ماضی کے مجاور

ماضی کے مجاور
 ماضی کے مجاور

  

ماضی کے ملبے پر بیٹھے قبائل و ملل محرومی کے ماتم سے ہی نہیں نکل پاتے۔لیل و نہار کی گردشیں اور شام و سحر کی کروٹیں ادلتی بدلتی ہیں تو پھربہت کچھ بدل جاتا ہے۔ماضی کی مجاوری کرنے والے البتہ خوشحال مستقبل میں داخل ہو نہیں سکتے۔گزرے کل کی اہمیت سے انکار نہیں کہ یہ حال سے جڑا ہوتا ہے۔حال سے مگر مستقبل کا راستہ نہ ملے تو؟تو پھر ماضی کی اسیر قوموں کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتاکہ پانی مرتا کہاں ہے۔پانی نکلتا تو خیر اپنے مخرج و مصدر سے ہی ہے لیکن اترتا نشیب میں ہے۔حکمران جب مستقبل کے منصوبوں سے بے نیازہو جائیں یا ماضی میں الجھ کر رہ جائیں تو سمجھئے پانی نیچے کی جانب بہنے چلا۔

تقسیم سے اب تک گھپلے تو گھمبیر ہوں گے ،کیا سائے کے پیچھے بھاگنے یاسراب کا تعاقب کرنے سے ملکی ترقی اور قومی ارتقا کی کھیتی لہلہا اٹھے گی؟

پاکستان کے قومی سفر میں عجیب بے کلی اور بداعتمادی چھائی رہی کہ ہم پون صدی سے چل تو رہے ہیں مگر گھر نہیں آیا۔حکومتوں اورحکام کو جم کر کام کرنے نہیں دیا گیااور پردے کے پیچھے سجے سجائے کردار چشم زدن میں پارلیمانی نظام منہدم کرتے رہے۔سیاست کو مطعون کرنا اور سیاست دانوں کو ملزم قرار دینایہاں کا محبوب مشغلہ رہا۔کبھی کرپشن اور کبھی احتساب ،کبھی قومی مفاداورکبھی ڈاکو چور کے کھیل میں سیاسی حکومتوں کی اکھاڑ بچھاڑ جاری رہی۔نواز شریف کے تیسرے عہد میں کوئی دن ایسا نہیں جب منہ زور طاقتوں کی رکھیلوں نے الزام و دشنام کے تیر ترازو نہ کئے ہوں۔ان کامقصد صاف اور منشور شفاف رہا کہ سیاست دانوں کانرخرہ دبائے رکھا جائے۔روزروز کی پھڈا بازی اور آئے دن کی کھینچا تانی سے ہوا یہ کہ ہماری سیاست معمول کی چال بھولی رہی۔

احتجاجی ریلیاں،جلسے و جلوس،الزام ودشنام، دھرنے اورلاک ڈاؤن،میڈیا کے ایوانوں اور عدالتی کٹہروں میں جنگ ،پارلیمنٹ کا بائیکاٹ۔۔۔اس ہنگامہ ہاوہو میں اگر حکومت بھی جوابی چال چلنے لگ جاتی توآج ہم کہاں کھڑے ہوتے؟دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کیسے ہوتا؟گزشتہ حکومت میں ملک بیس ،بیس گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ میں ڈوبا رہااور آج؟آئے روز کے خود کش حملے اور بم دھماکے قصہ پارینہ جبھی ہوئے جب سیاسی و عسکری قیادتیںیکسو ہوئیں۔نواز شریف خوب سمجھتے ہیں کہ سیاسی زندگی توبس وہی جو پہلو میں بے قرار دل اورچہرے پر چمکتی ہوئی پیشانی رکھتی ہو۔تاروں کی چھاؤں میں چمک کر ،چاندنی میں چاند کی طرح نکھر کراورپھول کی مانند کھل کر۔۔۔جینا ہی تو جینا ہے۔بجھے ہوئے دل اورسوکھے ہوئے چہرے احتجاج وانتشارسے اوپراٹھ کربھلا جی بھی کیسے سکتے ہیں!کچھ انسان جیتے جی مردوں میں شمارہوتے ہیں اورکچھ مقدس نفوس منوں مٹی میں سونے کے بعد بھی زندہ رہا کئے۔

