ملکی مصنوعات کے مقابلہ میں غیر ملکی اشیاء کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے: امجد علی جاوا

ملکی مصنوعات کے مقابلہ میں غیر ملکی اشیاء کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ...
ملکی مصنوعات کے مقابلہ میں غیر ملکی اشیاء کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے: امجد علی جاوا

  

لاہور(اسد اقبال)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر امجد علی جاوا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کر نے کے لیے پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر 25فیصد ریگو لیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے جبکہ ٹیکس دہندگان پرمزیدبوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے اور بجلی بحران کے خاتمے کے لیے وعدے نہیں عملی طور پر بھی اقدامات اٹھائے جائیں اور ایسا بجٹ پیش کیا جائے جس سے انڈسٹریل سیکٹر کی تر قی اور غریب کو حقیقی معنوں میں ریلیف سے ہمکنار کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز "پاکستان بجٹ تجاویز"میں کیا ۔ امجد علی جاوا نے کہا کہ ملک میں غیر رجسٹرڈ کاروبار کر نے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں جب تک نہیں لایا جاتا تب تک ملکی معیشت بہتر نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کو ئی کمی نہیں یہاں پر ہر قسم کی انڈسٹری کام کر رہی ہے تاہم ایکسپورٹرز کی جانب سے پاکستان میں تیار ہونے والی اشیاء کے مقابلہ میں غیر ملکی اشیاء درآمد کی جاتی ہے جس نے ملکی انڈسٹری کا بیڑہ غرق اور فارن ایکسچینج کا گراف نیچے گر گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکو مت پاکستانی مصنوعات کے مقابلہ میں درآمد کی جانے والی اشیاء پر 25فیصد ریگو لیٹری ڈیو ٹی نافذ کر ے ۔امجد علی جاوا نے کہا کہ حکومت بجٹ میں توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پالیسی میکرز آبی ذخائر کی تعمیر، تھرکول سے توانائی کے حصول ،پاکستا ن ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل اور ایل این جی ٹرمینل کے قیام کے لیے موزوں فنڈز مختص کرے۔ وفاقی بجٹ میں داسو پاور پراجیکٹ، دیامیر بھاشا ڈیم، منڈا ڈیم، گومل زیم ڈیم، ستپارہ پاور پراجیکٹ اور کرم تنگی ڈیم کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت کی وجہ سے بالخصوص پنجاب کی صنعتوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ہے لہذا امید ہے کہ پالیسی میکرز بجٹ میں پاک ایران گیس پائپ لائن کی جلد تکمیل اور ایل این جی ٹرمینل کے قیام کے لیے مناسب فنڈز مختص کرے گی تاکہ صنعتی پہیے کو رواں دواں رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، کوئلے، توانائی، زراعت، لائیوسٹاک، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کوبجٹ میں ریلیف دے۔

مزید : صفحہ آخر