ڈان لیکس کے حقیقی مجرم کو سزا ملنے تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، خورشید شاہ

ڈان لیکس کے حقیقی مجرم کو سزا ملنے تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، خورشید شاہ

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں تناؤ کے حوالے سے فوری قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اعتماد میں لیں،ہم وعدہ کرتے ہیں کہ گونوازگو کے نعرے نہیں لگیں گے،ڈان لیکس کے حقیقی مجرم کو جب تک سزا نہیں ملے گی ،مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ اس میں براہ راست وزیراعظم ہاؤس ملوث ہے،پاکستان پیپلزپارٹی پانامالیکس کے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کو نہیں مانتی،پیپلزپارٹی آئی ایس پی آر کے ٹوئیٹ کے ساتھ نہیں اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک کی سکیورٹی کے ساتھ کھیلے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خطرناک حد تک خراب ہوگئے ہیں،افغانستان نے مردم شماری کرنے والوں پر حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے حملہ کیا یہ مسئلہ نہیں کہ کس کے کتنے لوگ جاں بحق ہوئے،ہمارے ایران کے ساتھ آج تک ایسے حالات نہیں ہوئے جو آج ہیں۔بدقسمتی سے ہمارا وزیر خارجہ نہیں ہم دنیا میں اکیلے نظر آتے ہیں،فارن آفس کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آکر بریفنگ دینی چاہئے اور حکومت کو اس حوالے سے20کروڑ عوام کو جواب دینا چاہئے۔ ڈان لیکس کے مسئلے کو آسان نہ سمجھا جائے ،حکومت کو ڈان لیکس،پانامہ لیکس،ہمسایوں سے تعلقات،قرضوں کے حوالے سے جواب دینا پڑے گا۔ چےئرمین پیمرا نے جو پریس کانفرنس میں باتیں کیں وہ قابل فکر ہیں۔ا میں دعاگو ہوں کہ الیکشن2018ء میں ہوں اور حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے لیکن حکومت اداروں سے تصادم کی راہ پر ہے۔،سینیٹ کا الیکشن پاکستان پیپلزپارٹی جیت سکتی ہے اگر وہ پنجاب سے 25 نشستیں بھی لے لیں تو بھی ہم جیت سکتے ہیں پیپلزپارٹی 1994ء میں انرجی کے مسائل کے حل کیلئے پالیسی لائی تھی جس کو عالمی سطح پر سراہا گیا تھا،نوازشریف نے آکر اس پالیسی کو ختم کردیا اور ایم ڈی کو جیل میں ڈال دیا اگر وہ پالیسی رہتی تو آج انرجی کے تمام مسائل حل ہوجائے ملک اندھیروں میں نہ ہوتا حکومت چار سال حکومت کے مزے لینے کے بعد اب بھی پاکستان پیپلزپارٹی کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے لیکن پاکستان کے عوام ایسے نہیں کہ وہ حقیقت کو نہ سمجھ سکیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول