جو پہلے ہوچکا ہے پھر دوبارہ ہونے والا ہے؟

جو پہلے ہوچکا ہے پھر دوبارہ ہونے والا ہے؟
 جو پہلے ہوچکا ہے پھر دوبارہ ہونے والا ہے؟

  


میرے بہت پیارے سے دوست اور مسلمہ طور پر خوبصورت شاعر طارق نعیم کی غزل کی زبان مستعار لے کر مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم ہاؤس کے قفس سے پرندہ رہا ہونے کا وقت قریب آچکا ہے؟ کیا نواز شریف کا چراغِ اقتدار سپردِ ہوا ہونے کو ہے؟یا عمران خان کا نشانہ اس بار بھی خطا جائے گا؟ نواز شریف کے مخالفین تو ان کی حکومت کے پہلے دن ہی سے ان کے خلاف سرگرم عمل ہو گئے تھے، لیکن سیاست میں زوال دشمنوں کی سازشوں سے کم ہی آتا ہے، البتہ حکمرانوں کی اپنی غلطیاں ،کوتاہیاں اور غفلتیں ان کو زوال کے سفر پر ضرور رواں دواں کردیتی ہیں۔یااقتدار کی فصیلوں میں دراڑیں اس وقت پڑتی ہیں جب اپنے ہی راز دان اور اپنے ہی سپاہی کسی صاحب اقتدار کے خلاف شروع جنگ میں شریک ہو جائیں۔ پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ حزب اختلاف کے سیاست دان بعض اوقات اس انتہا پر چلے جانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے کہ وہ اپنی حریف برسر اقتدار سیاسی جماعت کو حکومت سے محروم کرنے کے لئے بساطِ جمہوریت الٹ دینے کو بھی اپنی فتح سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کسی بھی ملک میں خدانخواستہ فوجی مداخلت کے ذریعے اگر کوئی تبدیلی آتی ہے تو اسے کسی بھی صورت میں فتح قرار نہیں دیا جاسکتا، بلکہ یہ تو تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں کی اجتماعی شکست کا دوسرا نام ہے۔ جس جدوجہد کا انجام ایک فوجی حکومت کی صورت میں سامنے آرہا ہو، تو اسے کبھی بھی طلوع صبح کا نام نہیں دیا جاسکتا،کیونکہ جب جمہوریت کا آفتاب ایک مرتبہ غروب ہوجاتا ہے تو پاکستان میں تو تجربہ یہی رہا ہے کہ پھر یہ آفتابِ جمہوریت دس بارہ سال بعد ہی دوبارہ ابھرنے کا نام لیتا ہے، اس لئے ہماری تمام سیاسی جماعتوں سے یہ گزارش ہوگی کہ وہ مملکت کے امور کے انتظام و انصرام پر مامورموجودہ حکمرانوں کو بدلنے کے لئے اپنا جمہوری حق استعمال ضرور کریں، لیکن فوج اور موجودہ حکمرانوں کے درمیان اگر کسی مسئلے اور معاملے کی بنیاد پر کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہوگئی ہے تو اس صورت حال میں سے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو اپنے لئے خوشی کا کوئی سامان تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

نواز شریف کی حکومت کے خلاف کوئی بھی عوامی تحریک شروع کرنے کے لئے ہمارے خیال میں بہت ساری اصلی اور سچ مچ کی وجوہات موجود ہیں، لیکن سیاست کو سیاست کی حدود کے اندر ہی رکھنا چاہئے۔ یہ سوچنا کہ فوج اب نواز شریف (یاکسی اور سیاسی جماعت کی اگر حکومت ہوتی) کی حکومت سے ناراض دکھائی دیتی ہے، اس لئے ہمارا( حزب اختلاف) کام اب آسان ہو جائے گا۔ میں اسے ایک منفی اور خطرناک سوچ سمجھتا ہوں۔ مجھے تو یہ بات ہی ایک مفروضہ محسوس ہوتی ہے کہ فوج اور نواز شریف کی حکومت کے درمیان کوئی ایسے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں کہ ان کو حل کیا جانا ممکن نہ ہو۔ فوج بھی ہر اعتبار سے ایک محترم ادارہ ہے اور حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو، وہ بھی ایک ادارہ ہے، بلکہ اگر آئین کی زبان میں بات کی جائے تو عوام کی منتخب حکومت ہی کو فوج پر بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی ہمیشہ حکومت ہی کاکام ہوتا ہے اور فوج اس پر عمل کرتی ہے۔۔۔ جس طرح آئینی طور پر دیگر ماتحت ادارے حکومت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح فوج پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ ہم فوج کے ادارے کی توقیر، وقار اور عزت کا خیال ہی نہ رکھیں۔ فوج ملک کی سلامتی کا ضامن ادارہ ہے، ہمارے وطنِ عزیز کی مقدس سرحدوں کا محافظ ہے، ہماری ساری محبتیں اور عقیدتیں ان غازیوں اور شہیدوں پر نثار جو وطن کی حرمت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں اور جن کی عظیم قربانیوں کی وجہ ہی سے ہمارے سر فخر سے بلند ہیں اور ہم سکون کی نیند سوتے ہیں کہ ہمارے بہادر اور غیور محافظوں کے ہوتے ہوئے ہمارے ملک کی آزادی اور سلامتی پر آنچ نہیں آسکتی،اس لئے فوج اور حکومت ہمیشہ ایک صف میں کھڑے ہوکر ہی قومی دفاع کے تقاضوں کو احسن طور پر پورا کرسکتے ہیں۔

