز قائم کرنے کے لئے فنڈز مختص کئے جارہے ہیں ڈے کیئر سنٹرز کے قیام کیلئے وزیر اعلیٰ نے 200ملین روپے سے فنڈ قائم کیا پنجاب میں اس وقت 54ڈے کیئر سینٹرز قائم ہیں اور ہم پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت اس کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں امجد علی جاوید نے اپناسوال پیش کرنے سے قبل ڈپٹی سپیکر کی توجہ گیلری کی طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ آپ کی رولنگ ہے کہ جس بھی محکمے کے سوالات ہوں گے اس کے سیکرٹری گیلری میں موجود ہوں گے لیکن آج بھی وہی صورتحال ہے نہ سیکرٹری اور نہ ہی محکمے کے ڈی جی موجود ہیں ڈپٹی سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری حاجی الیاس انصاری سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ حال آپ کے سامنے ہے صوبائی سیکرٹری کو ذمہ داری لینی چاہیے اور آپ نے اس حوالے سے رولنگ بھی دے رکھی ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ میرے پاس چٹ آئی ہے کہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں بتایا گیا حکمران جماعت کی رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ،طبیعت ٹھیک ہونے والی ہے اور ساروں کی ہونے والی ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ صوبائی سیکرٹریز اسمبلی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے انہوں نے اسمبلی سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کو لکھیں کہ سیکرٹریز نے اسمبلی کو مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے ۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ان کا رویہ یہاں ہی نہیں بلکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی اسی طرح ہے یہ صرف مراعات لیتے ہیں،دس دس ،بیس بیس کنال گھروں میں رہتے ہیں ، بجلی انہیں فری ملتی ہے ۔ اگر پارلیمانی سیکرٹری دو لیٹر زیادہ پیٹرول استعمال کر لے تو نیب او راینٹی کرپشن ان کے پیچھے چڑھ جاتی ہے لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ایک سیکرٹری کے گھر سے 75کروڑ روپے برآمد ہوئے ہیں یہ کرپٹ ہیں۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سیکرٹری صحت نہیں مل رہے ، عوام راجن پور سے چل کر آتے ہیں، لیہ میں تیس بندے مار دئیے گئے اور یہ دفتروں میں بیٹھنا پسند نہیں کرتے ، دو چار سیکرٹریز صاحبان کا رویہ ایسے ہی ہے سیکرٹریز ہمارے فون پر جواب نہیں دیتے تو غریبوں کا کیا حال ہوگا ۔میاں اسلم اقبال نے دوبارہ کہا کہ سیکرٹریز اس لئے ایوان کو کچھ نہیں سمجھتے کیوں کہ ان کی لائنیں کہیں اور ملی ہوئی ہیں ، آپ جو مرضی کر لیں چار سیکرٹریز نے نہیں آنا اور اس کی کوئی اور وجوہات ہیں جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سیکرٹریز کو اسمبلی آنا بھی پڑے گا اور جوابدہ بھی ہونا پڑے گا اگر سیکرٹریز کا رویہ یہی رہا تو میں اجلاس کو چیئر نہیں کروں گا جسکے بعد ڈپٹی سپیکر نے تمام سوالات موخر کرتے ہوئے وقفہ سوالات ختم کر دیا ۔ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کی بھرپور تحسین کی جبکہ کئی اراکین نے شیر ، شیر کے نعرے بھی لگائے ۔دریں اثناء پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے گزشتہ روز بھی باردانہ کی غیر منصفانہ تقسیم کی شکایات کرتے ہوئے احتجاج کیا اورپارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سردار شہاب الدین نے ٹوکن واک آؤٹ کیا تاہم ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت پر پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد انہیں منا کر ایوان میں واپس لے آئے ۔سردار شہاب الدین نے کہا کہ میں نے ایک روز قبل باردانہ کا ایشو اٹھایا اورآج میرا نام ہی اس فہرست سے نکال دیا گیا ۔ تحریک انصاف کے صدیق خان سمیت دیگر اراکین اسمبلی نے بھی باردانہ نہ ملنے کی شکایت کرتے ہوئے احتجاج کیا اور کہا کہ آڑھتی ایک بوری کا 200روپیہ دے کر سود ے کر رہے ہیں او رباردانہ اٹھا رہے ہیں جبکہ عام کسان لائنوں میں لگ کر دھکے کھانے پر مجبور ہے ۔ قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے کہا کہ سفارشی لوگوں کو باردانہ مل جاتاہے لیکن عام کسان کو لائنوں میں کھڑا رکھا جارہا ہے۔ مقامی آڑھتیوں نے سنٹرز کاکنٹرول سنبھال رکھا ہے اور کروڑوں روپے کما رہے ہیں اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بنا دیں جو اس حوالے سے شکایات بارے آگاہی کیلئے اخبارات میں اشتہا دے ۔ صوبائی وزیر چوہدری شیر علی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس پر آج بھی قائم ہوں کہ سنٹرز پر گرداوری فہرست کے مطابق باردانہ جاری کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی ترجیح پہلے چھوٹے کاشتکار سے گندم کی خریداری ہے ،میرے اور صدیق خان جیسے کاشتکار حکومت کی ترجیح نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کیلئے صوبائی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز کی اضلاع کی سطح پر ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں اگر کسی سنٹرز کے بارے میں شکایت ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ہدایت کہ دیکھا جائے کہ سردار شہاب الدین کا نام کیوں فہرست سے نکالا گیا ہے جبکہ انہوں نے اراکین کے اصرار پر کہا کہ اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔ اجلاس میں خاتون رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین کی تحریک استحقاق متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر کے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی گئی ۔ پارلیمانی سیکرٹریز کی ایوان میں عدم موجودگی کے باعث صرف ایک تحریک التوائے کا ر کا جواب دیا جا سکا جبکہ باقی تمام موخر کر دی گئیں جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ہم صوبائی سیکرٹریز کا کہتے ہیں پارلیمانی سیکرٹریز کا بھی یہی حال ہے ۔ انہوں نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے سٹاف کو ہدایت کی کہ وہ پارلیمانی سیکرٹری صحت خواجہ عمران نذیر کو لکھیں کہ ’’آکر شفقت کر دیں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کا نہ مشیر نہ سیکرٹری ملتا ہے اس محکمے کا کیا بنے گا ؟۔ انہوں نے اسمبلی سیکرٹریٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ تحریک التوائے کار میں محرک کے نام سے ساتھ متعلقہ وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری کا نام بھی تحریرکیا جائے ۔ایک تحریک التوائے کا ر کے جواب میں ایوان کوبتایا گیاکہ زیر زمین پانی کے وسائل وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو رہے ہیں اور اس کے عوامل میں دریائے راوی کا خشک ہونا بھی ہے اور یہ ری چارجنگ کا بڑا ذریعہ تھا،لاہور کے پانی میں آرسینک کی مقدار موجود ہے ،حکومت اس پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس کیلئے آر سینک کے خاتمے کیلئے200 فلٹریشن پلانٹس نصب کئے گئے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی نے غیر سرکاری ارکان کی کارروائی کے دوران تحریک انصاف کے رکن اسمبلی محمد شعیب صدیقی کی قرارداد ترمیم کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لی جس کے متن میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کا ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستا ن کی صنعتوں کو ترقی دینے کے لئے بیرون ممالک خصوصاً بھارت سے کپڑے ، زرعی آلات ، جیولری اور آٹو سپیئر پارٹس کی پاکستان میں غیر قانونی درآمد ( سمگلنگ) اور فروخت کو سختی سے روکنے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں۔ (ق) لیگ کے عامر سلطان چیمہ کی قرارداد میں کہا گیا کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ بھر میں تن سازی کے مقابلوں کی تیاری کے لئے ممنوعہ ادویات کے استعمال پر پابندی لگائی جائے اور سٹیرائیڈز ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرتے ہوئے سزا مقرر کی جائے اس قرارداد کو بھی متفقہ منطور کر لیا گیا۔ حکمران جماعت کی خاتون رکن اسمبلی شمیلہ اسلم کی قرارداد میں کہا گیا کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ پنجاب میں چائلڈ ایبوز کی روک تھام کیلئے چائلڈ پروٹیکشن کا ایک چیٹر نصاب کا حصہ بنایا جائے اس قرارداد کی بھی ایوان نے متفقہ منطور ی دیدی ۔اجلاس کے دوران حکمران جماعت کی خاتون رکن اسمبلی راحیلہ خاد م حسین نے ایبٹ آباد میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ پر آؤٹ آف ٹرن قرارداد پیش کرنے کیلئے قواعد کی معطلی کی تحریک پیش کی جسے منطور کر لیا گیا قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان ایبٹ آباد میں پیش آنے والے غیر انسانی ،غیر شرعی اور غیر اخلاقی واقعہ جس میں جرگہ نے 16سالہ لڑکی کو زندہ جلا کر مارنے کا حکم دیا جسکی تعمیل میں اسے وین میں بند کر کے تیل چھڑک کر آگ لگا د ی گئی جس سے وہ جل کر خاک ہو گئی صوبہ خیبر پختوانخواہ جو کہ نام نہاد انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا علمبردار بنا ہواہے میں ہونے والے اس المناک واقعہ نے پوری دنیا میں نسل انسانی کو ہلا کر رکھ دیا ہے انصاف کا بار بار چرچہ کربے والوں پر یہ نا انصافی اور انسانیت سوز اور عورت دشمن واقعہ نے خیبرپختوانخواہ کے موجودہ نظام کو وہ آئینہ دکھایا ہے جسے دیکھ کر عالمی انسانیت شرما رہی ہے یہ ایوان اس واقعہ کی پرزور مذمت کرتا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان نام نہاد جرگوں کے کئے ہوئے فیصلوں کے خلا ف ایکشن لے اور ایسے واقعات کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ لوگوں کا خیبر پختوانخواہ حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہولناک واقعہ ہے ۔ تحریک انصاف کے صدیق خان اور میاں اسلم اقبال نے قرارداد کے متن کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں لیکن عوام کا حکومت سے اعتماد ختم ہونے کا الفاظ درست نہیں ان میں ترمیم کی جائے پنجاب میں روزانہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ میں ایوان سے پوچھ لیتا ہوں جس پر ایوان میں سے کسی نے بھی قرارداد کی مخالفت نہ کی جس پر قرارداد کی متفقہ منظوری دیدی گئی ۔ مسلم لیگ (ق) کی خدیجہ عمر فاروقی ،شیخ علاؤ الدین ،حنا پرویز بٹ اور احمد خان بھچر کی قراردادیں موخر کر دی گئیں۔ جس کے بعد اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...