ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے کڑااحتساب ضروری ہے،جلال محمود شاہ

ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے کڑااحتساب ضروری ہے،جلال محمود شاہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ نے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے سخت ترین احتساب اور کرپشن میں ملوث تمام شخصیات کو بلا امتیاز انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ منگل کو حیدر منزل کراچی میں سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کی سینٹرل ایگزکٹو کمیٹی کا اجلاس کے بعد پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک طرف تو پاناما لیکس کے مسئلے پر مسلم لیگ (ن) پر الزام تراشی کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی سیاسی سودے بازی کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت میں پی پی اور مسلم لیگ کرپشن کے معاملے پر ایک دوسرے کا عملی طور پر دفاع کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود کرپشن کا سیلاب سیاسی اخلاقیات کو بہا کر لے گیا ہے۔مسلم لیگ کی حکومتیں اوپر کی سطح پر کرپشن کرتی رہی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نیچے سے اوپر تک کرپشن کر کے بدنام ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین پر 662 ارب کی کرپشن کا الزام ہے۔ حقیقت میں کرپشن تو لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتی ہے، جبکہ 662 ارب کی کرپشن تو کچھ ممالک اور صوبوں کی بجٹ کے برابر ہے۔ بلوچستان میں سابقہ فنانس سیکریٹری مشتاق رئیسانی کی گرفتاری اور 60 کروڑ سے زیادہ دولت برآمد ہونا خوش آئند قدم ہے۔ اگر سندھ میں بھی کرپٹ سیاستدان اور افسروں کے گھروں کی تلاشی لی جائے تو شاید اس سے بھی زیادہ دولت مل سکتی ہے۔سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ مسلم لیگ اورپیپلز پارٹی کنٹرولڈ جمہوریت کی پیداوار ہیں اور کرپشن کی وجہ سے طاقتور بنی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے اکثر رہنما کرپشن کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان دونوں جماعتوں کی قیادت سے ایسی کوئی بھی امید نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ ملک کو کرپشن کے کلچر سے نجات دلا سکیں گی۔ پاکستان تحریک انصاف سے متعلق سید جلال محمود شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان جو ایشوز کی سیاست میں سب سے آگے ہیں،وہ کسی مناسب منصوبہ بندی کے بغیرا تحریک شروع کر دیتے ہیں جو ہمیشہ مقاصد اور نتائج حاصل کئے بغیر ختم ہوجاتی ہے۔افسوس کہ وہ آج بھی کرپشن کے خلاف ملکی سطح پر جوتحریک چلارہے ہیں وہ بھی ناکامی کی سمت جا رہی رہی کیوں کہ ان کے پاس کوئی سیاسی وژن نہیں ہے۔سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سندھ کو ایک طاقتور قومی جمہوری پارٹی کی ضرورت ہے جو سندھ کے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے، جس کے لیئے یکم جولائی سے پورے صوبے میں عوامی سطح پر میمبرشپ مہم شروع کی جائے گی دسمبر تک سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کی وارڈ سے مرکز ی سطح تک انتخابات کرائے جائیں گے اور ایس یو پی میں جمہوری کلچر کی مضبوط بنیادیں ڈالی جائیں گی انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں موجود تمام قو م پرست، جمہوریت پسند اور لبرل سوچ رکھنے والے رہنما اور کارکنان کو منظم کر کے سیاسی متبادل کے طور پر پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پیر پگارا کی قیادت میں تشکیل پانے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے اس لئے فی الوقت الگ تھلگ ہے کیونکہ ہمارے بعض تحفطات ہیں اگر وہ دور کردئے جائیں تو ہم اس الائنس کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد ہمارا ملک کرپشن کے ڈھیر پرکھڑا ہے۔ پچھلے کئی دہائیوں سے جاگیردار، سول ملٹری اسٹیبلشمینٹ کے بڑے افسر سرمایہ دار اور کرپٹ سیاستدانوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حقیقی محب وطن اور ایماندار سیاستدانوں خان غفار خان اور سائیں جی ایم سید سمیت دوسرے رہناؤں کو دیوار سے لگا کر کنٹرولڈ جمہوریت کے ذریعے جن سیاستدانوں کوآگے لایا گیا، جنہوں نے دنیا کے اندر ملک کی شناخت کرپشن بنالی ہے۔ خصوصاً70 کی دہائی کے بعد کرپشن کے کلچر کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کا ہر فرد ایک لاکھ 20 ہزار کامقروض ہے۔ تھر میں غذا اور ادویات نہ ملنے کی وجہ سے معصوم بچے مر رہے ہیں۔ سندھ میں پچاس فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ عام آدمی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ شہروں میں ترقی نہیں ہے۔ دوسری جانب ملک کی اشرافیہ لوٹ مار میں مصروف ہے اور کھربوں روپے ملک سے باہر آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپا کے رکھے ہوئے ہیں۔ جلال محمود شاہ نے کہا کہ ملک کی ایماندار سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں موجود بحران کا حل یہ ہے کے سخت سے سخت احتساب کے عمل کو فوری طور پر شروع کیا جائے۔تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے آپ سے احتساب شروع کرنے کے لئے دعوت دینی چاہئے اور تمام شخصیات جو کرپشن کا حصہ رہی ہیں ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے بغیر ملک کرپشن کی منطقی انجام کی طرف پیش قدمی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کی توسط سے میں خود کو احتساب کے لئے پیش کرتا ہوں۔

مزید : کراچی صفحہ آخر


loading...