’’ میرے رشکِ قمر ۔۔‘‘

’’ میرے رشکِ قمر ۔۔‘‘
 ’’ میرے رشکِ قمر ۔۔‘‘

  


جمہوریت کی قبر کھودنے والے سیاسی اور میڈیائی گورکنوں کے اپنے گھر میں صف ماتم بچھ گئی، دس مئی کا سورج طلوع ہوا تو ان کی امیدیں عروج پر تھیں، اخبارات کی شہ سرخیاں بتار ہی تھیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مشہور زمانہ ٹوئیٹ پر وزیراعظم تشویش اور ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ سویلین بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یاروں نے گرہ لگائی کہ فوج تو نہیں جاتی، ہمیشہ حکومت ہی جاتی ہے۔ نو مئی کی رات کو ہونے والے تجزیوں میں غیر جانبداربلکہ حکومت کے حامی سمجھے جانے والے بھی کہہ رہے تھے کہ وہ جو سب اچھا کی رپورٹیں دیتے تھے، وہ غلط تھے، معاملات بہت خراب ہو چکے ہیں ۔ ایسے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجواہ نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے ہمراہ وزیراعظم نوا ز شریف سے ملاقات کی، یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی اورا س کے بعد آئی ایس پی آر سے ایک پریس ریلیز جاری کر دی گئی اور کہہ دیا گیا کہ انتیس اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ٹوئیٹ کا ہدف کوئی حکومتی ادارہ یا شخص نہیں تھا۔

اگر ہم انتیس اپریل کے ٹوئیٹ کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز کرتے ہوئے صورتحال کو دیکھیں تو یہ صورتحال کسی طور بھی اسٹیبلشمنٹ کے لئے شکست کے مترادف نہیں ہے۔اسٹیبلشمنٹ، اس وقت وزیراعظم کے بہت ہی قریبی، بااعتماد اور جانثار ساتھی پرویز رشید کی قربانی لے چکی ہے۔ جب حالات حاضرہ کی کڑاہی میں اٹھنے والا ابال ٹھنڈا ہوجائے گاتو مورخ لکھے گا کہ پرویز رشید نے پرویز مشرف کے دور میں بھی جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں اور جب اس کی قربانیوں کے نتیجے میں اس کی اپنی حکومت قائم ہوئی تواس نے ایک مرتبہ پھر جمہوریت کے لئے ہی قربانی دی۔ صحافت کا معمولی سے معمولی طالب علم بھی اس استدلال سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ وزیر اطلاعات کا کام کسی بھی خبر کی اشاعت کو رکوانا ہوتا ہے۔ طارق فاطمی کو بھی عہدے سے الگ کر دیا گیا ،پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کے خلاف کارروائی کا بھی از سر نو عندیہ دے دیا گیا،یقینی طور پر پاک فوج اے آر وائی ٹی وی چینل یا پاکستان تحریک انصاف نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ایک صحافی ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے بار بار مریم نواز شریف بارے سوال کر رہا تھا تو ان کے جواب بتا رہے تھے کہ فوج کی شریف خاندان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ فوج کی اجتماعی دانش میں یہ بات جگہ بنا گئی ہے کہ حاضر سٹاک میں دستیاب متبادل سیاسی قوتوں آصف علی زرداری اور عمران خان کو دیکھتے ہوئے ان پاس موزوں ترین راستہ میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا قائم رکھنا ہی ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ فوج کسی نئی قیادت پر کام کر سکتی ہے مگرشائد میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں عمران خان کی صورت میں یہ آخری فصل بھی اگائی اور کاٹی جا چکی ہے۔

یہاں سب سے اہم ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج مختلف چینلوں پر بیٹھ کے اپنے تئیں اس کی ترجمانی کرنے والوں سے جان چھڑوا لے، انہیں ایک شٹ اپ کال دی جانی از حد ضروری ہے۔ ان میں میڈیا کے خود ساختہ دانشوروں کے ساتھ ساتھ فو ج کے ریٹائرڈ ہونے کے بعدبے کار افسران بھی شامل ہیں ۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے پاکستانی نام اور شہریت کے حامل صحافی نے سوال اٹھایا، ’ کیا تصادم کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے؟‘ اور اس کے ساتھ ہی بھارتی سٹیل کنگ جندال کی وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے ایشو کا حوالہ دیا۔ کوئی بھی عقل اور منطق رکھنے والا شخص انتیس اپریل کی ٹوئیٹ کی واپسی کے مثبت اثرات کی نفی نہیں کر سکتا ، ہاں، دوسرے ایشوز کے ساتھ ملا کے فتنہ گری ضرور کی جا سکتی ہے، پھپھے کٹن کا کردار ضرور ادا کیا جا سکتا ہے۔ یہاں بھی مجھے یہی کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج اور پاکستان کی حکومت کے پاس قومی ایشوز کو دیکھنے والی عینکیں الگ الگ ہیں اور جب فوج کے سربراہ کے پاس بھی حکومتی عہدہ تھا تو وہ بھارت سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی منزل پر پہنچنے کے لئے چناب فارمولے سمیت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بہت الگ راستے تجویز کر رہا تھا لہٰذا پاک بھارت تعلقات پراسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے اختلاف رائے کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لینا چاہئے اوراس کے ذریعے ہمیں ابتری کی بجائے بہتری کی راہ تلاش کرنی چاہئے۔ فوج بھی اس امر سے انکار نہیں کر سکتی کہ گذشتہ دو سے تین عشروں میں مسئلہ کشمیر ہمیشہ نواز شریف حکومت میں ہی اجاگر ہوا، مجھے اس وقت یقینی طور پر نوے کی دہائی کے آغاز میں یوم یک جہتی کشمیر سے لے کر وانی شہید کی قربانی تک اونچ نیچ کی داستان تاریخوں کے ساتھ دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔

دس مئی 2017ء کی دوپہر ہونے والی تاریخ ساز پیش رفت نے ایک اور بات ثابت کر دی ہے، میں اس بات سے پہلے لفظ تاریخ ساز کی ضرور وضاحت کروں گا، ماضی میں ایسا کب ہوا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اپنی غلطی تسلیم کی ہو اور اسے واپس لیا ہو، دس مئی کو ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے، ایک نئی روایت کا احیاہوا ہے جو آنے والے دنوں میں پاکستان کے لئے بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے اور یہاں جو بات ثابت ہوئی ہے اس کے لئے مجھے جناب عمران خان کے ٹوئیٹ کا حوالہ دینا ہے، وہ یہاں پاک فوج سے بھی فاصلے پر کھڑے نظر آتے ہیں حالانکہ اگر آپ اپوزیشن میں ہوں تو آپ بہت آسانی کے ساتھ حکومت کے مقابلے میں فوج کے ہم نوا ہو سکتے ہیں مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کی فوج اور پاکستان کی حکومت ایک ہی صفحے پر آ گئی ہیں اور اس صفحے پروہ اپنے لئے کوئی جگہ نہیں پاتے، وہ حاشیوں میں چلے گئے ہیں۔ ڈان لیکس کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر فوج ہی تھی اور ہے لیکن جب عمران خان فوج کے اظہار اطمینان کے باوجود سوالات اٹھاتے ہیں تو وہ ایسی پھپھے کٹن نظر آتے ہیں جو خود کو ماں سے بھی زیادہ بچوں کی ہم درد ظاہر کرنے کی خاطر ٹسوے بہا رہی ہو۔ دس مئی نے معاملات کو انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ اگلے برس گیارہ مئی تک لے جانے کی یقین دہانی کروا دی ہے ۔ اب سیاسی ، جمہوری حکومت کو روایتی اسٹیبلشمنٹ کی بجائے ایک نئی بنتی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کا سامنا ہے۔یہ اسٹیبلشمنٹ بہت برس پہلے پاکستان کے ایک وزیراعظم کو موت کی سزا دے چکی ، ابھی کچھ برس پہلے ایک وزیراعظم کو گھر بھیج چکی۔

مجھے کہنے دیجئے کہ پاکستانیوں کی بڑی اور بھاری اکثریت اپنی فوج سے محبت کرتی ہے، وہ بھارت جیسے مکار اور کینہ پرور دشمن کے مقابلے میں اپنی فوج کو اپنے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت سمجھتی ہے مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فوج کے اندر ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاٗء الحق اور پرویز مشرف پیدا ہوتے ہیں۔ فوج کے جرنیل اپنی وردی میں ہی اچھے لگتے ہیں مگر جب وہ اس کے اوپر شیروانی پہننے کی کوشش کرتے ہیں تو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔سیاستدانوں نے ہر دور میں اپنی فوج کی ضروریات پوری اور مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے اور میری رائے میں جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجواہ نے بھی پاک فوج کے عمومی اور قومی مفاد میں ایک سیاسی اور آئینی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی راہ پر جا کر بہترین فیصلہ کیا ہے جس کے مثبت اثرات سے صرف قوم ہی نہیں بلکہ ہماری فوج بھی فیض یاب ہو گی۔ اس صورت حال کا نقصان اگر ہو گا تو صرف اور صرف اس اقلیتی مخلوق کو ہو گا جو ہر دور میں پاکستان میں عدم استحکام چاہتی ہے۔ پاکستانی قوم کا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ مارشل لاؤں کے دوران جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد سے عدم استحکام کا شکار رہتی ہے اور جب جمہوریت بحال ہو جاتی ہے تو کچھ کاسہ لیسوں کی وجہ سے اس نظام کو بھی مستحکم نہیں ہونے دیا جاتا یوں مارشل لاء ہو یا جمہوریت، دونوں ادوار میں سویلین نیشن اور آرمڈ فورسز دونوں ہی غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں مگرآج دس مئی 2017 کی شام یہ تحریر لکھتے ہوئے میں گنگنا سکتا ہوں ،

’’ میرے رشک قمر، تو نے پہلی نظر،

جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

برق سی گر گئی،کام ہی کر گئی

آگ ایسی لگائی مزا آ گیا‘‘

مزید : کالم