ڈان لیکس غبارے سے ہوا نکل گئی ،نیا نوٹیفکیشن جاری ،ٹویٹ واپس

ڈان لیکس غبارے سے ہوا نکل گئی ،نیا نوٹیفکیشن جاری ،ٹویٹ واپس

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک228ایجنسیاں) ڈان لیکس سے متعلق وزارت داخلہ نے اعلامیہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے 29 اپریل کو ڈان لیکس کی مکمل 4 سفارشات کی منظوری دے دی ہے، کمیٹی نے ڈان اخبار، ایڈیٹر اور رپورٹر کا معاملہ اے پی این ایس کے سپردکردیا ہے۔وزارت داخلہ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اخبار،ایڈیٹر اور رپورٹرکے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے۔اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے متفقہ طور پرکہا کہ ر اؤتحسین نے پیشہ وارانہ انداز اختیار نہیں کیا اورغیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام وزارتوں اور ڈویڑنزنے وزیراعظم کے حکم پر عملدرآمد کر دیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق طارق فاطمی کو عہدے سے ہٹادیا گیاہے اور ڈان لیکس کا معاملہ ختم ہوگیاہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے ڈان لیکس کی کمیٹی کی متعلقہ سفارشات کی منظوری دے دی ہے ۔اعلامیہ کے مطابق سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید ، راؤ تحسین اور طارق فاطمی کے خلاف کارروائی کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو پہلے سے ہی عہدے سے الگ کردیا گیا تھا ۔ اعلامیہ میں پرویز رشید راؤ تحسین اور طارق فاطمی کے خلاف کارروائی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیٹی اس بات پر متفق تھی کہ راؤ تحسین اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں ناکام رہے۔ اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے ڈان کے ایڈیٹر اور رپورٹر کا معاملہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے سپرد کرتے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر اور رپورٹر کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ نئے نوٹیفکیشن میں بھی وہی سفارشات شامل ہیں۔ جو اس سے پہلے 29 اپریل کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں تھیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سلامتی سے متعلق امور پر پرنٹ میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے ، وزیراعظم کے حکم پر متعلقہ ادروں کی جانب س عمل درآمد کے باعث نیوز لیکس معاملہ حل ہوچکا ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے وزیر داخلہ چو دھری نثار کی ملاقات میں نیوز لیکس کو منظر عام پر لانے کے طریقے کا ر پر گفتگو کی گئی۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے وزیر داخلہ چو دھری نثار علی خان نے ملاقات کی جس میں ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کو منظرعام پر لانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور رپورٹ کے متعلق شراکت داروں کے تحفظات پر بھی گفتگو کی گئی واضح رہے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے وزیر داخلہ کی پانچ دنوں میں یہ چھٹی ملاقات تھی۔وزیراعظم محمد نوازشریف سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نوید مختار کی ملاقات ہوئی جس میں نیوزلیکس سمیت تمام امور افہام تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق ہوگیا ۔ وفاقی وزیرداخلہ نثار علی خان آج قوم کو پریس کانفرنس میں تمام معاملات پر آگاہ کریں گے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات ہوئی جس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نوید مختار اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی ملاقات کے آخری لمحات میں چو دھری نثار علی خان بھی پہنچ گئے اس ملاقات ڈان لیکس،پاک افغان سرحد پر سیکورٹی صورتحال سمیت بھارتی خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی ، ترجمان وزیراعظم ہاؤس مصدق ملک نے ملاقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم اورآرمی چیف کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی ۔ ڈان لیکس کے معاملہ افہام وتفہیم سے طے پا گیا ہے،دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی اتفا ق رائے کے ساتھ معاملات سلجھانے اور ملکر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق اور اب نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں بلکہ پرانے نوٹیفکیشن کی عبارت کو تبدیل کرکے اسی کو ہی پیش کیا جائے گا ، چودھری نثار کی پریس کانفرنس ملتوی کی گئی وہ آج اس حوالے سے گفتگو کرینگے

ڈان لیکس،وزیر اعظم ملاقاتیں

راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک 228ایجنسیاں) ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کا معاملہ طے پاگیا ہے، 29اپریل کو ڈان لیکس پر کیے جانے والا ٹوئیٹ واپس لیتے ہیں۔ ٹوئیٹ کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں تھا، پاک فوج جمہوری عمل کی مکمل حمایت کرتی ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ڈان لیکس پر کیے جانے والے ٹوئیٹ کو واپس لیتے ہیں،29اپریل کو کیے جانے والا ٹوئیٹ کسی سرکاری شخصیت یا دفتر کے خلاف نہیں تھا، ترجمان کے مطابق ڈان لیکس رپورٹ کے پیرا 18کی تمام شقوں کو وزیراعظم نے منظور کر لیا اس لیے اب 29اپریل کا ٹوئیٹ بے معنی ہو گیا ہے، پاک فوج آئین پاکستان کی عملداری کیلئے پرعزم ہے اور جمہوری عمل کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہماری پریس ریلیز کوبنیاد بنا کرفوج اورحکومت کو آمنے سامنے کھڑا کردیا گیا تاہم پاک فوج جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا دیگر پاکستانی کرتے ہیں ڈان لیکس کے معاملے پر حتمی نوٹی فکیشن وزارت داخلہ سے جاری ہونا تھا ، وزارت داخلہ نے پیرا 18 کے مطابق مکمل آرڈر کردیا جس پر ہم حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں ، پاک فوج ریاست کا مضبوط ادارہ ہے، آئین کی پاسداری کرتے ہوئے جو بھی ملک کے لیے بہتر ہوگا وہ کرتے رہیں گے،یہ ہماری خواہش نہیں تھی کہ ان افغان افواج کا نقصان ہو، وہ ہمارے بھائی ہیں ہم ان کا نقصان نہیں کرنا چاہتے،پاکستانی فوج پیشہ وارانہ فوج ہے، اگر پاک فوج کو لاشوں کی بے حرمتی کرناہوتی تو بھارتی فوجیوں کو واپس نہ بھیجا جاتا، احسان اللہ احسان کو ہیرو بنا کر پیش نہیں کیا جا رہا، ملکی قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہوگی، کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزا سنائی ہے،بھارت کی آئی سی جے میں اپیل پر دفترخارجہ جواب دے گا، ملٹری کورٹ کے فیصلے پر فوج کے اندر عمل جاری ہے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 29اپریل کو ڈان لیکس کی تحقیقات کے نتائج سے متعلق نوٹیفکیشن میڈیا پر آنا شروع ہوا ہماری سمجھ کے مطابق کیونکہ وزارت داخلہ اس معاملے کو دیکھ رہی تھی اس کا حتمی لیٹر وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونا تھا اور اس نوٹیفکیشن میں جو ہوا اس میں جو سفارشات تھیں وہ مکمل نہیں تھیں اور کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کے مطابق نہیں تھیں اس کے جواب میں ہماری طرف سے بھی ایک پریس ریلیز جاری ہوئی اس کو ٹوئیٹ بھی کیا گیا بعدازاں جو پریس ریلیز ہماری طرف سے جاری ہوئی اس کو بنیاد بنا اس دن سے لے کر آج تک فوج اور حکومت کو آمنے سامنے کھڑا کردیا گیا ،۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے ۔ ایسے حالات نہیں ہونے چاہئیں تھے جس میں ہر بندے نے میڈیا پر بھی اور باہر بھی ایک پوزیشن لے لی اور دوسائیڈیں بنالیں ۔ اس پریس ریلیز کا مقصد کسی بھی طرح سے کسی بھی ادارے یا شخصیت کے ساتھ سائیڈ بننا نہیں تھا بلکہ اس کی نامکمل گزارشات سے متعلق تھا ۔ آج وزارت داخلہ نے پیرا 18کے اندر جو سفارشات تھیں اس کا مکمل آرڈرکردیا ہے ۔ ہم حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف سفارشات کے مکمل حقائق سامنے لائے بلکہ جو غلط فہمیاں تھیں پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران ان کو بھی دور کیا ۔پاکستان کی فوج ریاست کا مضبوط ادارہ ہے ہم ادارے کی حیثیت سے باقی تمام اداروں کے ساتھ مل کر ملک کیلئے جو بہتر ہے وہ کرتے رہیں گے ۔ پچھلے دو ہفتوں میں جمہوریت پر بھی بہت بات ہوئی کیونکہ ایک ماحول بن گیا تھا کہیں بھی یہ آوازنہیں تھی کہ جمہوریت کے خلاف کوئی کارروائی ہورہی ہے یا ہونی چاہیے پاک فوج بھی جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا کہ ہر پاکستانی کرتا ہے ہم اس کی مضبوطی کے خواہاں ہیں اور آئین کے پاسداری کرتے ہوئے جو بھی ملک کیلئے بہتر ہے اس کی طرف ہم چلتے رہیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک بڑا حادثہ چمن بارڈر پر ہوا ملک میں مردم شماری ہورہی ہے تو چمن کے بارڈر پر دو منقسم گاؤں ہیں اس گاؤں کا آدھا حصہ افغانستان کی طرف ہے اور آدھا ہماری طرف ہے تو جب مردم شماری شروع ہوئی تو ہم نے افغانستان حکام کو دفترخارجہ اور فوجی ذرائع سے بھی آگاہ کیا کہ ہم اس گاؤں کے اپنے حصے میں مردم شماری کریں گے لیکن ہماری اطلاع کے باوجود تھوڑی سی مزاحمت ان کی طرف آتی رہی بلکہ ایک دو دن مردم شماری تاخیر کا شکار بھی ہوئی اس دن بھی جس دن فائرنگ کے تبادلے کا واقعہ ہوا ایف سی کے اہلکار جو مردم شماری کرنے والی ٹیم کی حفاظت کیلئے تعینات تھے وہ افغان پولیس کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے جارہے تھے کہ ہم نے یہ کام اس طریقے سے کرنا ہے تو ان کی طرف سے ہماری ٹیم پر فائرکردیا گیا ۔ اب جب فائر ہوگیا تو چونکہ افغانستان ہمارا برادرہمسایہ ملک ہے تو ہم دونوں کی افواج کے درمیان کسی بھی قسم کا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن جب ہمارے اوپر فائر ہوگیا اور ہماری طرف کے گاؤں کے جو گھر تھے ان میں انہوں نے مورچے بھی بنا لیے تو پھر اپنے دفاع میں ہم کو اس کا بھر پور جواب دینا پڑا جیسا کہ کمانڈر سدرن کمانڈنے بھی کہا کہ یہ ہماری کوئی خواہش نہیں تھی کہ افغانستان کی افواج کا کوئی نقصان ہو وہ ہمارے بھائی ہیں ہم ان کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے لیکن اگر ہمیں اس طریقے سے مجبور کیا گیا تو ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا اس طریقے سے جواب دیا جس کا ان کو نقصان اٹھانا پڑ ا۔ افغانستان کے ساتھ ہماری کوشش بہت عرصے سے جاری ہے کہ ہمیں بارڈر کو آرڈینیشن کیلئے کام کرنا ہے ۔ ہمیں اس طریقے سے بارڈر پر رابطہ رکھنا ہے تاکہ یہ کام اچھے طریقے سے ہوا اور ہمیں اس کا نقصان نہ اٹھا نے سے ایک الزام آیا کہ ہماری فوج نے ایل او سی کے پار ان کی طرف جاکر ان کے فوجی جوانوں کو مارا بھی اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاک فوج پیشہ وارانہ فوج ہے ۔ بہت سے ایسے واقعات ہوئے جن میں مقبوضہ کشمیر کی طرف سے غلطی سے بھارتی فوجی ہماری طرف آگئے ہیں ہم نے ان کو عزت کے ساتھ کوآرڈینیشن سے واپس بھیجا اگر پاک فوج نے یہی کرنا ہوتا تو اس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں کہ ہم کسی فوجی کی لاش کی بے حرمتی کریں خواہ وہ بھارت سے ہی کیوں نہ ہو ۔ اس سلسلے میں بھی ہم نے بھارت کو وضاحت دی ہے اس وا قعہ کے بعد علاج کیلئے بھارت جانے والے ہماری مریضوں کو ویزا دینے سے انکار کردیاگیا ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو مریض ہیں اور ان کو تکلیف ہوئی ہے دفترخارجہ کے ذریعے بھی ان کو دیکھیں کہ کیسے ہم ان کو سہولیات فراہم کرسکتے ہیں ان کا علاج پاکستان میں بہتر ہوجائے اور اگر پاکستان میں نہیں ہوتاکسی دوسرے ملک میں کرانا ہے اسکا بھی ہم خیال کریں گے ۔ آپریشن ردالفساد کے سلسلے میں بھی دو واقعات ہوئے جن کی تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے ۔ نورین لغاری کو ہم نے لاہو رسے بازیاب کرایا ۔ 19سال کی وہ بچی ہے پھر اس کا ہم نے میڈیا پر انٹرویو کرایا ۔ نورین لغاری دہشتگرد بننے جارہی تھی وہ دہشتگردتھی نہیں اس کو ورغلاکر اس کے کم عمر ذہن کی ذہن سازی کی گئی جو کہ اچھی نہیں تھی اور وقت پر ہم نے اس کو بچالیا ۔ اب اگر وہ میری بیٹی ہو یا آپ کی بیٹی ہو اور اس کو دہشتگردوں کے ڈیزائن کے مطابق استعمال ہونے سیہم بچالیں تو کیا اس کو ہم بالکل ایک دہشتگرد کی طرح سزادیں یا کہ ایک موقع دیں کہ وہ باہر جاکر جو باقی ہماری نوجوان نسل ہے اس کو بتاسکے کہ میں کیسے پھنسائی گئی تھی اور کیسے میں نے غلط استعمال کیا ۔ والدین کو بھی احساس ہواداروں کو بھی احساس ہوہم اپنے معاشرے میں اس کو اصلاح کیلئے استعمال کریں ناں کہ ہم اس کو سزا دیں ۔ سوات میں جب انتہاء پسندی پھیل رہی تھی تو وہاں کے کم عمر کے بچوں کو بھی طالبان اپنے پاس لے گئے تھے اور ان کی ذہن سازی کردی تھی ہم نے بہت سے بچوں کو اپنے پاس لیا ۔ اگر ان سب کو ہم جیل بھیج دیتے تو واپس آکر وہ اچھے شہری بنتے یا پاکستان کے خلاف کام کرتے ہم نے ان کو ڈی ریڈیکلائزیشن سنٹر میں ڈالا ان کی مثبت ذہن سازی کی پاکستانیت کا ان کو بتایا اور آج تین سے چار سال کا عرصہ گزر گیا ہے وہ اچھے شہری ہیں ۔ اپنے والدین کیلئے روزی کما کر لاتے ہیں سکول کالج جاتے ہیں اور پاکستان کی بہتری کیلئے اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔ نورین کیحوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری بچوں اور بچیوں کی یہ بتانے کیلئے کہ ان کو کیا خطرہہے اس کا ذہن کیسے خراب ہوا یہ بتانا ضروری تھا انہوں نے کہا کہ جہاں تک احسان اللہ احسان کا تعلق ہے اسکا اعترافی بیان جو پیش کیا گیا اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ پتہ چلے کہ یہ کس طریقے سے ہمارے خلاف استعمال ہوتے رہے ۔ انہوں نے کیا کیا کام خراب کئے اور کیا قوتیں ہیں جو کہ ان کو استعمال کررہی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے جو بھی ملک کا قانون ہے اس پر لاگو ہوگا اور اس کے ساتھ جو بھی قانون فیصلہ کرے گااس کے مطابق اس کو آگے لے کر چلایا جائے گا۔ ڈان لیکس کے حوالے سے جو نامکمل چیز تھی وہ آج مکمل ہو گئی وزارت داخلہ نے اس پر آج نوٹیفیکیشن جاری کر دیا پیرا 18مکمل اس کے اندر آگیا اب ایک انکوائری بورڈ بیٹھا اس کے بھی ممبران تھے انہوں نے ایک انکوائری کی اور اس کی سفارشات وزیر اعظم کو بھجوا دیں اس میں اگر یہ چار پانچ نام تھے وہ اس کے اندر آگئے انکوائری بورڈ کی جو بھی سفارشات تھیں اس کے مطابق وہ حل ہو گیا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے ایک انکوائری کی اور اس کے مطابق جو بھی نام تھے وہ دے دیے ان ذمہ داران کی جو تفصیل تھی وہ وزیر اعظم آفس میں چلی گئی انہوں نے اس پر اپنے احکامات دے دیے اب یہ کہنا کہ اس میں یہ نام نہیں ہے یا نہیں تھا انکوائری بورڈ نے اپنا کام بڑا سوچ سمجھ کے مکمل کر کے دیا اور جو اس کے مطابق سفارشات تھیں ان پر عمل ہو گیا ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انکوائری بورڈ نے سفارشات مرتب کیں وہ پیرا نمبر 18ہے اس کے پہلے جو پیرا گراف ہیں اس میں تمام باتیں ہیں جوحتمی اتھارٹی وزیر اعظم کو بھیجی گئیں انہوں نے سب دیکھ کر ایک آرڈر دیا جب حتمی اتھارٹی وزیر اعظم ہیں انہوں نے ایک آرڈر دیا اور اس پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کو ہم نے ملٹری کورٹ فیلڈ جنرل مارشل کے ذریعے سزا سنائی ہے اس کا عمل فوج کے اندر ابھی جاری ہے بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے درخواست کی ہے، اس سلسلے میں تفصیل دفتر خارجہ خود سے بیان کرے گا، باقاعدہ قانون کے دائرہ کار کے اندر رہ کر