ریٹائرڈ جرنیلوں کی خدمت میں (1)

ریٹائرڈ جرنیلوں کی خدمت میں (1)
 ریٹائرڈ جرنیلوں کی خدمت میں (1)

  


آج کل ایک ، دو اور تین ستاروں والے جرنیل آپ کو اکثر ٹیلی ویژن پر حالاتِ حاضرہ کے موضوعات پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان کا رینک بالعموم، ان کی گفتگو اور ان کے خیالات کی اصابت کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ناظرین و سامعین میں ان کی گفتگو اور ان کا استدلال البتہ محل نظر، ہوتا ہے۔ مثلاً جب جنرل عبدالقادر بلوچ اور جنرل عبدالقیوم بات کرتے ہیں تو ان کو اپنی پارٹی (نون لیگ) کی لائن Tow کرنے کی مجبوری ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کا ماضی ان کی روانیء گفتار کا دامن پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک ٹاک شو میں جنرل عبدالقادر بلوچ کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ موضوع تھا جنرل (ر) راحیل شریف کا 34 مسلم ممالک کی افواج کی کمانڈ قبول کرنا۔۔۔ یہ موضوع سخت متنازعہ ہے اور جوں جوں دن گزرتے جاتے ہیں یہ مزید متنازعہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن نون لیگ کی حکومت نے جب جنرل راحیل کو NOC جاری کر دیا تو پھر جھگڑا ہی ختم ہو گیا۔ لیکن میں جس ٹاک شو کا ذکر کر رہا ہوں وہ اس NOC کے اجرا سے چند روز قبل آن ائر جا رہا تھا جس میں جنرل بلوچ نے بڑے دھیمے لہجے میں جنرل راحیل کو اس نئی کمانڈ کی کمانڈری کو قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ چونکہ جنرل راحیل جب حاضر سروس تھے تو جنرل بلوچ کے ماتحت ان کے چیف آف سٹاف بھی رہ چکے تھے اس لئے ان کا (جنرل بلوچ کا) خیال تھا کہ راحیل ان کی بات پر سنجیدگی سے غورکریں گے اور جنرل بلوچ کا یہ استدلال بڑا واضح اور وزنی بھی تھا کہ ایران اور سعودی عرب کی چپقلش میں پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ اس وقت پاکستان کا استدلال تھا کہ راحیل ایرانی عمائدین کو اس بات پر مائل کر لیں گے کہ وہ بھی 34 مسلم ممالک کی افواج میں شامل ہو جائیں اور اس فوج کا جو بھی ایجنڈا ہو اس پر عمل کریں۔

