زمین جیسے 550سیارے دریافت،9پر زندگی کا امکان

زمین جیسے 550سیارے دریافت،9پر زندگی کا امکان
زمین جیسے 550سیارے دریافت،9پر زندگی کا امکان

  


واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)خلائی تحقیق میں ایک ہزار سے زیادہ نئے سیاروں کی دریافت ہوئی ہے جن میں سے 550حجم کے لحاظ سے زمین کی طرح کے اور پتھریلے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے نظام شمسی سے باہر ستاروں کے گرد گھومتے لگ بھگ 1300 سیارے دریافت کیے ہیں جن میں سے نو ایسے ہیں جو اپنے ستاروں سے اتنے مناسب فاصلے پر ہیں کہ ان پر زندہ رہنے کا امکان ہے۔

ناسا نے کیپلر خلائی دور بین سے خلا میں 1,284 سیاروں کی موجودگی کی تصدیق کی۔وائس آف امریکہ کے مطابق ناسا کے ایسٹروفزکس کے ڈائریکٹر پال ہرٹز نے کہا کہ دوسرے سیاروں پر زندگی کا کھوج لگانے کیلئے تحقیق بہت ضروری ہے۔

”اس سے ہمیں امید ملتی ہے کہ کہیں دور ہمارے سورج جیسے کسی ستارے کے گرد ہم بالآخر ایک اور زمین دریافت کر لیں گے۔“کیلیفورنیا میں ناسا کے ایمز ریسرچ سنٹر میں کیپلر مشن کی سائنسدان نیٹلی بٹلا نے کہا کہ ”دریافت کے اس عمل میں حصہ لینا ہم سب کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔“

ہمارے اپنے سیارے سے دور کسی چیز کو دیکھنا انسانوں کو زمین پر اپنی زندگی کی قدر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں میں دوسرے افراد کے لیے زیادہ ہمدردی بھی پیدا کرتا ہے۔

نیٹلی نے کہا کہ چاند سے لی گئی زمین کی پہلی تصویر سے لوگ قومی سرحدوں سے آگے اور کرہ ارض اور اس کی آبادی کو ایک ہی دھرتی کے طور پر دیکھنے کے قابل ہوئے تھے۔

انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین نے اگست 2006 میں سیارے

کی پہلی سائنسی تعریف کی منظوری دی تھی جس کے مطابق سیارہ کہلانے کے لیے تین خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔

ایک یہ کہ وہ کسی ستارے کے گرد گردش کر رہا ہو۔ دوسرا وہ اتنا بڑا ہو کہ کشش ثقل سے اس کی شکل گیند جیسی ہو جائے اور تیسرا اس کی کشش ثقل میں اتنی طاقت ہو کہ وہ اپنے مدار میں موجود دیگر اشیا کو صاف کر دے۔

دریافت کیے گئے ممکنہ سیاروں میں سے لگ بھگ 550 حجم کے لحاظ سے زمین کی طرح کے ہیں اور پتھریلے ہیں۔

زمین جیسے ان سیاروں میں سے نو اپنے ستاروں کے گرد اتنے فاصلے پر گردش کر رہے ہیں جس سے ان پر مائع پانی جمع ہو سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں ایسے حالات ہیں جن میں ایسی زندگی ہونا ممکن ہے جو زمین پر پائی جاتی ہے۔

نیٹلی بٹلا کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ انسانوں کے لیے نئے گھر کی بجائے صرف زندگی کے آثار تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق کیپلر کی مشن سائنٹسٹ ڈاکٹر نیٹلی بٹلا کہتی ہیں کہ حساب کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کہکشاں میں دس ارب کے قریب سیارے قابلِ رہائش مداروں میں گردش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا: ’تقریباً 24 فیصد ستاروں ممکنہ طور پر قابلِ رہائش سیاروں کے حامل ہیں، اور جو زمین کی جسامت سے 1.6 گنا سے چھوٹے ہیں۔ ہمیں یہ تعداد پسند ہے کیوں کہ اس جسامت سے کم کے سیارے ممکنہ طور پر چٹانی ہوتے ہیں۔’اگر آپ پوچھیں کہ اگلا قابلِ رہائش سیارہ کون سا ہو گا، تو وہ ہم سے تقریباً 11 نوری سال کے فاصلے پر ہو گا، جو بہت قریب ہے۔‘

مزید : خصوصی رپورٹ


loading...