داعش سے روابط الزام‘ ایم بی بی ایس فائنل ائیر کی دو بہنیں کالج سے نکال دی گئیں

داعش سے روابط الزام‘ ایم بی بی ایس فائنل ائیر کی دو بہنیں کالج سے نکال دی گئیں
داعش سے روابط الزام‘ ایم بی بی ایس فائنل ائیر کی دو بہنیں کالج سے نکال دی گئیں

  

 پشاور(ویب ڈیسک)سندھ کے بعد اب خیبرپختونخوا کے سکول و کالجوں پر داعش کے سائے منڈلانے لگے ، ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ کے وائس چانسلر کی ایم بی بی ایس فائنل ایئر کی دو طالبعلم بیٹیوں کو دہشت گرد تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج پشاور سے نکال دیا گیا جس پر دونوں بہنوں نے انتظامیہ کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔

اپنی درخواست میں سارہ اور منیرہ خان نامی دونوں بہنوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کو صرف حجاب پہننے کی وجہ سے انسٹیٹیوٹ سے خارج کر دیا گیا ہے اور حجاب ہی کے وجہ سے انتظامیہ اور عملہ انہیں دولت اسلامیہ کے آلہ کار کہہ کر پکارتے تھے ، درخوست گزار بہنیں پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج پشاور میں ایم بی بی ایس فائنل ائیر کی طالبات ہے جن کا تعلق تعلیمی پس منظر رکھنے والے معزز خاندان سے ہے ، 29اپریل 2017کو میڈیکل کالج انتظامیہ کی جانب سے ایبٹ آباد جانے کیلئے ایک سیاحتی ٹوور کا پروگرام بنایا گیا، ٹوور پر جانے کیلئے لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ دو بسوں کا انتظام کرنے کی شرط پر درخواست گزاراؤ ں نے ساتھ جانے پر رضا مندی ظاہر کردی تاہم ٹوور کے روز اور راستے میں مرد و خواتین ایک بس میں سوار ہو گئے اور ایبٹ آباد کی بجائے بسوں کا رخ مری کے طرف موڑ دیا گیا جس پر دونوں بہنوں نے شکایت کی اور اسی وجہ سے ان کو ہراسمنٹ اور ذلت کا نشانہ بنایا گیاجبکہ عملے ایک رکن نے طلباء میں افواہ پھیلا دی کہ دونوں بہنوں کا تعلق داعش سے ہے جس پر کچھ طلباء نے ڈاکٹر طارق کے اشتعال دلانے پر ان پر حملہ بھی کیاتاہم وہ نقصان سے بچ گئیں،ٹوور سے ان کی واپسی کا وقت رات کے 11بجے تھا لیکن وہ حفظ ما تقدم دن3 بجے واپس آگئے ۔

دائر رٹ میں پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے پرنسپل، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر و رجسٹرار، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے سیکرٹری ، اسسٹنٹ پروفیسر طارق ہمایوں اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رب نواز کو فریق بنایا گیا ہے جس پر سماعت جلد سماعت متوقع ہے۔

مزید : پشاور