سی پیک سے زراعت کے شعبہ میں دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی :احمدجواد

سی پیک سے زراعت کے شعبہ میں دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی :احمدجواد

اسلام آباد (اے پی پی)ایف پی سی سی آئی کی ریجینل قائمہ کمیٹی برائے ہارٹی کلچر ایکسپورٹ کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کی تکمیل سے پاکستان اور چین کے درمیان زراعت کے شعبہ میں دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی جس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی ، زائد پیداوار کے حامل بیجوں ، کھادوں اور زرعی ادویات کی دستیابی سے زرعی شعبہ کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔

چین کی معیشت پاکستان کے مقابلہ میں کہیں بڑی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کے مقامی شعبہ کی ترقی اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر جامع پالیسی مرتب کی جائے تاکہ چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کے ذریعے شعبہ کی کارکردگی کوبڑھایا جاسکے۔احمد جواد نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت سے پاکستان کو چین کی بڑی منڈی تک آسان رسائی حاصل ہوگی اور اس سے ملکی برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور توانائی و بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کی ترقی میں مدد حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کی تکمیل سے پاکستانی کینو ، کھجور ، آم، امرود، کیلے ، سبز مرچ سمیت دیگر سبزیوں اور پھلوں کو بڑی منڈیوں تک آسانی سے رسائی حاصل ہو سکے گی جس سے ملکی برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی جبکہ منصوبے کی تکمیل سے پاک چین دوطرفہ تعاون میں اضافہ کی نئی راہیں کھلیں گی۔ اس کے علاوہ سی پیک کی تکمیل سے چین سے جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید بیجوں اور کھادوں کی آسان دستیابی سے زرعی شعبہ کی کارکردگی پر انتہائی مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

مزید : کامرس