پاکستان اس وقت جن حالات سے گزررہا ہے، ضرب عضب کے بعد رد الفساد کی جو جنگ جاری ہے، یہ پوری قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے، اس لئے ہمیں فوج اور حکومت کے درمیان اگر کوئی چھوٹی سی بھی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے، تو یہ معاملہ ہمارے لئے خوشی کا نہیں، بلکہ اس پر ہمیں تشویش اور تکلیف کا اظہار کرنا چاہئے۔ ہمارے ہاں کی سیاست ہی نرالی ہے۔ ہماری خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر خود ہمارے لئے نواز شریف یا کسی حکمران کو اقتدار سے ہٹانا ممکن نہیں ہے تو حکومتی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی کسی غلط فہمی کو اس حد تک ہوا دی جائے کہ ان کے درمیان لڑائی کے ذریعے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔ میں دوبارہ یہ گزارش کروں گا کہ موجودہ حکمرانوں کی اور بھی بہت ساری غلطیاں اور ناکامیاں ہیں۔ حزب اختلاف عوام کو درپیش مسائل اورمصائب کے حوالے سے اپنی سیاسی جدوجہد کو نواز شریف حکومت کے خلاف تیز سے تیز تر کرے، لیکن حکومت کو گرانے کے لئے ایسا طرز عمل اور طور طریقے نہ اپنائے جو پورے سسٹم کے لئے ہی بعد میں تباہ کن ثابت ہوں۔ ایوان اقتدار کی راہداریوں میں موجود لوگوں کوبھی احتیاط اور دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔ نواز شریف نے یہ حکومت پہلی مرتبہ نہیں دیکھی۔ وہ اپنی حکومت کے بننے اور ٹوٹنے کے تجربات سے کئی مرتبہ گزرے ہیں، اس لئے انہیں اپنے سابقہ تجربات سے سیکھ کر اپنی حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے۔ اگر ڈان لیکس کے معاملے میں کسی کمیشن کی رپورٹ کے بغیر ہی وہ اصل ذمہ دار ان کے خلاف کارروائی کرگزرتے تو معاملہ اس قدر اُلجھا نہیں تھا۔ ان کو ایسے حالات پیدانہیں ہونے دینا چاہئے تھے کہ معاملات اس انتہا تک پہنچ جاتے، جہاں سے پھر واپسی ممکن ہی نہ رہے۔ ابھی تک نواز شریف نے اپنے پاؤں ستاروں پر رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں اچھی طرح علم ہے کہ ہمارے ملک میں اقتدار کے آسمانوں پر پرواز کرنے والوں کے خاک پر اترنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واسطے اقتدار کے لئے جتنی مہلت لکھ رکھی ہے، یقیناًاس مدت کو ان کے مخالفین کم نہیں کرسکتے، لیکن ایک شرط ہے کہ وہ یا ان کے قریبی ساتھی خود اپنے زوال کو ’’تحریری دعوت نامہ‘‘ نہ بھجیں۔۔۔کالم کا آغاز میں میں نے اپنے دوست اور شاعر طارق نعیم کے ذکر سے کیا تھا۔ اتفاق ہے کہ کالم کے آخر میں بھی ان ہی کا ایک شعر یاد آگیا ہے:

دروبستِ عناصر پارہ پارہ ہونے والا ہے

جو پہلے ہو چکا ہے پھر دوبارہ ہونے والا ہے؟

شعر کا دوسرا مصرع میں یہاں سوال کی صورت میں درج کر رہا ہوں اور میری خواہش یہ ہے کہ ہمارے ملک میں وہ کچھ دوبارہ نہ ہو جو 1977ء اور 1999ء میں ہوا اور پھر اس سے قبل جو تماشے جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ کی صورت میں ہوتے رہے۔ نواز شریف کی وزیر اعظم ہاؤس کے قید خانے سے رہائی اگر ضروری بھی ہو چکی ہو تو راستہ ہمیں جمہوری ہی اختیار کرنا چاہئے اور کوئی راستہ ہمارے لئے موزوں نہیں ہے۔ میری یہ بھی آرزو ہے کہ ہم سب جمہوریت کو جمہور کے لئے سود مند بنانے کے لئے بھی کبھی گامزن ہوں۔

مزید : کالم