قومی اسمبلی، متحدہ اپوزیشن کا پانامہ لیکس کے معاملے پر دوسرے روز بھی واک آؤٹ

قومی اسمبلی، متحدہ اپوزیشن کا پانامہ لیکس کے معاملے پر دوسرے روز بھی واک آؤٹ

اسلام آباد (آن لائن) متحدہ اپوزیشن کا پانامہ لیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی اجلاس سے دوسرے روز بھی واک آؤٹ ۔ جب تک وزیر اعظم اجلاس میں آکر وضاحت نہیں دیتے واک آؤٹ جاری رہے گا مسلم لیگ ق ، پی ٹی آئی ، پی پی پی ، جماعت اسلامی ، اے این پی ، ایم کیو ایم ، عوامی مسلم لیگ نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹمیں آ کر پانامہ لیکس کے معاملے پر قوم کو اعتماد میں لیں چونکہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے حوالے سے ہمارا ملک دنیا میں تیسرے چوتھے نمبر پر آتا ہے وزیر اعظم پر الزامات کے بعد سونے پر سہاگہ ہو گیا ہے اپوزیشن جمہوریت اور حکومت کے خلاف نہیں بلکہ وزیر اعظم سے پانامہ لیکس کی وضاحت چاہتی ہے ۔ نواز شریف 1985 سے اب تک اپنے اثاثے ظاہر کریں گو نواز گو نہیں بلکہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں انہو ں نے کہا کہ پہلے ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اس پر اپوزیشن اب بھی قائم ہے لیکن پارلیمنٹ کا ایک اپنا ہی رول ہوتا ہے وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ میں آئیں اور پانامہ لیکس پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں لیں ۔ وزیر اعظم کی آسانی کے لئے ہم آج پارلیمنٹ میں سوالات کو لکھ دیں گے وزیر اعظم دوسرے روز آ کر اس کا جواب دے دیں ۔

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قرآن مجید کی طباعت میں معیاری کاغذ کے استعمال کو یقینی بنایا جائے ۔ یہ قرارداد ایم این اے نعیمہ کشور نے پیش کی تھی جس کی کسی رکن نے مخالفت نہیں کی نعیمہ کشور نے قرارداد کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی طباعت میں غیر معیاری کاغذ استعمال کیا جارہا ہے جس سے کنارہ کشی کرنا ہوگی وزیر مذہبی امور پیر حسنات نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ حکومت خود بھی اس مقصد کیلئے قانونی بل ایوان میں جلد لائے گی اس بل پر کام جاری ہے حکومت مذہبی کتابوں کی طباعت اور اشاعت میں معیاری کاغذ کے استعمال کو ہر حال میں یقینی بنائے گی سپیکر سردار ایاز صادق نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی بلکہ قرارداد کے حق میں بلند آواز سے حمایت کی قرارداد کی منظوری کے وقت ایوان میں اپوزیشن موجود نہیں تھی آخر میں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

قرارداد

مزید : ملتان صفحہ اول


loading...