کابل انتظامیہ کی امریکہ سے بلیم گیم ،افغانستان میں امن کا قیام کٹھن ضرور نا ممکن نہیں!

کابل انتظامیہ کی امریکہ سے بلیم گیم ،افغانستان میں امن کا قیام کٹھن ضرور نا ...

کابل سے ٰخصوصی تجزیہ سہیل چوہدری

افغان میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں افغانستان کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان فرانز مائیکل نے اپنے خطاب میں یہاں قیام امن کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ، انہوں نے طالبان سے تشدد بند کرنے کا مطالبہ تو کیا لیکن صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہد ہ ایک مثبت پیشرفت ہے اس سے اشارہ ملتاہے کہ افغانستان میں قیام امن ممکن ہے لیکن اس سے یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ امن کا قیام ایک کٹھن مسئلہ ہے اور یہ آسانی سے آنے والا نہیں ، امن کے قیام سے ماضی میں کیا ہوا اور آئندہ کے اقدامات کے حوالے سے بہت سے سوالات موجود ہیں کہ ٓائندہ کیا ہوگا ؟ ان کے بیانات سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے حوالے سے بے یقینی کا تاثر بھی ٹپکتا ہے اور لگتاہے کہ اس ضمن میں ماضی کی کوششوں کے حوالے سے بھی ان کے کچھ نہ کچھ تحفظات موجود ہیں درحقیقت ایسا لگتاہے کہ کابل انتظامیہ مغرب سے قوت اور پیسے لے کر اپنی اور اپنے حواریوں کو تو توانا کررہے ہیں جبکہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سے بلیم گیم کے ذریعے پہلوتہی کررہے ہیں حکمت یار سے ڈیل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ افغانستان میں پائیدار قیام امن افغان طالبان سے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے ، تاہم لگتاہے کہ افغانستان بلیم گیم کے اپنے بیانیہ میں ایران کو بھی شامل کرنا چاہتاہے ، شائد اسی لئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ کابل سے فوری بعد ہی ایرانی آرمی چیف نے ایک غیر مناسب بیان داغ دیا دوسری جانب نیٹو نے برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجے کیونکہ افغان طالبان کابل انتظامیہ پر چڑھائی کیئے ہوئے ہیں ، دوسری جانب افغانستان نے پاکستان سے اپنے بارڈر پر فائرنگ کرکے پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالہ سے اپنے آپ کو مزید مشکلات کا شکار کرلیا، اس سازش کے پیچھے قندہار پولیس سربراہ جنرل رازک ہی لگتے ہیں ،تاہم افغان حکومت نے جیولاجیکل سروے کی تجویذ پر اتفاق کیا ہواہے اگرچہ اس صورتحال کے باعث پاکستان نے چمن بارڈر بند کیا ہے لیکن اس کے باوجود افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق بیمار افراد کو خصوصی استثنیٰ دیا گیا ہے ، دلچسپ امر یہ ہے کہ افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے میڈیا کے وفد کو سنگل انٹری ویزہ دیا گیا لیکن پاکستان افغانیوں کو نہایت فراخدلی سے ویزے دے رہاہے صرف کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے ہر روز 3ہزار ویزے جاری کئے جاتے ہیں شائد یہ تعدداد دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے تقابل میں سب سے زیادہ ہے میڈیا کے وفد نے مشکل ترین حالا ت میں کابل کا دورہ کیا لیکن انہیں افغان صدر اشرف غنی کے رویہ سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا انہیں چار دن انتظار میں رکھا گیا اور ملاقات کیلئے وقت نہیں دیا گیا، امریکی صدر ٹرمپ بھی طالبان اور داعش کو افغانستان میں حتمی طورپر شکست دینے کے خواہاں ہیں لیکن یہ کام کیسے کرنا ہے شائد اس کے لائحہ عمل کے حوالے سے کوئی ٹھوس پالیسی ان کے پاس بھی نہیں ہے،کابل کے دورے سے واپسی پر پاکستانی میڈیا وفد افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات نہ ہونے پردل گرفتہ تو ضرور ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری آنے کے حوالے سے پرامید ضرور ہیں کیونکہ افغان قیادت نے گلے شکوے تو ضرور کیے لیکن پاکستان سے تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا،بالخصوص سابق افغان صدر حامد کرزئی امن کے سفیر کے طور پر سامنے آئے ہیں ان کے کردارکے حوالے سے گزشتہ روز افغان میڈیا میں بھی نمایاں طور پر ذکر دیکھا گیا ہے،کابل دورے سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کی راہ میں مشکلات ضرور ہیں لیکن دونوں طرف سے نیک خواہشات بھی موجود ہیں اس لیے مختلف سطحوں پر بات چیف کا عمل اور روابط جاری رہیں تو صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔

مزید : تجزیہ