دہشت گردی کے خطرات،جرمنی نے 25سال بعد فوج میں اضافہ کا اعلان کردیا

دہشت گردی کے خطرات،جرمنی نے 25سال بعد فوج میں اضافہ کا اعلان کردیا
دہشت گردی کے خطرات،جرمنی نے 25سال بعد فوج میں اضافہ کا اعلان کردیا

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے دنیا کے کئی ممالک کو دفاعی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔جرمنی بھی ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردی کے تناظر میں اپنی دفاعی پوزیشن پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوا ہے ۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جرمنی نے اپنی فوج کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا تھا اور اس میںمسلسل کمی کی جاتی رہی ہے۔ تاہم امن وامان کی عالمی صورتحال کے پیش نظر جرمن وزارت دفاع نے فوج میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق 25 سال بعد برلن حکومت ملکی فوج کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے۔ جرمن وزارت دفاع کے مطابق ابتدائی طور پر سات ہزار نئے اہلکار فوج کا حصہ بنیں گے۔ اس کے بعد 2023ءتک فوج میں مزید تقریباً ساڑھے 14 ہزار افراد شامل کیے جائیں گے۔ وزیر دفاع ارزولا فان ڈیئر لائن کے مطابق، ”گزشتہ مہینوں کے دوران جرمن فوج پر ماضی کے مقابلے میں کافی حد تک بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔“ اس بوجھ سے ان کی مراد دیگر ممالک میں جرمن فوج کی تعیناتی ہے۔

جرمنی کے 250 فوجی اقوام متحدہ کے 6 امن مشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں لبنان کے ساحلوں کی حفاظت اور مالی میں استحکام لانے کے مشنز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جرمن فوج کے تقریباً ساڑھے چار ہزار اہلکار مختلف ممالک میں جاری نٹیو مشنز کا حصہ ہیں۔

فان ڈیئر لائن نے مزید کہا کہ فوج کے دیگر شعبوں میں بھی عملے کی کمی ہے،”اگلے سات برسوں کے دوران ملکی فوج کے دیگر شعبوں میں عام شہریوں کیلئے تقریباً ساڑھے چار ہزارآسامیاں بھی پیدا کی جائیں گے۔“ فان ڈیئر لائن کا ایک ہدف ملکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ہے۔ ان کی حکمت عملی کی بنیاد فوجی اخراجات میں اضافہ، عسکری آلات کو جدید بنانا اور ایک لچک دار پالیسی اختیار کرنا ہے۔

جرمن وزارت دفاع کے مطابق یہ فیصلہ پتھر پر لکیر نہیں ہے اور اگلے برسوں کے دوران ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے اس تعداد میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔ جرمن فوج میں اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ77 ہزار ہے اور اس طرح وزارت دفاع اپنی حدود کو پہنچ چکی ہے۔ جرمن فوج میں ماہرین کی کمی کوئی نیا موضوع نہیں ہے اس پر اس سے قبل بھی کئی مرتبہ بحث کی جا چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جرمن فوج میں سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تجربہ کار افراد، ڈاکٹروں، نرسوں اور فضائی نگرانی کے شعبے کے ماہرین کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ فوج کو اور بھی کئی شعبوں میں افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔

سرد جنگ کے دور میں جرمن فوج کا عملہ تقریباً پونے چھ لاکھ تھا تاہم 1990ءمیں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے بعد سے اس میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور آج کل یہ تعداد ایک لاکھ ستتر ہزار کے قریب ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...