زراعت میں جدیدطریقوں کو اپنایا جا رہا ہے، سکندر حیات بوسن

زراعت میں جدیدطریقوں کو اپنایا جا رہا ہے، سکندر حیات بوسن

لاہور )ایجوکیشن رپورٹر) وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ حکومت معاشی ترقی میں زراعت کے شعبے سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہے تاکہ چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور کے ذریعے زرعی ایکسپورٹ میں گراں قدر اضافہ کیا جا سکے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل سائنسز کے زیر اہتمام ’گرین پنجاب اور سی پیک‘ کے موضوع پرپرل کانٹی نینٹل میں منعقد ہونے والی زرعی بزنس سے متعلق ایک روزہ قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ،تقریب میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر، ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر سلیم حیدر، صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عبدالباسط، چئیرمین پاکستان کارپس پروٹیکشن ایسوسی ایشن سعد اکبر خان، ایڈیشنل سیکرٹری ایگریکلچر پنجاب ڈاکٹر غضنفر علی، زراعت کے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین ، اساتذہ اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکندر حیات بوسن نے کہا کہ ملک میں ترقی ، معاشی خوشحالی، غربت کے خاتمے اور دیہی زندگی میں بہتری لانے کا اہم ترین ذریعہ زراعت کا شعبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریب 8 لاکھ ایگر بزنس فرمز پاکستان میں کام کر رہی ہے جنہیں سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے کہا کہ پاکستان میں ایکسپورٹ بڑھانے کی خاصی صلاحیت موجود ہے کیونکہ پاکستان میں لیبر ابھی بھی سستی ہے۔ تاہم ہمیں بین الاقوامی مارکیٹ میں اعلیٰ معیار کی اشیاء سستے داموں فراہم کرنی ہیں جس کی بدولت ہماری ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ صدر لاہور چیمبر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان کی 80 فیصد صنعتیں زراعت کے کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ سعد اکبر خان نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کی ترقی اور پانی سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری طور پر ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کسانوں کی معاونت کرنے پر وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : صفحہ آخر