یہ ایجنڈا عالمی دہشت گردی کی روک تھام تھا اور بادی النظر میں ایران کو چاہیے تھا کہ وہ جنرل راحیل کی بات مان کر اس ’’مسلم فوج‘‘ میں اپنے دستے بھیج دیتا۔۔۔ لیکن یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں تھا۔۔۔ عرب و عجم کی کشیدگی صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور جب سے سعودی عرب میں تیل دریافت ہوا ہے اور امریکہ نے سعودیوں کی سرپرستی کا بیڑا اٹھایا ہے تب سے یہ مسئلہ زیادہ گھمبیر ہو گیا ہے۔ یہ موضوع ایک نہیں کئی کتابوں کا موضوع ہے، اس لئے اس کی تفصیل میں جانا اس مختصر سے کالم میں ممکن نہیں۔ آپ نے دیکھا چند روز پہلے ایران پاکستان سرحد پر شرپسندوں نے حملہ کرکے ایران کے گیارہ سپاہیوں کو مار ڈالا اور کئی ایک کو زخمی کر دیا تھا۔ ایران نے اپنے ان شہدا کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی اور پاکستان کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ اپنی سرزمین پر ’’جیش العدل‘‘ نامی اس نئے دہشت گرد گروپ کی سرکوبی کرے۔ چنانچہ حالیہ ایام میں پاکستان نے اپنے کئی سیاستدان ایران بھیجے۔ ان وفود نے ایران کے چوٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں یقین دلایا کہ آئندہ پاکستانی سرزمین، ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اس قول کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پاکستان کے پاس وہ افرادی قوت (فوج کی مزید نفری) نہیں جو اس وعدے کو وفا کرنے کا باعث بن سکے۔ پاک ایران کے اس سرحدی حادثے کے بعد پاک افغانستان کا وہ سرحدی حادثہ بھی پیش آیا جس میں افغان ٹروپس نے پاکستانی سرحد کے اندر داخل ہو کر پاکستانی ٹروپس کو شہید کر ڈالا اور کئی پاکستانی سویلین بھی جان سے مارے گئے۔ پاکستان نے اس افغان جارحیت کا ’’منہ توڑ‘‘ جواب دیا اور جوابی حملے میں افغانستان کی پانچ چوکیاں تباہ کر دیں اور 50افغان فوجی ہلاک کر دیئے۔ ان کے علاوہ 100افغان ٹروپس بھی زخمی ہوئے۔ ٹی وی پر آپ نے سادرن کمانڈ کے کمانڈر اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور کی میڈیا سے گفتگو بھی سنی ہوگی۔ یہ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس سرحد پر افغان حکومت نے جن دو یا تین دیہاتوں کو اپنی سرزمین میں شامل کر رکھا ہے وہ دراصل پاک سرزمین کا حصہ ہیں۔ بہرحال یہ تحقیق جاری ہے اور علاقے کا سروے کروایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایران پاکستان کشیدگی کے علاوہ ایران افغانستان کشیدگی بھی کوئی ’’عام کشیدگی‘‘ نہیں۔ اس میں سینکڑوں فوجیوں کی شہادت و جراحت شامل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنرل قادر بلوچ نے جنرل راحیل کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’’مسلم افواج‘‘ کے گروپ کی کمانڈ کا منصب قبول کرنے سے احتراز کریں اور اس پر نظر ثانی کریں۔

جنرل قادر بلوچ کے علاوہ جنرل عبدالقیوم بھی نون لیگ میں شامل ہیں۔ حالیہ مہینوں بلکہ برسوں میں الیکٹرانک میڈیا پر جو متعدد ٹاک شوز منعقد کئے جا رہے تھے (اور ہیں) ان میں ان دو جرنیل صاحبان نے اپنی پارٹی (نون لیگ) کا دفاع کیا۔ تاہم ناظرین نے اکثر دیکھا ہو گا کہ وہ ’’ڈٹ‘‘ کر یہ دفاع نہیں کر سکے۔ وجہ یہ تھی کہ مخالف فریق کی آراء اور اس کا استدلال اس قدر قوی، دو ٹوک اور برملا تھاکہ اس کی تردید میں جو کچھ بھی کہا جاتا تھا(اور کہا جا رہا ہے) وہ ’’لولا لنگڑا‘‘ ہوتا ہے، ’’صحیح سالم‘‘ نہیں ہوتا!یہ لولے لنگڑے دلائل کسی تین ستاروں والے ریٹائرڈ جرنیل کی زبان سے نکلتے، ان کی حاضرسروس پروفیشنل شہرت اور مقام و احترام کے ساتھ منطبق نہیں سمجھے جا سکتے۔۔۔ لیکن کیا کہا جا سکتا ہے، انسانی مجبوریوں کی بھی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی!

