پشاور کے مختلف علاقوں میں تین لڑکوں سے جنسی بدفعلی

پشاور کے مختلف علاقوں میں تین لڑکوں سے جنسی بدفعلی
پشاور کے مختلف علاقوں میں تین لڑکوں سے جنسی بدفعلی

  



پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور اور شبقدر میں الگ الگ واقعات میں تین لڑکوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنادیاگیا۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق پہلے واقعے میں ایک 12سالہ بچے کو یکہ توت تھانے کی حدود میںواقع جبہ سہیل کے علاقے میں پیر کی رات کو جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالاگیاجس کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔ ایف آئی آر کے مطابق عجب نور 12سالہ بچے کو اپنے گھر لے گیاجہاں اس کے دوست نے جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا۔ یکہ توت تھانے کے ایس ایچ او سبزعلی شاہ کے مطابق عجب نور کا نام مقدمے میں شامل ہے اور اسے گرفتارکرلیاگیا۔ متاثرہ فیملی نے الزام لگایاہے کہ پولیس نے ملزم کو فائدہ پہنچانے کے لیے اندراج مقدمہ میں تاخیر کی ۔

اسی طرح چارسدہ میں ایک 10سالہ طالبعلم جنسی درندگی کا نشانہ بن گیا۔ پولیس اہلکار عمران محمد نے بتایاکہ عبداللہ خان نے کوثرآباد کے علاقے میں لڑکے سے بدفعلی کی ، لڑکا کھیلوں کا سامان بیچنے والی دکان سے گیند خریدنے گیاتھاجہاں اس کیساتھ بدفعلی کی گئی ۔

پہاڑی پورہ تھانے کی حدودمیں بھی ایک 9سالہ لڑکے کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایاگیا، پکہ غلام گاﺅں کے ایک رہائشی نے پولیس کو بتایاکہ اس کا بیٹا سلائی کڑھائی کی دکان پر کام کرتاتھا اورساتھ کام کرنیوالے صدام نے جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا۔فقیرآباد کے اے ایس پی وسیم ریاض نے بتایاکہ ملزم کے گھر پر چھاپہ مارکارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیاگیا۔

مزید : پشاور


loading...