نیوٹن، سیب کا درخت اور کششِ ثقل

نیوٹن، سیب کا درخت اور کششِ ثقل
 نیوٹن، سیب کا درخت اور کششِ ثقل

  


مظاہرِ فطرت پر غور کرکے،تکوینی نظم کے اصول اخذ کرنا سائنس کہلاتا ہے، اس کا دائرہ پوری کائنات پر محیط ہے ،چنانچہ اس کا دائرہ ریاضی سے لے کر فلسفے، میوزک، نفسیات، طبیعات، حیاتیات، کیمیا، مذہب اور دیگر تمام مروجہ علوم تک وسیع ہو چکا ہے۔ سائنس دراصل" کیا" کا سفر ہے، جبکہ اس کے برعکس فلسفہ "کیوں" کا سفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ ناکام اور سائنس کامیاب ہو رہی ہے۔ ایک ہزار سال تک انسان "کیوں" کو سلجھاتا رہا، مگر اس’’کیوں‘‘ نامراد کاعقدہ حل نہ ہو سکا، چنانچہ پھر انسان نے کیوں کو ترک کرکے ’’کیا‘‘ کا سفر اختیار کیا، چنانچہ ’’کیا‘‘ کا سفر اختیار کرتے ہی انسان کامیابی سے ہمکنار ہونے لگا اور آج کی تمام تر جدید سائنسی و تکنیکی ترقی اسی ’’کیا‘‘ کی مرہون منت ہے۔ سائنس اب اس نکتے پر غور نہیں کرتی کہ کائنات میں فلاں چیز کیوں ہے۔ اب یہ ’’کیوں‘‘ کی جستجو صرف فلسفے تک ہی محدود ہو گئی ہے۔ سائنس یہ کھوجنے کی کوشش کرتی ہے کہ فلاں چیز کیسی ہے؟ پس وہ اس گہرائی تک پہنچ جاتی ہے کہ فلاں چیز کی حقیقت کن فطری اصولوں پر مرتب ہے، یعنی اگر ہم یہ کہیں کہ سائنس مقصد کی بجائے کسی چیز کی اساسی ہیئت معلوم کرنے کا نام ہے تو بے جا نہ ہو گا۔

مقاصد، اقدار اور اخلاقیات کا براہ راست سائنس سے کوئی تعلق نہیں، مگر آج تمام تر روحانی مضامین سائنس کا حصہ بن چکے ہیں اور اب سائنس کا سفر ان کے متعلق حقیقی جستجو کی طرف رواں بھی ہو چکا ہے، لیکن سائنس حقائق کی مقصدیت سے بالکل نابلد ہے، جیسا کہ معروف طبیعات دان آئن سٹائن بیان کر چکے ہیں، یہی بنیادی وجہ ہے کہ سائنس سے منسلک اذہان اکثر روحانی خلفشار کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ وہ اقدار اور مقاصد سے فرار حاصل کر چکے ہوتے ہیں جو ایک منظم انسانی معاشرے کی بقا کے لئے سمِ قاتل ہے ۔

