افغان خاتون سے قبرستان میں زیادتی کی کوشش کرنے والا ایس ایچ او معطل

افغان خاتون سے قبرستان میں زیادتی کی کوشش کرنے والا ایس ایچ او معطل
افغان خاتون سے قبرستان میں زیادتی کی کوشش کرنے والا ایس ایچ او معطل

  


پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان درانی نے افغان خاتون کو جنسی طورپر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر ایک پولیس افسر کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔

آئی جی آفس سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع کوہاٹ کے گھمکول مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر ایک افغان شہری نے آئی جی پی کو درخواست دی تھی جس میں شکایت کی گئی تھی کہ ایس ایچ او پولیس سٹیشن جنگل خیل انسپکٹر غلام مرتضیٰ نے اس کی بہن کو حبس بے جا میں رکھ کراسے ہراساں کیا ہے۔

بی بی سی پر شائع بیان کے مطابق افغان شہری کی ان شکایات کی حقیقت جاننے کیلئے تین مختلف ایجنسیوں بشمول متعلقہ ضلعی پولیس آفیسرکے ذریعے فوری طورپر انکوائری کرائی گئی جس میں یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ انسپکٹر غلام مرتضیٰ نے مذکورہ افغان خاتون کو غیر قانونی طور پرایک لڑکے کے ساتھ حبس بے جا میں رکھا اور بعدازاں اسے ایک قبرستان میں لے جایا گیا جہاںان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ۔

پولیس سربراہ نے مذکورہ تینوں ایجنسیوں اور متعلقہ ضلعی پولیس آفیسر کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او پولیس سٹیشن جنگل خیل انسپکٹر غلام مرتضیٰ کو فوری طور پر ملازمت سے برخاست کردیا۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ تین سالوں کے دوران محکمہ پولیس میں بدعنوان افسران اور اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں اہلکاروں کو معطل یا نوکریوں سے برخاست کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے محکمہ پولیس کو بدعنوان اہلکاروں سے صاف کرنے کے لیے کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کے خلاف شکایت کی صورت میں آئی جی خود تمام تحقیقاتی عمل کی نگرانی کرتے ہیں اور الزامات ثابت ہونے پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جاتی بلکہ سخت قانونی کاروائی کی جاتی ہے۔

مزید : پشاور


loading...