خواتین میں شدت پسندی کے رجحان میں اضافہ،عالمی دہشتگردی میں عورتوں کی تعداد بڑھ گئی

خواتین میں شدت پسندی کے رجحان میں اضافہ،عالمی دہشتگردی میں عورتوں کی تعداد ...
خواتین میں شدت پسندی کے رجحان میں اضافہ،عالمی دہشتگردی میں عورتوں کی تعداد بڑھ گئی

  


واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)ماہرین کے مطابق پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ عورتیں دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں میں شامل ہو رہی ہیں اور اس میں سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطے کی ویب سائٹیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے ماہرین متشدد انتہا پسندی میں عورتوں کی شمولیت کو زبردستی کا نتیجہ قراردیتے ہیں ۔اس حوالے سے واشنگٹن میں ہونے والے ایک فورم کے شرکانے اس کی زیادہ تفصیلی وضاحت کی۔

یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی رکن رابعہ چوہدری کا کہنا ہے کہ بہت سی عورتیں شناخت اور تعلق کے احساس کی تلاش میں شدت پسند گروہوں میں شمولیت اختیار کرتی ہیں۔

انہوں نے ’انسٹیٹیوٹ کے کنفلیکٹ پریوینشن اینڈ ریزولوشن فورم‘ میں کہا کہ ”وہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ شدت پسندی کے اس مقصدکیلئے اتنی ہی پرخلوص ہیں جتنا کہ مرد۔“

رابعہ کا خاندان پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ میں غیر مغربی خاندانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین کو شناخت کے بحران کا سامنا ہے۔

اس کے باعث وہ سماجی رابطے پر دہشت گردوں کے پیغامات اور تصاویر کا آسانی سے شکار ہو جاتی ہیں اگرچہ یہ پیغامات امریکہ سے باہر سے آتے ہیں۔ ”وہ امریکہ مخالف نہیں ہوتیں، مگر وہ خود کو امریکی محسوس نہیں کرتیں۔“

تنظیم سرچ فار کامن گراو¿نڈ نامی تنظیم کے ایشیا کے ڈائریکٹر مائیکل شپلر نے کہا سماجی رابطے پر چلائی گئی مہمات عورتوں کو شدت پسند تنظیموں میں بھرتی کرنے کیلئے خاص طور پر موثر ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا القاعدہ کیلئے بنیادی سہولت کار ثابت ہوا اور داعش نے القاعدہ کی طرف سے چلائی گئی انتہائی کامیاب سوشل میڈیا مہمات سے فائدہ اٹھایا۔

یو ایس آرمی وار کالج کی کیتھلین ٹرنر کے مطابق اگرچہ عورتیں پرتشدد اقدامات میں زیادہ حصہ لے رہی ہیں مگر شدت پسند گروہوں میں ان کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عورتوں نے پیرو اور کولمبیا کے باغی اور انقلابی گروہوں اور حالیہ مہینوں میں داعش اور بوکوحرام میں نمایاں کردار ادا کیا۔شپلی کا کہنا ہے کہ سرکاری سوشل میڈیا اور دیگر عوامی آگاہی کی مہموں نے شدت پسندی کا مقابلہ کرنے میں قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔

کیتھلین ٹرنر نے کہا کہ امریکی حکومت کو چاہیئے کہ وہ پہلے عورتوں کے دہشت گرد گروہوں میں کردار کو پہچانے۔ ان کے مطابق عورتوں کو خطرے کے طور پر نہ دیکھنا باعث تشویش ہے اور دہشت گرد گروہ عورتوں کو جنگجوو¿ں اور خود کش بمباروں کے طور پر استعمال کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔

ٹرنر نے سفارش کی کہ امریکہ کو عورتوں کی دہشت گرد کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اپنانی پڑے گی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...