گھریلو ملازمہ اور آیا کے ویزے پر آنے والی خواتین ابوظہبی میں شرمناک کام کرنے لگیں، پولیس نے بڑا گروہ پکڑ لیا

گھریلو ملازمہ اور آیا کے ویزے پر آنے والی خواتین ابوظہبی میں شرمناک کام کرنے ...
گھریلو ملازمہ اور آیا کے ویزے پر آنے والی خواتین ابوظہبی میں شرمناک کام کرنے لگیں، پولیس نے بڑا گروہ پکڑ لیا

  

ابوظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ابوظہبی کی عدالت میں جسم فروشی کے دھندے میں ملوث 4بنگلہ دیشی اور انڈونیشین خواتین کو پیش کیا گیا ، ان خواتین پر الزام ہے کہ وہ اپنے کفیلوں سے بھاگ کر جسم فروشی کا کاروبار کر رہی ہیں۔

پاکستانی برطانوی شہریت حاصل کرنے کے لئے سمگل شدہ لڑکیوں سے جعلی شادیاں کر رہے ہیں: بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف

خلیج ٹائمز کے مطابق ابوظہبی میں آیا اور گھریلو ملازماﺅں کے ویزے پر آنے والی خواتین میں کفیلوں سے بھاگ کر جسم فروشی کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی خواتین مبینہ طور پر اس دھندے میں مصروف ہیں جبکہ بنگلہ دیش افراد انہیں کرایے پر مکانات دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے ابوظہبی کی پولیس نے4گھریلو ملازماﺅں کے گروہ کو گرفتار کیا ہے۔ جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں خواتین پر کفیلوں سے بھاگنے اور جسم فروشی کے الزام عائد کئے گئے۔ خواتین نے کفیلوں سے بھاگنے کے جرم کو تسلیم کیا ہے جبکہ جسم فروشی کے الزام سے انکار کیا ہے۔ جبکہ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کفیل کے مظالم سے تنگ آکر پناہ کی تلاش میں گھوم رہی تھی، اسے پناہ دینے والے بنگلہ دیشی نے جسم فروشی پر مجبور کیا ہے۔

آدمی نے ہوٹل میں کمرہ بُک کروا کر انٹرنیٹ سے نوجوان جسم فروش لڑکی بُلالی ، چند منٹ بعد کمرے کی گھنٹی بجی، دروازہ کھلا تو ساتھ ہی زندگی کا سب سے زور دار جھٹکا لگ گیا، وہ لڑکی دراصل کون تھی؟ کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچ سکتا تھا کہ۔۔۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کفیلوں سے بھاگ جاتی ہیں اور انہیں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد فیلیٹ کرایے پر لے کر دیتے ہیں جہاں وہ اپنا کاروبار چلاتی ہیں ۔ وہ گاہگوں کی تلاش میں ابوظہبی کی گلیوں میں نکلتی ہیں اور گاہگ ملنے کے بعد اسے اپنے فلیٹ پر لے آتی ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 17مئی تک ملتوی کردی ہے۔

مزید : عرب دنیا