بھارت کے بعد ایران نے بھی پاکستان سے کلبھوشن یادیو تک رسائی مانگ لی

بھارت کے بعد ایران نے بھی پاکستان سے کلبھوشن یادیو تک رسائی مانگ لی

اسلام آباد(اے این این) بھارت کے بعد ایران نے بھی پاکستان میں گرفتار کیے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک رسائی کے لیے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے اور اس بات کا انکشاف کوئٹہ میں مقیم ایران کے قونصل جنرل محمد رفیع نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔جب کوئٹہ میں مقیم ایران کے قونصل جنرل محمد رفیع سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اس دورے کے دوران کلبھوشن یادیو کے بارے میں بھی کوئی بات ہوئی یا نہیں؟ تو ان کا کہنا تھا: کلبوشن یادیو کے حوالے سے سارے اجلاسوں میں کسی بھی قسم کی کوئی بات چیت عمل میں نہیں آئی۔تاہم انھوں نے بتایا کہ ایرانی حکومت نے کلبھوشن یادیو سے پوچھ گچھ کے لیے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے دستاویزات مانگی گئی تھیں اور ملاقات کے لیے درخواست کی گئی تھی تاکہ ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس حوالے سے ابھی تک بات چیت جاری ہے تاہم کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان ایران کے لیے ایک انتہائی اہم ہمسایہ ملک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سرزمین کو کسی طرح بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔یاد رہے کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا دعوی پاکستانی حکام نے گذشتہ سال کیا تھا۔پاکستانی حکام کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے۔پاکستانی حکام نے یہ دعوی کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک انڈین جاسوس ہیں اور وہ بلوچستان اور کراچی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں اور کارروائیوں میں مصروف تھے۔اس سے پہلے بھارت بھی یادیو تک رسائی کی درخواست دی تھی جسے پاکستان نے مسترد کر دیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول