مطیع الرحمن نظامی شہید کی پھانسی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ، مطیع الرحمان کو پھانسی بھارت کے دباؤ پر دی گئی،پاکستانی حکمرانوں نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی :سینیٹر سراج الحق

مطیع الرحمن نظامی شہید کی پھانسی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ، مطیع الرحمان کو ...
مطیع الرحمن نظامی شہید کی پھانسی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ، مطیع الرحمان کو پھانسی بھارت کے دباؤ پر دی گئی،پاکستانی حکمرانوں نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی :سینیٹر سراج الحق

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کئے گئے اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئیں۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ مطیع الرحمان کو بھارت کے دباؤ پرپھانسی دی گئی، حکمران اس سنگین معاملے پر اپنی خاموشی توڑے۔

نجی ٹی وی ’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق لاہور میں مطیع الرحمان نظامی کی غائبانہ نماز جنازہ مسجد شہداء کے سامنے مال روڈ پر ادا کی گئی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں مختلف مذہبی جماعتوں و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عام شہریوں نے بڑی تعدا د میں شرکت کی۔اس موقع پر سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مطیع الرحمان کو پھانسی بھارت کے دباؤ پر دی گئی لیکن حکمران خاموش ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستانی حکمرانوں نے مولانا مطیع الرحمن نظامی کو بچانے کے لیے آخری لمحہ تک کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، میں نے وزیراعظم ، وزیر داخلہ سمیت حکومتی زعما اور وزراء سے بار ہار ملاقاتیں کیں اور درخواست کی کہ حسینہ واجد بھارتی دباؤ پر ہمارے قائدین کو پھانسیوں پر لٹکا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا صرف ایک ہی جرم ہے کہ انہوں نے پاکستان کو بچانے کی کوشش کی لیکن حکومت پاکستان ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ میں نے ایران ، سعودی عرب ، یمن اور جرمنی سمیت مسلم و غیرمسلم ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کر کے انہیں اس ظلم کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز بلند کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان آگے بڑھے اور مسئلے کو عالمی فورم پر اٹھائے تو ہم ہر جگہ ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں مگر پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی نے مطیع الرحمن نظامی اور ان سے قبل پاکستان کی محبت کے جرم میں پھانسیوں پر لٹکائے جانے والوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف مودی کی ایما پر حسینہ واجد ہمارے بزرگوں کو پھانسیاں دے رہی ہے اور دوسری طرف نوازشریف مودی کو لاہور میں ویلکم کرتے اور تحائف دیتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مولانا مطیع الرحمن نظامی کی شہادت کے بعد قومی اسمبلی سے مذمت کی قرار داد پاس کی گئی مگر اس قرار اداد سے عالمی ادارہ انصاف اور بین الاقوامی عدالت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ اگر حکمران مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی سے قبل کوئی تگ و دو کرتے تو آج پوری قوم حکمرانوں کی بے حسی پر سراپاا حتجاج نہ ہوتی۔

جماعت اسلامی کے زیراہتمام نمائش چورنگی کراچی میں مطیع الرحمان نظامی کی غائبانہ نما ز جنازہ بھی ادا کی گئی اور ڈھاکا حکومت کے غیرقانونی اقدام کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے سید منور حسن اور حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کو عالمی برادری کے سامنے اٹھائے۔

نجی ٹی وی ’’نیو نیوز ‘‘ کے مطابق کوئٹہ میں مطیع الرحمن نظامی کے غائبانہ نماز جنازہ کے بعد بنگلہ دیشی حکومت کے خلاف بھر پور مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے بنگلہ دیشی ،پاکستانی اور بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے گیے ۔احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے مولانا نظامی ؒ کی شہادت کو بے گناہ انسانیت کا خون قرار دیا اور کہا کہ مولانا نظامی کا اکلوتا گناہ متحدہ پاکستان کی حمایت تھا ۔حکومت پاکستان اور عالمی برادری اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہی حکمرانوں کا پھانسی نہ رکھوانے اورحتیٰ مذمتی بیان تک جاری نہ کرنا بدترین ظلم ہے۔

عالم اسلام اور انصاف کے عالمی اداروں سے رابطہ کرکے خون نا حق بہنے سے بچایا جاسکتا تھا ۔بنگلا دیش میں بے گناہ بہائے جانے والے خون میں حسینہ واجد اور مودی برابر کے شریک ہیں ،جبکہ حکومت پاکستان بے حسی کا شکار ہے ۔حکومت کا یہی وطیرہ رہا تو بنگلا دیش میں جاری مظالم کا دائرہ پورے خطے تک پھیل جائے گا ۔

پشاور ،کوئٹہ ،اسلام آباد ، سانگھڑ‘ بہاولپور‘ ملتان‘ ڈیرہ غازی خان‘ وہاڑی‘ اٹک‘ چنیوٹ اور فیصل آباد میں بھی امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئیں جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

ادھر ڈھاکہ سمیت بنگلا دیش کے مختلف شہروں میں مطیع الرحمان کو تختہ دار پر چڑھانے کے خلاف مظاہرے ہوئے جبکہ کئی مقامات پر جماعت اسلامی اور حکمران جماعت عوامی لیگ کے کارکنوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

برطانیہ میں بھی مطیع الرحمن نظامی شہید کی غائبانہ نماز جناز ہ ادا کی گئی اور بنگلہ دیشی حکومت کے انسانیت سوز مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ،برطانیہ میں ہونے والے اجتماع میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت کے غیر انسانی سلوک کے خلاف اقدامات اٹھائے ۔

مزید : قومی


loading...