غیر ملکی کوچز کی کارکردگی پر پھر سوالیہ نشان لگ گیا

غیر ملکی کوچز کی کارکردگی پر پھر سوالیہ نشان لگ گیا

لاہور( افضل افتخار) پاکستان میں کوچز کی کارکردگی پر ہمیشہ ہی سوالات اٹھے ہیں او ر ہر کوچ کی ہی کارکردگی پر بات کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ ایک مرتبہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اب چیمپئنز ٹرافی کے بعد کوچنگ سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ہیڈ کوچ مکی آرتھر جو گزشتہ ایک سال سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور ابھی انہوں نے مزید ایک سال اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام کرنا ہے ان کا قومی ٹیم کے ساتھ دو سال کا معاہدہ ہے اس کے علاوہ فزیرتھراپسٹ شین ہینز اور فیلڈنگ کوچ اسٹیورکسن بھی ایک ایک سال سے کام کررہے ہیں اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بور ڈ نے فیصلہ کیا ہے اب ان کو ایک سال ہوگیا ہے اور اب چیمپنز ٹرافی کے بعد ان کی اب تک کارکردگی پر باریک بینی سے جائزہ لیا جائیگا کہ انہوں نے قومی ٹیم کے لئے ایک سال میں کیا کیا ہے اور انکی کارکردگی کیسی رہی ہے کیونکہ ٹیم کی ہار جیت میں کوچز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور اس حوالے سے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائیگا جبکہ اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ اس سے قبل بھی ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا جسے موخر کردیا گیا ہے مگر اب حتمی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی جائیگی جبکہ کہا جارہا ہے کہ اس حوالے سے اگر کچھ خامیاں نظر آئیں تو اس میں کچھ ردو بدل بھی کیا جاسکتا ہے ذرائع کے مطابق مکی آرتھر کی بطور ہید کوچ کارکردگی سے پاکستان کرکٹ بورڈ بہت خوش ہے اور ان کو اس سے قبل ہٹانے کی خبریں منظر عام پر آرہی تھی ان میں کئی صداقت نہیں ہے اس لئے ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیاگا لیکن چیمپنز ٹراٹی کے بعد اگر ان کی کارکردگی پر کوئی فرق پڑتا ہے تو اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکتاہے اس لئے ابھی تک کہا جارہا ہے کہ مکی آرتھر اپنے عہدے کی معیاد دو دو سال ہے اس کو پورا کریں گے اور ان سے اسی طرح سے کام لیاجاتا رہے گا پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام ان کے کام سے ابھی تک خوش ہیں اور ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں جبکہ چیمپنز ٹراٹی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کا طلعت علی کے ساتھ معاہدہ ختم ہورہا ہے اور ان کی تبدیلی کا امکان ہے اس حوالے سے سابق کرکٹرز کا تو یہ کہنا ہے کہ ہر ایک کا احتساب ہونا چاہئیے۔

اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ کام ہے کہ وہ دیکھے کہ کون کیسا کام کررہا ہے اگر اچھا کام کررہا ہے جس سے قومی کرکٹ ٹیم کو فائدہ مل رہا ہے تو اس کو شاباش ملنی چاہئیے مگر اگر وہ ٹھیک کام نہیں کررہا تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چائیے کیونکہ احتساب بہت ضروری ہے اور قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اچھی ہونا سب سے پہلے ہے اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ بہت اچھا ہے اور اس طرح مستقبل میں اس کا بہت فائدہ ہوگا اور ہر ایک اپنے کام کو محنت سے کرے گا جب اس کو معلوم ہوگا کہ اس کا احتساب کیا جاسکتا ہے اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار بھی ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی