100تارکین وطن زبردستی مراکش سے ہسپانوی علاقے میں داخل ہو گئے

100تارکین وطن زبردستی مراکش سے ہسپانوی علاقے میں داخل ہو گئے

میڈرڈ(این این آئی)ایک سو کے قریب تارکین وطن زبردستی سرحدی باڑ عبور کرتے ہوئے مراکش کی ریاستی حدود سے ہسپانوی علاقے میلِیّا میں داخل ہو گئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہسپانوی علاقے میلِیّا کی پولیس کا کہنا تھا کہ تین سو سے زائد تارکین وطن نیمراکش کی سرحد سے متصل ہسپانوی علاقے میلِیّا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ہسپانوی پولیس کے مطابق اس دوران زبردستی میلِیّا کے ہسپانوی علاقے میں داخلے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن اور ہسپانوی پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق تین سو سے زائد افریقی تارکین وطن نے منظم طور پر اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بیس فٹ اونچی باڑ عبور کرتے ہوئے زبردستی میلِیّا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران تارکین وطن نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا اور باڑ کے قریب آنے والے اہلکاروں کو ٹھوکروں اور گھونسوں سے نشانہ بھی بنایا۔ہسپانوی پولیس کے مطابق اس دوران قریب ایک سو افریقی تارکین وطن سرحدی باڑ پھلانگ کر میلِیّا میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہو گئے۔

اس علاقے میں ریڈ کراس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بیس فٹ بلند خار دار سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوششوں میں تین تارکین وطن زخمی بھی ہوئے، تاہم ان کے زخموں کی نوعیت معمولی ہے۔

وڈیو میں صوتی تبصرے میں کہا گیا کہ اس احمق انسان نے اپنی ریاست کے وعدوں پر اعتبار کر لیا تھا کہ قیدی بنا لیے جانے کی صورت میں ریاست اس کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اس کے بعد داعش کے ایک شدت پسند نے چاقو کے ذریعے مذکورہ شخص کا گلا کاٹ دیا۔وڈیو ٹیپ میں قتل کیے جانے والے شخص کی شناخت کی تصدیق اور کارروائی کی تاریخ معلوم نہیں ہو سکی۔روسی افواج بشار الاسد کی شامی اپوزیشن جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں شامی صدر کی سپورٹ کر رہی ہیں۔روسی وزارت دفاع کے مطابق ستمبر 2015 میں شام میں کرملن کی کارروائی کے آغاز کے بعد سے تقریبا 30 روسی فوجی اہل کار ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید : عالمی منظر