بنی گالہ میں 20سال کے دوران تعمیرات ،سپریم کورٹ نے سی ڈی اے سے تفصیلات طلب کر لیں

بنی گالہ میں 20سال کے دوران تعمیرات ،سپریم کورٹ نے سی ڈی اے سے تفصیلات طلب کر ...

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے بنی گالہ از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے سی ڈی اے سے بنی گالہ میں گزشتہ20سال میں ہونے والی تعمیرات کی تفصیلات طلب کر لیں اورحکم دیا ہے کہ سی ڈی اے اور انتظامیہ عدالت کو آگاہ کرے کہ وہ اس وقت کیا کر رہے تھے،عدالت نے سی ڈی اے کو حکم دیا ہے کہ سی ڈی اے بنی گالہ میں غیرقانونی تعمیرات کو ریگولر کرنے کے حوالے سے بھی تجویز عدالت میں پیش کرے ۔ عدالت عظمیٰ نے سی ڈی اے کی رپورٹ پر بابراعوان سے بھی جواب طلب کرلیا ہے۔عدالت نے سی ڈی اے کو حکم دیا کہ سی ڈی اے بنی گالہ میں غیرقانونی تعمیرات کو ریگولر کرنے سے متعلق بھی تفصیلی جواب جمع کرا ئے۔کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کوئی پیچیدہ نہیں سادہ معاملہ ہے ہمیں قانون اور قواعد کو دیکھنا ہوگا، بابر اعوان نے کہا کہ سی ڈی اے نے جس علاقے کی نشاندہی کی ہے وہاں عمران خان کی رہائش گاہ ہے جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ از خود نوٹس دو وجوہات کی بناء پر لیا گیا ہے ایک وجہ یہ ہے کہ راول جھیل کا پانی آلودہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ بنی گالہ گارڈن پر تجاوزات بنائی گئی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے نے یہ نہیں رپورٹ کیا کہ روال ڈیم کا پانی کس طرح صاف کیا جاتا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں راول ڈیم کے پانی کو آلودہ ہونے اور بنی گالہ گارڈن کو تجاوزات سے بچانا ہے۔غیرقانونی تعمیرات کا معاملہ محکمہ خود دیکھے۔بابر اعوان نے کہا کہ سی ڈی اے کے مطابق درختوں کی کٹائی روکنے کیلئے دفعہ144 لگا ئی گئی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے اور انتظامیہ کے اقدامات مثبت نوعیت کے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ یہ اقدامات صرف کاغذوں کی حد تک ہیں،سی ڈی اے کے مطابق بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کا سروے کیا گیا ہے اور رپورٹ میں جنوبی علاقے کو فوکس کیا گیا ہے۔مشرقی ومغربی اور شمالی علاقوں کو رپورٹ میں نظرانداز کیا گیا ہے۔بنی گالہ روڈ پر سینکڑوں عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ بنی گالہ کے علاقے میں پلاٹ کیسے الاٹ ہوئے۔الاٹ شدہ زمین ریاست کی تھی کیا پلاٹس کی الاٹمنٹ نیلامی کے ذریعے ہوئی۔چیف جسٹس نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تسلیم نہیں کرتے کہ122عمارتوں کی تعمیر غیر قانونی طریقے سے ہوئی آپ کہتے ہیں زیادہ تعمیرات غیر قانونی ہیں،ہم نے دیکھنا ہے بنی گالہ میں پلاٹس کی الاٹمنٹ قانون کے مطابق ہوئی یا نہیں ،تعمیرات کا معاملہ اس کے بعد آئے گا۔دیکھنا ہوگا بنی گالہ میں جو تعمیرات ہو ئیں وہ مجاز اتھارٹی کی اجازت سے ہوئی یا بغیر اجازت کے ایک معاملہ بنی گالہ میں بونیٹکل گارڈن میں درختوں کی کٹائی،دوسرا مرحلہ چار دیواری کا ،تیسرا مرحلہ راول ڈیم کا پانی جڑواں شہروں کو فراہم کرنا ہے۔بنی گالہ میں تعمیرات کا معاملہ کس ادارے کے اختیار میں آتا ہے۔یہ کارروائی کسی کے خلاف نہیں،اگر سی ڈی اے نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا اور ادھوری رپورٹ دی تو اس پر ماہرین مقرر کرسکتے ہیں۔بابراعوان نے کہا کہ سی ڈی اے کی زمین پر بنی گالہ میں شادی حال بنے ہوئے ہیں۔اس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ کیا اس کی الاٹمنٹ غیر قانونی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راول ڈیم کے قریب بنے گھروں کے سیوریج کا کہا جاتا ہے۔اگر ان لوگوں نے سیوریج کا انتظام کیا ہے تو پھر بھی سیوریج کا گندہ پانی راول ڈیم کے پانی کو آلودہ کرتا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو تعمیرات بنی گالہ میں ہو ئیں اس کی نگرانی کس ادارے نے کرنی تھی جس نے جو چاہا من مرضی سے تعمیر کرلیا۔ ظفرعلی شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ راول ڈیم کے کناروں سے دو کلومیٹر تک تعمیرات پر پابندی ہے۔راول ڈیم کی دو کلومیٹر کی حدود نیشنل پارک میں آتی ہے اس پر تعمیرات ہوچکی ہیں جو تعمیرات ہوئی ہیں ان میں سپریم کورٹ وزیراعظم آفس،کنونشن سینٹر کی عمارتیں بھی دو کلومیٹر کی حدود میں آتی ہیں،یہ عمارتیں بھی غیرقانونی طریقے سے تعمیر ہوئی ہیں،دو کلومیٹر کی حدود میں تعمیرات پر سی ڈی اے حکام رشوت لیتے تھے،سی ڈی اے نے 122گھروں کو غیر قانونی کہا جب کہ یہ گھر سی ڈی اے افسر وں کو رشوت دے کر بنوائے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رشوت دینے کی بات پر ہم سب کو شرمندگی بھی ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہری چاہے اسلام آباد کا ہو یا پنڈی کا اس کو سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،عدالت حکم دے سکتی ہے کہ سی ڈی اے میونسپل حدود میں توسیع کی جائے تاکہ سی ڈی اے ٹیکس وصول کرے اور بنیادی سہولیات عوام کو فراہم کرے۔سی ڈی اے ٹیکس وصول کرے نقشے منظور کرے اور اس کے بعد لوگوں کو سروس فراہم کرے۔سی ڈی اے اس حوالے سے پرپوزل پلان دے کر وہ توسیع چاہتی ہے یا نہیں۔سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بنی گالہ میں سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے90کی دہائی میں تعمیرات شروع کیں تو سی ڈی اے نے کارروائی کی۔ڈاکٹر قدیر خان نے عدالت عالیہ پنڈی بنچ سے تعمیرات کی اجازت لی جس پر سی ڈی اے نے کارروائی روک دی،اب وہاں 220کے قریب گھر تعمیر ہوچکے ہیں جس سے سی ڈی اے کو کوئی ٹیکس وصول نہیں ہوتا۔جسٹس عمرعطاء بندیال نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے میونسپل حدود میں توسیع کیوں نہیں چاہتا۔سی ڈی اے کی زمین پر جو شادی حال بنے ہیں انکی اجازت کون دے رہا ہے اور راول ڈیم کے اردگرد جو تفریحی علاقے ہیں جہاں ہوٹلز اور پارک ہیں یہ زمین کس کی ہے۔راول ڈیم کو پنجاب حکومت کنٹرول کرتی ہے لیکن اس کی زمین سی ڈی اے کی ہے۔

مزید : صفحہ اول