شب برأت کی فضیلت!

شب برأت کی فضیلت!

حضور اکرم، نور مجسم،شفیع معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ شعبان میرامہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کا ۔شعبان المعظم جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے یہ بڑی برکتوں اور فضیلتوں کا ماہ مبارک ہے۔ جس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں شعبان ہی وہ مہینہ ہے جس میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ ماہ شعبان کو یہ فیصلت بھی حاصل ہے کہ اس میں ایک ایسی بابرکت رات موجود ہے جسے شب برأت کہتے ہیں یہ شعبان کی پندرھوں رات ہے۔ اس مبارک رات کے اس کے علاوہ نام یہ ہیں’’لیلۃبرأۃ‘‘ یعنی دوزخ سے بری ہونے کی رات ’’لیلۃ الرحمۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کی رات اور ’’لیلۃ الصک‘‘ یعنی دستاویزات کی رات بھی کہا جاتا ہے۔

اُم المومین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیؐنے فرمایا! اے عائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرھوں رات کو کیا ہوتا ہے۔ عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہوتا ہے۔ تو آقانے فرمایا، اس رات میں آئندہ سال بھرمیں پیدا ہونے والوں کا لکھا جاتا ہے اور دینا سے وفات پانے والوں کا بھی لکھ دیا جاتا ہے اس رات سال بھر کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اور سال بھر کا رزق نازل کیا جاتا ہے۔ ابن ماجہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھوں رات کو مشرکین اور بعض رکھنے والوں کے علاوہ ہر صاحب ایمان کو بخشش دیتا ہے۔

غُنیۃ الطالبین میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐنے فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں رات حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا ۔ اے اللہ کے رسول اپنا سر مبارک اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھئے حضور نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ رات ہے تو جبرائیل نے کہا کہ یہ ایسی رات ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ رحمت کے تین سو دروازے کھولتا ہے اور ایمان والوں کی بخشش فرمادیتا ہے۔ سوائے مشرک ، کاہن، زانی اور جادوگر کے کہ وہ جب تک اپنے گناہوں سے سچی توبہ نہ کریں۔ پھر حضور نے بہشت کے دروازوں کو کھلا ہوا پایا۔ اور یہ دیکھاکہ پہلے دروازے سے فرشہ ندا کر رہا ہے کہ اس رات رجوع کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے ۔ دوسرے دروازے کا فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اس رات سجدہ کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔ تیسرے دروازے والے پکارتا ہے کہ اس رات میں دعا کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے ۔ چوتھے دروازے کا فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ آج اللہ کا ذکر کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ پانچویں دروازے کا فرشتہ کہتا ہے کہ اللہ کے خوف سے رونے والوں کے لئے خوشخبری ہے چھٹے دروازے پر فرشتہ کہتا ہے کہ آج صاحب ایمان کے لئے خوشخبری ہے ساتویں دروازے کا فرشتہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ آٹھویں دروازے والا فرشتہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا تاکہ اس کی بخشش کردی جائے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ بہشت کے دروازے کب تک کھلے رہیں گے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ رات شروع ہونے سے صبح ہونے تک کھلے رہیں گے پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں آپ کی اُمت سے بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر گہنگاروں کو دوزخ کے عذاب سے نجات دیتا ہے ۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو جاگو اور نماز پڑھو اور دن کو روزہ رکھو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس رات کو غروب آفتاب سے بھی پہلے آسمان پر تجلّی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اس کی مغفرت کردوں۔ ہے کوئی رزق مانگنے والا وہ اسے رزق ادا کیا جائے اور یہ ندا اس طرح جاری رہتی ہے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔

اس رات کی مناسبت سے جو اعمال روایات میں موجود ہیں ، درج ذیل ہیں۔

سردار الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شب برأت میں تلاوت قرآن کثرت سے کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس کے والدین کے عذاب کو کم کردیتا ہے ۔خواہ وہ کافر، ملحد ہوں یاگمراہ ہی کیوں نہ ہوں۔

اس رحمتوں اور بخششوں بھری رات میں کثرت سے تلاوت سے کلام پاک ‘ آقائے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر کثرت سے درود شریف، صلوٰۃُ التسبیح اور دیگر نوافل ادا کیے جائیں تو کم سے کم عبادت کرنے سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔

*۔۔۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں جو شخص 8رکعت نماز ایک سلام کے ساتھ اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد11 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے اور دو رکعت کے بعد پوری التحیات پڑھے اس ترتیب کے ساتھ آٹھ رکعت مکمل کرے اس کا ثواب مجھے پہنچائے تو مَیں اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گی جب تک اس کی بخشش نہ کروا لوں۔

*۔۔۔ شعبان کے 14 ویں دن بعد عصر غروب آفتاب کے وقت40مرتبہلاَحَوْلَ وَلَاقْوَّۃَ اِلاّباللّہِ الْعَلِّیِ العظیم پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ بخشش دیئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن اس کی شفاعت پر 40آدمیوں کو دوزخ سے آزادی حاصل ہوگی۔

*۔۔۔ پندرھویں شعبان کی رات مسلمانوں کی ارواح اپنے گھروں میں جاتی ہیں اور اپنے وارثوں سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں کہ ہے کوئی ہمارا محسن جو ہمیں یاد کرے یعنی ایصال ثواب کرے۔ اگر تم ہماری حالت زار اور تونائی کو یاد کرو تو دُنیا کی تمام آسائشوں اور آرام بھول جاؤ ۔

اس رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقع میں تشریف لے جاتے ۔ اس لئے اس رات میں قبرستان جانا سنت ہے وہاں اپنے عزیزو ارقارب کی قبروں پر حاضری دیں اور فاتحہ پڑھیں۔

*۔۔۔ اس رات سورۃ یٰسین پڑھنے سے ترقی رزق ، درازعمر اور ناگہانی آفتوں سے حفاظت ہوتی ہے۔

*۔۔۔ صلوٰۃ الخیر۔اس رات میں 100 رکعت نوافل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد 10 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف70 مرتبہ نگاہ کرم فرماتا ہے ۔ اور ہر نگاہ کے بدلے اس کی 70 حاجتیں پوری فرماتا ہے جس میں ادنی ترین حاجت یہ ہے کہ اس کی بخشش کردی جاتی ہے۔

*۔۔۔ اس شب میں سورۃ الدخان(پارہ 25) کی جوشخص 7 مرتبہ تلاوت کرے گا اس کی اللہ تعالیٰ 70 حاجات دُنیا اور 70 حاجات آخرت قبول فرمائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1