اسی طرح تین ستاروں والے ایک اور جرنیل کا نام امجد شعیب ہے۔ ازراہِ اتفاق میں نے جی ایچ کیو، آئی جی ٹی اینڈ ای برانچ میں ان کے ماتحت کام کیا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وہ نہ صرف از سرتاپا پروفیشنل سولجر ہیں بلکہ نجیب الطرفین بھی ہیں۔ وہ اور ان کے بھائی جب امریکہ میں کسی پروفیشنل کورس پر تھے تو ان کی والدہ ء محترمہ نے ان کو جو خطوط لکھے وہ والدینی (Parental) پندو نصائح کا ایک حسین و جمیل مرقع ہیں اور ان کی عبارت کسی بھی طور کسی بڑے انشا پرداز کی تحریر کے مقابل رکھی جا سکتی ہے۔ مجھے وہ خطوط دیکھنے کا موقع ملا اور میں نے جنرل صاحب سے درخواست کی کہ ان کو کتابی صورت میں شائع ہونا چاہیے۔ پہلے تو وہ انکار کرتے رہے لیکن جب میرا اصرار بڑھا تو انہوں نے اجازت دے دی۔ یہ کتاب ’’آئینہ ء بصیرت‘‘ کے نام سے شائع کی گئی اور اس کی ایک کاپی آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ پاکستان میں ایسی عظیم ماؤں کی کمی نہیں اور نہ ہی ایسے سپوتوں کی کمی ہے جو ان ماؤں کی ابطان سے پیدا ہوئے۔ خدا ان کو غریقِ رحمت کرے وہ ہر لحاظ سے ایک عظیم اور مثالی پاکستانی ماں تھیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ جنرل امجد شعیب جب بھی کسی موضوع پر زبان کھولتے ہیں اس میں موضوع کے استدلال کے سلسلے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔۔۔ اسی طرح ائر فورس کے دو لیفٹیننٹ جنرل (ائر وائس مارشل) شہزاد چودھری اور شاہد لطیف بھی ہیں۔ ان کے علاوہ دو ستاروں کے ایک جرنیل میجر جنرل اعجاز اعوان بھی ان دنوں مختلف چینلوں پر بولتے نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں بھی برجستگی، روانی اور محکم دلائل کے انبار ہوتے ہیں۔ ہاں یاد آیا ایک ستارے والے جرنیل بھی اس میڈیا ریس میں شامل ہیں۔ بریگیڈیئر فاروق، بریگیڈیئر حارث، بریگیڈیئر اسد اور ان کے علاوہ اور بھی کئی بریگیڈئر صاحبان ہیں جن کے نام اس وقت کہیں تحت الشعور میں دبے پڑے ہوں گے۔ اتنا وقت نہیں کہ ان کو نکال کر شعور کے حوالے کروں۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ یہ سارے جرنیل وہ ہیں جو کسی سیاسی پارٹی لائن کو Tow نہیں کرتے۔ ان کی پارٹی پاک فوج (آرمی اور ائر فورس) ہے۔ پاک بحریہ کا ایک آدھ سینئر آفیسر بھی ماضی میں کسی چینل پر آکر شریک ہوا کرتا تھا لیکن پھر یکا یک ’’آف ائر‘‘ ہو گیا۔ خبرنہیں وجہ کیا تھی!

الیکٹرانک میڈیا کے کرتا دھرتا (چینل مالکان اور ان کے تعینات کردہ پروڈیوسرز) سینئر ملٹری آفیسرز (ریٹائرڈ) کی کھوج میں لگے رہتے ہیں۔جونیئر افسروں کی جانب زیادہ توجہ اس لئے نہیں دی جاتی کہ عوام میں شہرت کا تعلق رینک سے وابستہ ہے۔ رینک کی سنیارٹی، عقل و دانش کی سنیارٹی تصور ہوتی ہے۔ کسی ریٹائرڈ کرنل، میجر یا کپتان کو اس لئے سکرین پر نہیں لایا جاتا کہ عوام اس کے رینک کے جونیئر ہونے کے سبب اس کے استدلال اور اس کے دلائل کو بھی جونیئر سمجھتے ہیں یا میڈیا نے شائد یہ تاثر دے رکھا ہے کہ جرنیل خواہ ایک ستارے والا ہو یا چار ستاروں والا، اس کا کہا ہوا ہر لفظ اور ہر جملہ بھی انہی ستاروں کی روشنی سے جگمگاتا ہے۔ اور وہ جونیئر آفیسر کہ جن کے رینک کے ساتھ کوئی ستارہ نہیں ہوتا ان کی رائے میں روشنی کی ’’کوئی کرن‘‘ نہیں ہوتی!

لیکن یہ کالم تو میں نے از راہِ ’’تمہید‘‘ لکھا ہے وہ بات جو میں ان جرنیل صاحبان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ انشاء اللہ اگلے کالم میں!

مزید : کالم