تعلیم سب کے لئے؟

تعلیم سب کے لئے؟
 تعلیم سب کے لئے؟

  



میاں محمد شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بطورِ حکمران تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، اِسی لئے انہوں نے ’’تعلیم سب کے لئے‘‘ کے نام سے ایک بڑی مہم چلا رکھی ہے۔ جو بچے اتنی بڑی تعداد میں سکولوں سے باہر بھٹوں پر مشقت یا جبری ملازمت کر رہے ہیں،اُنہیں دائرہ تعلیم میں لانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔بھٹہ مالکان کو نہ صرف متنبہ کیا گیا ہے،بلکہ کئی پر تو خود وزیراعلیٰ نے سرپرائز دورے کر کے اُن پر کیس بھی بنائے ہیں،اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کی اہمیت ایک حکمران کی نظر میں کیا ہے؟مجھے حیرت ہے کہ بجٹ بناتے وقت اِس اہم نکتے کو ذہن میں نہیں رکھا جاتا اور پاکستان کے مجموعی جی ڈی پی کا صرف2.3فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ہمارے جیسے ساؤتھ ایشین ممالک میں یہی3.6فیصد حصہ رکھا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پرائیویٹ سکولوں اور یونیورسٹیوں نے تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے کوششیں کی ہیں اور انہیں کامیابی بھی ملی ہے،مگر مہنگی فیسوں کے ساتھ اب اگر غریب نے تعلیم حاصل کرنی ہے تو وہ یہ ضرور سوچتا ہے کہ مَیں گورنمنٹ سکول میں داخلہ لوں تاکہ یہ نہ ہو کہ ماں باپ فیس ہی ادا نہ کر سکیں۔ ان تمام معاملات میں خسارہ قوم کا اور ان بچوں کا ہے، جو مہنگی فیسوں کی وجہ سے دائرۂ تعلیم سے باہر رہ جاتے ہیں اور کم عمری میں تمام ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھٹوں، چائے خانوں اور گھروں میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

وزیراعلیٰ صاحب! آپ کا پنجاب میں ایک معیار ہے،ذرا نظر دوڑا کر دیکھیں سندھ میں نقل اس طرح ہو رہی ہے، جیسے وہاں پر تمام تعلیمی بورڈوں میں گھوسٹ ملازمین ہوں، جن کا وجود ہی نہ ہو، جبکہ پنجاب میں آپ کے دورِ حکومت میں اس پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔پنجاب میں ’’تعلیم سب کے لئے‘‘ کا نعرہ اگر کامیابی کی طرف جا سکتا ہے تو اِس کے لئے گورنمنٹ سکولوں کی طرف نظر دوڑایئے،لاکھوں سکول ہیں جو آپ کے دورے کے منتظر ہیں اور یقین کیجئے خرابیاں تب ہوتی ہیں، جب بے بسی ہو،بھوک ہو، بچے زمین پر بیٹھ کر کیوں پڑھیں،کیونکہ وسائل نہیں اور وسائل کس نے فراہم کرنے ہیں۔ حکومت نے۔۔۔اِس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ میاں صاحب کمیونی کیشن، بجلی، اورنج ٹرین اور میٹرو آپ کے وہ کارنامے ہیں جو الحمد للہ آپ کو ایک نیامقام عطا کرنے والے ہیں، مگر میری رائے کے مطابق اگر تعلیمی نظام کے خدوخال کی مکمل درستگی کی جانب بھی توجہ دیں، ہر سال کا ٹارگٹ مقرر کر کے سکولوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے، شفافیت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے والا آپ کا ادارہ اس سلسلے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور سکولوں کی بدلی ہوئی حالت یہ بتا سکے گی کہ اس معاشرے میں ہر چیز انسانی عظمت کی بہترین مثال ہے،مجھے معلوم ہے کہ لوگ میٹرو اور اورنج ٹرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،مگر اس کو بھی آپ ’’علم دا گھاٹا‘‘ کہہ کر نظر انداز کر سکتے ہیں۔یہ لوگ تنقید کریں، مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ اگر یہ سہولتیں فراہم نہ کی جائیں تو عوام کیا پرانے اونٹوں والے دور میں چلے جائیں۔ تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ سی پیک میں ان لوگوں کے لئے بہت سی آسامیاں نکل رہی ہیں اور اس سے بے روزگاری بھی کم ہو رہی ہے۔اگر ہم بھارت سے موازنہ کریں تو بھارت میں اِس وقت 785 یونیورسٹیاں ہیں، جو مُلک میں اعلیٰ تعلیم دے رہی ہیں،جبکہ ہمارے مُلک میں صرف 163یونیورسٹیاں ہیں اور اُن کا بھی حال یہ ہے کہ کچھ سرچ کمیٹی کے بے جا ناز و نخرے، پرائیویٹ یونیورسٹی کے مالک کو اگر سربراہ بنا دیا جائے، تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے لئے وائس چانسلرز ڈھونڈنے پڑیں تو پھر انجامِ گلستان کیا ہو گا،کیسے آئے گا، میرٹ اور کیسی ہو گی معیاری تعلیم؟

میری گزارش ہو گی کہ وفاق اور تمام صوبوں کی سطح پر ’’تعلیمی ایمرجنسی‘‘ کا اعلان کیا جائے اور میاں شہباز شریف کے نعرۂ مستانہ ’’تعلیم سب کے لئے‘‘ کو سارے مُلک میں عام کیا جائے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور سکولوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کیا جائے کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ثابت ہوں۔تعلیم پر توجہ دینا، علم کو پھیلانا ایک جہاد ہے، ثوابِ عظیم ہے جسے حاصل کرنا ہم سب پر فرض ہے، لازم ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ سرکاری سکولوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دیں۔معیار کی بلندی عظیم کام ہے،جسے کئی لوگ سرانجام دے رہے ہیں،جن میں لاہور گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر جنرل(ر) عبید زکریا کی متحرک شخصیت بھی شامل ہے،جنہوں نے ایک عام سے کالج کو یونیورسٹی بنا کر محدود وسائل کے باوجود پہلی 30 یونیورسٹیوں میں لاکھڑا کیا ہے۔ہمیں تعلیمی نظام میں اس طرح کے لوگوں کی شدید ضرورت ہے جو باتوں کے لئے نہیں، بلکہ کام کی تکمیل کے لئے عہدے قبول کریں۔ حکومت سوچے اور ان جیسے متحرک لوگوں سے ’’تعلیمی ایمرجنسی‘‘ کے لئے مشورے طلب کرے تاکہ ملک کے تعلیمی نظام میں انتشار اور بے بسی کی جو کیفیت ہے، اُسے ختم کیا جا سکے۔پاکستان ہمارا ہے اور اسے تعلیم کا خون بڑی مقدار میں چاہئے، لہٰذا سب لوگ اس شعبے کی طرف بھرپور توجہ دیں اور مُلک کو جہالت کے بڑھتے ہوئے اندھیروں سے نکالیں۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

مزید : کالم