گڈ گورننس، ترقی اور مریض!

گڈ گورننس، ترقی اور مریض!
 گڈ گورننس، ترقی اور مریض!

  

ایگو(EGO) انگریزی کا لفظ، جس کا ترجمہ انا کیا جاتا ہے اور اگر کسی پنجابی والے سے پوچھیں تو وہ ’’غیرت‘‘ بھی کہہ دے گا اور اسی انانے آج کل کام خراب کیا ہوا ہے، یہ اناہی تو ہے جس کی بدولت پارلیمانی جمہوریت پر یقین کا اعلان کرنے والے کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ میں جمہوری انداز سے نہ کر پائے اور پھر یہ پاناما آگیا اور یہی انا کا مسئلہ بن گیا، ابھی اسی پر بات جاری تھی کہ ڈان لیکس منظر عام پر اور غالباً اب یہ انا کا مسئلہ بن گیا کہتے ہیں جو ہونا ہوگیا، مزید نہیں ہوگا، جی !نہیں ہوگا کہ انا مجروح ہوگی فیصلہ بھی آگیا، واقعی صدیوں یاد رکھا جانے والا فیصلہ ہے، جی ! ٹھہریئے یہ فیصلہ ہے؟ کہا تو یہی جاتا ہے، اگر یہ فیصلہ ہے تو یہ جے، آئی ، ٹی کیا ہے؟ چھوڑیں جی !ڈرلگتا ہے، ہم نے کبھی بھی عدالتی فیصلوں پر تنقید نہیں کی، حتیٰ کہ یہ بھی نہیں کہا کہ کس کی انا ہے اور کہیں مجروح ہی نہ ہو جائے، فیصلہ جی ہاں!فیصلہ ہوگیا، کیا اب اس پر بات ہو سکتی ہے، نیک نیتی شرط ہے، لیکن نہیں، جناب مشکل تر ہے کہ فاضل جج برامان گئے تو پھر ’’توہین عدالت‘‘ سے کون بچائے گا، یہاں توبے چارے یوسف رضا گیلانی نہ بچ سکے اور وزارت عظمی ہی سے فارغ ہوگئے پانچ سال تک پابندی بھی برداشت کی اور اب سکھ کا سانس لیا کہ پھر سے انتخابات ہیں حصہ لے سکیں گے اگر کسی نے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کرتے ہوئے یہ سوال نہ اٹھایا کہ حضور آپ تو عدالت سے سزایافتہ ہیں اس لئے 62-63 کی زد میں آتے ہیں، ان کے لئے یہ مشکل تو ہے اور اسے عبور بھی کرہی جائیں گے؟ بات ’’انا‘‘ سے چلی اور اس انا ہی نے تو کام دکھائے ہیں اور آج ملک کے اندر جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب ’’انا‘‘ ہی کا تو کرشمہ ہے، بلکہ یہ بھی ’’انائی جنگ‘‘ ہی تو ہے کہ ایک طرف سے بات ہو تو دوسری طرف سے پٹھے میدان میں اتر آتے ہیں، ہمیں یاد آیا کہ جب یہ لاہور پہلوانی کا مرکز اور اکھاڑوں کا شہرہ تھا اور کشتیوں کے مقابلے ہوتے تھے تو پہلے چھوٹے جوڑ مقابلہ میں اترتے تھے، اساتذہ نے کرکٹ کی اے، اور بی ٹیم کی طرح پہلوانی دستے بھی تیار کررکھے تھے، پہلے یہ چھوٹے جوڑ ہوتے اورآخر میں بڑے پہلوان مقابلہ کرتے تھے جیسے آج کل دانیال عزیز، طلال چودھری اور عابد شیر علی وغیرہ بڑھکیں لگاتے اور ادھر سے نعیم الحق، فواد چودھری اور ڈاکٹر عارف علوی جواب دیتے ہیں اب تو چودھری اعتزاز احسن اور قمر زمان کائرہ بھی میدان میں ہیں اور پھر کبھی کبھار وزیر اعظم بھی ’’جارحیت‘‘ کا مظاہرہ کرگزرتے اور ان سب حضرات کو جواب دینا پڑتا ہے، قارئین! چھوڑیئے ہم کیا لے بیٹھے اگر کسی کی انا مجروح ہوگئی تو ہم کیا کریں گے کہ اب قویٰ بھی مضبوط نہیں ہیں۔

بہتر ہے اس ’’انا‘‘ والے مسئلہ کو اس کے حال پر چھوڑدیں اور یہ سو چیں کہ آئندہ اس شہر میں ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے،بلاشبہ اور بے شک ٹرانسپورٹ ایک اہم مسئلہ ہے اور اس لئے انفراسٹرکچر بھی لازم ہے، لہٰذا شہر اور بیرون شہر کے لئے مواصلاتی ڈھانچہ مضبوط ہونا چاہئے۔ سڑکیں، پل اور ریل کی پٹڑی بھی ہونا اور مضبوط ہونا چاہئے، تاکہ شہریوں کو سستی اور ستھری سفری سہولیات میسر آسکیں، ہم میٹروبس سے میٹرو ٹرین تک کے تمام منصوبوں کے زبردست حامی ہیں اور آپ کو بتائیں کہ آج کل ہم پنجاب سپیڈو( لنک بس سروس) سے پوری طرح مستفید ہو رہے ہیں اور دفتر آنے جانے کے لئے اسی ’’ٹھنڈی ٹھار‘‘ بس کا سفر کرتے ہیں اور ہمیں یہ جان اور پڑھ کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اب لاہور میں زیر زمین ریلوے کا نظام بھی اپنانے والے ہیں اور وہ چین کے ساتھ اورنج میٹرو کے بعد اب بلیو اور پرپل لائن بنانے کا معاہدہ کرنے بھی جارہے ہیں جو زیر زمین بنیں اور چلیں گی۔وزیر اعلیٰ کی دلچسپی ہی سے ذرا پریس ریلیز غور سے پڑھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ یہ زیر زمین ریلوے(ایک مرحلہ) 19کلو میٹر پر محیط ہے، یہ قرطبہ چوک سے جیل روڈ، کلمہ چوک اور اکبر چوک سے ہوتا ہوا گرین ٹاؤن پر اختتام پذیر ہوگا، دوسرا 20کلو میٹر کا مرحلہ داتا دربار سے پنجاب اسمبلی، مال روڈ اور عسکری 10سے بھٹہ چوک اور ائیر پورٹ تک کا ہوگا، ہم تو اس سب کا تصور کرکے ہی خوش ہو رہے ہیں اور ابھی سے ایک کونے سے دوسرے کونے کے سفر والا منصوبہ بنانا شروع کردیا ہے کہ ہم ملتان روڈ چونگی سے قرطبہ چوک تک آنے جانے والی لنک بس سے بھی تو مستفید ہو رہے ہیں۔

ماشاء اللہ ہمارے وزیر اعلیٰ جو خادم اعلیٰ کہلانا پسند کرتے ہیں، بہت مستعد ہیں اور جس کے پیچھے پڑجائیں ’’ معذرت کسی کے نہیں، کام کے‘‘ اسے پورا کرکے ہی چھوڑتے ہیں ، جیسے میٹروبس اور اب میٹرو اورنج لائن ہے، اس لئے یقین ہے کہ وہ یہ سب کرہی گزریں گے، اب خوفزدہ نہ ہوں، اتنے بڑے بڑے منصوبے اگر مکمل ہونا ہیں تو پھر تکلیف بھی برداشت کرنا ہوگی آخر میٹروبس اور اب اورنج لائن کی تعمیروالی مشکل تو برداشت ہوہی گئی ہے، کیا ہوا اگر آدھی آبادی ’’دمہ‘‘ کی مریض ہو چکی اور اب مزید ہو رہی ہے کہ ’’سیف سٹی‘‘ جیسے عظیم اور مفید ترین منصوبے کے لئے بھی تو شہر بھر کے گلی کوچے کھود ہی دیئے گئے اور گرد ہی گرد اڑائی ہے اور یہ بھی برداشت کریں کہ سیف سٹی والوں نے تاریں اور پائپ گزارنے کے لئے شہر بھر کی مرکزی سڑکوں کی بھی تو کٹائی کی ہے اور یہ کٹاؤ (گڑھے) اب تک جوں کے توں ہیں کہ توڑ پھوڑ ہماری عادت ہے تعمیر نو سے ہمیں کیا لینا دینا، اس لئے تیار رہیے کہ بلیو اور پرپل میٹرو کے لئے بھی کھدائی ہونا ہے، گرد تواڑنا ہی ہے اورٹریفک کی روانی متاثر ضرور ہوگی، یہ سب برداشت کرلیجئے گا کہ ترقی کے لئے کچھ قربانی تو دینا ہی ہوتی ہے اور آئندہ سکھ کے لئے دکھ جھیل لیجئے گا۔

اگر انا آڑے نہ آجائے تو یہ جسارت بھی کرلیتے ہیں کہ گڈگورننس سے یہ مراد نہیں کہ خادم اعلیٰ سب کچھ خود ہی کرتے رہیں، اگر نچلے والا عملہ ٹھیک ہو کر خود ہی یہ سب عیوب دور کردے تو عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے ورنہ ترقی کے لئے قربانی تو دینا ہی ہے، دمہ کے مریضوں میں اضافہ ہوگیا تو قربانی دے لیجئے، ترقی کے لئے کچھ تو قربان ہونا ہی ہوتا ہے۔

مزید : کالم