ثبوت کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور ملٹری کورٹ کے فیصلے کا فوج کے اندر کا عمل ا بھی جاری ہے ایسی کوئی درخواست اگر عالمی عدالت انصاف کی طرف سے حکومت پاکستان کو آتی ہے تو دفتر خارجہ اس پر مذید معلومات فراہم کرے گا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے تو دونوں طرف ہلاکتیں ہوتی ہیں ہمارا بھی نقصان ہوا قیمتی جانیں گئیں شہید ہوئے زخمی بھی ہوئے ظاہر ہے ہمارا فائر ہے تو ادھر بھی نقصان ہوا تعداد اہم نہیں ہے خواہ وہ ایک بندے کی جان گئی ہو یا 100بندوں کی جان گئی ہو دو ہمسائیہ ممالک جن کے تعلقات آپس میں اچھے ہیں اچھے ہونے چاہیں اور اچھے ہوں گے اس میں تعداد کی کوئی اہمیت نہیں ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا ہماری آپس میں کوارڈینیشن بہتر ہونی چاہیے تھی اس لیے ہم نے افغانستان سے کہہ رہے ہیں کہ بارڈر کوارڈینیشن کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹویٹ کمیونیکیشن کا ایک ذریعہ ہے اور آج کے دور میں کمیونیکیشن کا تیز ترین ذریعہ ہے ہوتی یہ پریس ریلیز ہی ہے انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے ہمارے تاریخی اور اچھے تعلقات ہیں اور آئندہ بھی اچھے ہوں گے ان کے آرمی چیف کا ایک بیان آیا ہے اپنے ملکی ماحول میں وہ بیان دے دیتے ہیں پاکستان خود مختار اور اچھی فوج کے ساتھ ملک ہے انہوں نے بیان دیا ہے کہ دفتر خارجہ نے اس کا جواب دے دیا ہے ایسے کوئی حالات خراب نہیں ہیں ان کے ساتھ بھی بارڈر کوارڈینیشن کا ہمارا میکانزم ہے اس کو آگے بھی لیکر چلیں گے آرمی چیف کی ایرانی وزیر خارجہ اور سفیر سے بھی ملاقات ہوئی انہوں نے کہا کہ پاکستان پچھلے دس پندرہ سال سے خاصے مشکل دور سے گزر رہے ہیں اس دور سے گزرتے ہوئے ہم اچھے دور کی طرف جا رہے ہیں یہ ایک آخری کوشش ہے ان تمام پاکستان دشمن عناصر کی کہ کسی طریقے سے جو پاکستان کی ترقی کی رفتار ہے اور جو امن کی صورتحال ہم نے پچھلے دس بارہ سال کی قربانیاں دے کر حاصل کی ہے کسی نہ کسی طرح اس کو روکنا ہے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایل او سی پر بھارت گرمی بڑھا رہا ہے اور افغانستان کی طرف سے تھوڑے سے حالات غلط فہمی کی بنیاد پر کشیدہ ہو رہے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ ایران اس میں شامل ہو رہا ہے تو برائے مہربانی سمجھیں کہ دشمن کا ڈیزائن کیا ہے ہم نے پچھلے دس بارہ سال میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں جو ہمیں اچھے مستقبل کی طرف لے کر جارہی ہیں ہمیں ان پر دھیان دینا ہے ہمیں پاکستان کو آگے لیکر جانا ہے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب پاکستانی کرکٹ بڑے شوق سے کھیلتے ہیں اور کرکٹ کے ذریعے بات کو سمجھ جاتے ہیں آج کل ٹونٹی ٹونٹی کا دور ہے ہم اس وقت 2017میں ہیں اور 2001سے ہم نے یہ جنگ کھیلنی شروع کی تھی ہم ٹونٹی ٹونٹی کے 17ویں اوور میں ہیں ہم نے اپنی اننگز بہت اچھی کھیلی ہے افواج پاکستان عوام اور حکومتی اداروں نے کھیلی ہے ہم نے وہ سکور بنا لیا ہے اتنی وکٹیں گرائی ہیں کہ ہمیں میچ جیتا ہوا محسوس ہو رہا ہے اگر اس اوور میں ہمارے اوپر بیرونی اور اندرونی دباؤ بڑھ جائیں اور ہم اس طریقے سے اپنی کارروائی کو آگے لیکر نہ بڑھ سکیں کہ ہم 20 ویں اوور میں میچ جیت لیں تو پچھلے 16-17اوورز کی کوشش بھی ضائع ہو جائے گی ہم نے اس کو اس دلجمعی جذبے اور خلوص سے لڑنا ہے تا کہ ہم 20ویں اوور سے پہلے ہی یہ میچ جیتیں اور آپ اس میں ہمارا ساتھ دیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میچ انشاء اللہ فتح کیطرف لیکر جائیں گے لیکن یہ نہیں ہو گا کہ کوئی گیند آپ کو بالکل ہی آسان پھینک دے گا گیند بھی مشکل آسکتی ہے فیلڈنگ بھی مختلف ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کا جذبہ جیتنے کا ہے تو انشاء اللہ ہم جیتیں گے۔

مزید : صفحہ اول