معمول سے منہ موڑ کراتھل پتھل کی حالت اوراحتجاج و اضطراب کی کیفیت تو سماج کے لئے ویرانی لاتی ہے۔قوموں اور ملکوں کی زندگی توسکون واطمینان میں ہی پرورش پاتی اور استقلال سے عبارت ہوا کئے۔گزشتہ پی پی کی حکومت کوبھی اگر سلیمانی ٹوپیاں پہنے جادوگر قدرے آرام سے کام کرنے کا موقع ارزاں کرتے تو شاید ان کے نامہ اعمال میں بھی کچھ خیر پڑا ہوتا۔ہماری بدبختی اورسیاہ قسمتی اس کے سواکچھ بھی نہیں کہ لیاقت علی خان سے لیکر نواز شریف تک ۔۔۔ سبھی حکومتوں کو ان دیکھی مخالفتوں اور مزاحمتوں کا سامنا رہااور بس۔اس دوسری انہونی کالی محرومی کو کیا نام دیجئے کہ سیاست دانوں کو انتقال اقتدار تو کبھی ہوا نہیں۔

شراکتِ اقتدار سے ہی انہوں نے کام چلایااور یہ نصیبوں جلے کبھی افتاں و خیزاں اورکبھی کشاں کشاں رواں دواں رہے۔باالفاظ دیگر یوں کہئے کہ حوادث زمانہ کے باوجود پھر بھی یہاں رونقیں روز افزوں رہیں اور وہاں رعنائی بھی خوار و زبوں رہی۔کوئی محروم رہ کر بھی شاد کام رہا اورکوئی شاد کام ہو کر بھی محروم ٹھہرا کہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔

صاف و سیدھی اور سامنے کی حقیقت کہ اگر نواز شریف بھی کرپشن کی تحقیقات کے گن چکر میں پڑ کرسائے کے پیچھے بھاگنے لگتے توتعمیراتی اور قومی منصوبے دھرے کے دھرے رہتے۔اقوام و ملل کے عروج و زوال میں بڑے مقام آتے ہیں جب دیدہ ور کو ماضی کی مجاوری سے اوپر اٹھ کرتدبرو تعقل کا راستہ چننا پڑتا ہے۔شعورو خرد سے عاری لوگوں کے لئے اس حقیقت کو سمجھنا بڑا مشکل رہا کہ سیاست عمل کی پونجی مانگتی ہے،قول کی کنجی نہیں۔ دوسروں کے دماغوں سے سوچنے والے کٹھ پتلی ایسے لوگ آنکھ تو اپنی رکھا کئے مگر نظارہ ان کے حصے میں آتا نہیں۔کانوں کی تو محض تہمت رکھتے ہیں کہ باتیں ہمیشہ غیر کی سنتے ہیں ۔ان کے پاؤں برابر متحرک رہتے ہیں مگر سفر کٹتا نہیں،منزل ہے کہ ملتی نہیں۔

احتجاجی اور انتشاری لوگ سیاسیات ،پارلیمان اور انتخابی نتائج کے باب میں سواداعظم کے مسلک سے متفق نہیں ہو ئے ۔اک ذرا صبر کہ سال بھر کی دوری پر پھر میدان سجا چاہتا ہے اور عوام اپنے شعورسے کھرے کھوٹے کا فیصلہ کر دیں گے۔اصل سوال تو یہ کہ انہیں سال بھرقرار آئے تو کیسے اورسکون ملے تو کیونکر!فلک کی بے داغ نیلگونی اورآفتاب کی بے نقاب درخشندگی پر اگر کوئی دھیان دے تو پھر راحت قلب کا بھی بڑا سامان ہے۔اس کائنات میں کوئی عشرت ایسی نہیں جس سے کوئی حسرت جڑی نہ ہو۔کہا جاتا ہے بادہ کامرانی کے تعاقب میں ہمیشہ خمارناکامی لگا رہااورہاں خندہ بہار کے پیچھے ہمیشہ گریہ خزاں کا نالہ بپا رہا۔

مزید : کالم