طالبان امریکی حملے کے بعد پکتیکا سے بھاگے تو علی حیدر کو ساتھ نہ لے جا سکے

طالبان امریکی حملے کے بعد پکتیکا سے بھاگے تو علی حیدر کو ساتھ نہ لے جا سکے

ملتان (تجزیہ: شوکت اشفاق) تین سال تک مغوی رہنے والے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سید علی حیدر گیلانی آخر کار نارتھ وزیرستان کے قریب ترین افغانی علاقے پکتیا سے بازیاب ہوگئے ہیں۔ انہیں 9 مئی 2013 کے عام انتخابات کے دوران مسلح افراد نے اس وقت ملتان سے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنے سکیورٹی گارڈ اور ایک سیکرٹری کے ہمراہ انتخابی مہم کے سلسلہ میں کارنر میٹنگ کیلئے گئے ہوئے تھے۔ اس وقت یہ ایک بڑا واقعہ تھا جس پر نہ صرف ملتان بلکہ پورے ملک کی انتظامیہ کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور اس حوالے سے کوئی مصدقہ خبر نہیں مل سکی تھی کہ علی حیدر گیلانی کو کن وجوہات کی بنا پر اغوا کیا گیا تھا۔ تاہم ان کے والد اور بھائیوں کی طرف سے اسے سیاسی ہی بنایا گیا کیونکہ اور کوئی وجہ معلوم نہیں ہوپائی تھی۔ البتہ اس حوالے سے افواہوں کا بازار کراچی سے خیبر تک گرم رہا۔ جس میں ایک بڑی افواہی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ اغوا ’’لین دین‘‘ کے سلسلہ میں ہوا ہے پھر یہ بھی افواہ سامنے آئی کہ اغوا کاروں نے اپنے ’’مطالبہ‘‘ کی منظوری نہ ہونے پر انہیں یعنی علی حیدر گیلانی کو افغانستان کے طالبان کے حوالے کر دیا ہے تاہم آج وہ افغانستان کے اس علاقے سے بازیاب ہوئے ہیں جو نارتھ وزیرستان کے قریب ترین علاقے ہے۔ یعنی کجھوری چیک پوسٹ سے فاٹا جاتے ہوئے میر علی اور میرن شاہ جوافغانی بارڈر کے قریب ہیں یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پکتیا ہے جو غرنی کے ساتھ ملتان ہے۔ علی حیدر کو جب ملتان سے اغوا کیا گیا تو یقیناً انہیں ملتان سے ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور نارتھ وزیرستان کے راستے فاٹا تک لے جایا گیا ہوگا۔ جو ایک تاریخی روٹ ہے کیونکہ افغانستان سے ماضی میں اس راستے سے حملہ آوور بھی آتے رہے اور کاروباری طور پر بھی سفر کرتے رہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تاریخی راستہ آج بھی ہمہ قسم کے کاموں کیلئے ’’کھلا‘‘ ہوا ہے اور آج بھی ملک بھر میں غیر ملکی پراڈکٹس خصوصاً نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، انجن، جنریٹر اور ہیوی کنسٹرکشن مشینری اسی راستے میں سمگل ہو رہی ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ افواہی خبروں کے باوجود سید علی حیدر گیلانی یکا یک کیسے بازیاب ہوگے۔ جس کیلئے افغانی حکام کہہ رہے ہیں کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں اہم ٹارگٹ موجود ہے۔ جس پر انہوں نے امریکن آرمی کے ساتھ مل کر آپریشن کیا لیکن دوسری طرف امریکن آرمی کے مطابق انہوں نے گرؤانڈ انفارمیشن پر آپریشن ضرور کیا۔ انہیں اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں تھی یہ بات کسی حد تک درست بھی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ابھی کچھ دن پہلے طالبان کابل میں امریکن ہیڈ کوارٹرز کے باہر ایک خود کش دھماکہ کیا تھا۔ جس امریکن سمیت افغانیوں کی ایک بڑی تعداد جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ جس کے جواب اور ردعمل میں امریکن فورسز نے افغان فورسز کے ساتھ مل کر کئی دنوں سے طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں آپریشن کررہے تھے اور پکتیا میں آپریشن بھی اسی سلسلہ میں کی کڑی تھا جس میں طالبان کی ایک بڑی تعداد مقابلہ کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اور باقی ماندہ وہاں سے بھاگ نکلے البتہ اپنے’’مغوی‘‘کوساتھ لے جانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور یوں وہ تین سال بعد بازیاب ہوگئے حالانکہ گزشتہ عید کے موقع پر سید یوسف رضا گیلانی کو اپنے مغوی بیٹے کے بارے میں اطلاع ملی تھی اور اغوا کاروں نے ان کے بیٹے سے بات چیت بھی کرائی تھی لیکن اطلاع یہ تھی کہ فون کرنے والوں نے سابق وزیراعظم کے آگے کچھ مطالبات رکھے تھے۔جس میں ایک بھاری رقم کے ساتھ ساتھ پاکستان سکیورٹی فورسز کے پاس کچھ طالبان ساتھیوں کی لسٹیں بھی تھیں جس میں خواتین اور بچوں کا ذکر بھی تھا اس ٹیلی فون گفتگو کے بعد سابق وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل راحیل شیرف اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی پھر وہ وزیراعظم، سے بھی ملے تھے جبکہ ان کے بعد وہ اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق سے ملنے بھی گئے تھے۔یہ ایک لمبی تفصیل ہے ۔مختصر یہ کہ سید یوسف رضا گیلانی کوکوئی مثبت اشارہ نہ مل سکا کیونکہ اغوا کاروں کے مطالبات کو کم از کم پاکستانی سکیورٹی فورسز ماننے کو تیار نہیں تھیں اس دوران وہ حامد کرزائی سے ملنے کابل بھی گئے لیکن مختصراً یہ کہ وہ ایک سال تک اپنے بیٹے رہائی کیلئے بیک ڈور کوششوں کے باوجود کوئی مثبت کامیابی حاصل نہ کرسکے ہاں البتہ حامد کرزئی اور مولانا سمیع الحق کی مداخلت سے حالات کچھ مائلڈ ہوئے لیکن کامیابی نہ مل سکی تاہم اب وہ بازیاب ہوچکے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی اور ان کی بیگم سمیت ان کا پورا خاندان بہت خوش ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ پاکستان پہنچنے کے بعد کیا بیان جاری کرتے ہیں یا پھر سلمان تاثیر کے بیٹے کی طرح’’دڑوٹ‘‘جاتے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ اول


loading...