اسحاق نیوٹن ایک کسان کا بیٹا تھا، بچپن سے ہی غور و فکر کا عادی تھا۔ نیوٹن نے کائنات کے جس بنیادی اور انتہائی اہم عالمگیر اصول "کششِ ثقل" کی جانب توجہ دلائی۔اس کے اس اصول نے دنیا کا رخ بدل دیا۔ نیوٹن کی کھڑکی سے نظر آنے والے سیب کے لہلہاتے درخت سے جب تک سیب نہیں گرا تھا تو دنیا کو کشش ثقل کا بھی علم نہیں تھا۔ جب سیب گرا تو نیوٹن کی دور رس نگاہ نے اس سیب کا براہ راست زمین پر گرنا محسوس کر لیا، یوں وہ ثقالت کے عالمگیر اصول تک پہنچ گیا۔ چنانچہ نیوٹن کے جس درخت سے سیب گرا تھا، وہ آج بھی صحیح سلامت ہے اور پھل بھی دے رہا ہے ،برطانیہ میں واقع لنکولنشائر کے مقام پر موجود اس درخت کی عمر اب تقریبا 350 سال ہوچکی ہے۔ہزاروں برس سے انسان کو یہ بات معلوم تھی کہ بلندی سے گرنے والی چیزیں زمین کی جانب کھنچی چلی آتی ہیں، تاہم اسے یہ علم نہیں تھا کہ آسمان میں معلق چاند زمین پر کیوں نہیں گرتا اور چاند ستاروں کی طرح ہم آسمان پر کیوں نہیں پہنچ جاتے؟۔ 1666ء میں برطانوی سائنس دان اسحاق نیوٹن نے بتایا کہ ان سب مظاہر کی وجہ کششِ ثقل ہے، جس کا تعلق جسم کی کمیت سے ہوتا ہے، جو جسم جتنا بڑا ہو گا ،اس میں یہ کشش بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی، یوں کائنات کا ہر جسم دوسرے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ بڑے اجسام میں یہ قوت بآسانی محسوس کی جاسکتی ہے، جبکہ چھوٹے اجسام میں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ سورج کی کششِ ثقل نظام شمسی کو باندھے رکھتی ہے۔ فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ کشش بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ قریب ترین سیارے عطارد پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ سورج سے زیادہ دور سیاروں پر کششِ ثقل زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی۔ جب چیزوں کو اونچائی سے زمین پر گرایا جائے تو کششِ ثقل کی قوت کے باعث ان کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔

سولہویں صدی میں اٹلی کے مشہور سائنس دان گلیلیو نے بتایا کہ بھاری اور ہلکی چیزیں ایک ہی رفتار سے گرتی ہیں اور ان پر کششِ ثقل ایک ہی طرح سے اثر کرتی ہے، تاہم ہوا کی مزاحمت کے باعث ہم انہیں مختلف وقفوں سے زمین پر گرتا دیکھتے ہیں۔ زمین کے جو حصے چاند کے قریب ہوتے ہیں، ان پر چاند کی کششِ ثقل کا اثر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں سمندر کا پانی اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح جو حصے چاند سے دور ہوں، وہاں سطح سمندر نیچے چلی جاتی ہے۔ اس کیفیت کو مدوجزر کہتے ہیں۔ چونکہ زمین گھوم رہی ہے،اس لئے ہر چوبیس گھنٹے میں ایک بار زمین کا ہرحصہ چاند سے قریب اور دور ہوتا ہے، یعنی سمندر ہر چوبیس گھنٹے میں دو مرتبہ مدوجزر سے گزرتے ہیں۔ زمین کی کشش کے حلقے سے باہر نکلنے کی صورت میں خلاباز بے وزن ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ان کی کمیت میں کوئی کمی نہیں آتی لیکن کمیت پر کششِ ثقل اثر انداز نہ ہونے کے باعث ان کا وزن نہیں رہتا۔ خلائی جہاز سے باہر کام کرتے ہوئے خلاباز خود کو رسی سے باندھ لیتے ہیں۔ خلائی جہاز کے اندر کوئی بھی شے پینے کے لئے نلکی استعمال کرنا پڑتی ہے، کیونکہ کششِ ثقل نہ ہونے کے باعث کوئی بھی مائع چیز گلاس میں نہیں رہ سکتی۔ نظامِ فلکیات میں سورج ایک بہت بڑا ستارہ ہے، اسی لئے اس کی کششِ ثقل بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ زمین پر ایک میٹر چھلانگ لگا سکتے ہیں تو سورج پر تین سینٹی میٹر اونچا اچھلنا بھی ممکن نہیں ہو گا، کیونکہ زمین کی کشش ثقل مصنوعی مواصلاتی سیاروں کو اس کے مدار میں باندھے رکھتی ہے، ان سیاروں سے ٹکرا کر آنے والی ریڈیائی لہروں کی بدولت ہی ہم ٹیلی فون کالز سنتے، ٹیلی ویژن دیکھتے اور انٹرنیٹ پر کام کرتے ہیں۔

مزید : کالم