سستی روٹی اتھارٹی سکیم خاتمہ کے کئی سال بعدتک فعال رہنے کا انکشاف

سستی روٹی اتھارٹی سکیم خاتمہ کے کئی سال بعدتک فعال رہنے کا انکشاف

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید کی سربراہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کا اجلاس، سستی روٹی سکیم ختم ہونے کے کئی سال بعد بھی سستی روٹی اتھارٹی فعال رہنے کا انکشاف، کمیٹی حیران، افسران پر شدید اظہار برہمی، سیکرٹری انڈسٹریز کو ماہانہ اخراجات کی تفصیلات30روز میں پیش کرنیکی ہدایت، آڈٹ حکام کو سستی روٹی سکیم سے متعلق تمام امور اور آڈٹ اعتراضات اور بے ضابطگیوں کی رپورٹ فراہم کرنیکی ہدایت، سکیم کے آغاز بڑے پیمانے پر فرنیچر و دیگر سامان کی خریداری میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر تحقیقات مکمل کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنیکی ہدایت کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الر شید کی سربراہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کا اجلاس ہوا جس میں ممبر سبطین خان، وحید اصغر ڈوگر، آصف با جو ہ، ڈاکٹر وسیم اختر، میاں رفیق جبکہ محکمے کی جانب سے سیکرٹری سمال انڈسٹریز کارپوریشن ڈاکٹر مجتبیٰ پراچہ، ایم ڈی سمال انڈسٹریز کارپوریشن نعیم خالد سلیم اور ایڈیشنل سیکرٹری سمال انڈسٹریز کارپوریشن پیش ہوئے۔ اجلاس میں سستی روٹی سکیم سے متعلق آڈٹ پیرے زیر بحث آئے جس میں انکشاف ہوا کہ سستی روٹی سکیم ختم ہونے کے بعد کئی سالوں بعد بھی سستی روٹی اتھارٹی فعال رہی جس پر کمیٹی نے شدید حیرانگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر چیرمین کمیٹی میاں محمود الر شید نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ غریب کے حق کو مال غنیمت جان کر لوٹا جا رہا ہے، بغیر منصوبہ بندی سے شروع ہونے والے منصوبے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے الٹا وبال جان بن جاتے ہیں، ناقص پالیسیوں اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے کرپٹ افراد کی چاندی ہو جاتی ہے آخر کب تک لوٹ مار کا یہ بازار گرم رہے گا، کب عوام کے حقوق کا تحفظ اور انکو حقیقی ریلیف دینے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ میاں محمود الر شید نے مزید کہا کہ ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سستی روٹی سکیم شروع کرتے وقت فرنیچر اور دیگر سامان کی خریداری میں بھی کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ جس پر چیرمین کمیٹی میاں محمود الر شید نے سیکرٹری انڈسٹریز کو سستی روٹی سکیم کے تحت ماہانہ اخراجات کی تفصیلات30روز میں پیش کرنے جبکہ آڈٹ حکام کو سستی روٹی سکیم سے متعلق تمام امور اور آڈٹ اعتراضات اور بے ضابطگیوں کی رپورٹ فراہم کرنیکی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں سستی روٹی سکیم کے آغاز بڑے پیمانے پر فرنیچر و دیگر سامان کی خریداری میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر سیکرٹری انڈسٹری کو 30روز میں تحقیقات مکمل کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنیکی ہدایت کی گئی جبکہ سستی روٹی سکیم میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر مکمل رپورٹ60روز میں پیش کرنیکی ہدایت کی گئی۔

مزید : صفحہ آخر