جمرود،سورکمر پانی کے منصوبے کی بندش کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ چو تھے دن بھی جاری

جمرود،سورکمر پانی کے منصوبے کی بندش کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ چو تھے دن بھی ...

جمرود (نمائندہ پاکستان)جمرود،سورکمر پانی کے منصوبے کی بندش کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ چو تھا دن بھی جاری رہااگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پاک افغان شاہراہ بند کردینگے۔خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں جاری پینے کے پانی کے منصوبے کی بندش کے خلاف سورکمرکے رہائشوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ چوتھا دن بھی لگایا تھا جس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کرکے بازوں پر کالی پٹیاں جبکہ پاک افغان شاہراہ اور گھروں پر سیاہ جھنڈیاں لگا کر احتجاج کیا۔ جمرود کے مکینوں نے علاقہ سورکمر میں پاک افغان شاہراہ کے نزدیک پانی کے جاری منصوبے کے بندش کے خلاف جمعہ کے روز سے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جوکہ آئندہ جمعہ تک جاری رہے گا۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ایم این اے کے سیکرٹری عبدالواحد، اے این پی خیبرایجنسی کے صدر شاہ حسین شنواری ، پی ایم ایل ن سرداراعظم آفریدی ، قبائلی ملکان، سید کیبر افریدی، ظفر خان افریدی، خان محمد، پختون ایس ایف خیبرایجنسی کے شاہد خان آفریدی و دیگر نے میڈیا کو بتایاکہ علی مسجد سے سورکمر تک محکمہ پبلک ہیلتھ نے پینے کے پانی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تھا جس پر کچھ کام بھی ہوا تاہم اس منصوبے کو بلا وجہ بند کر دیا کیا گیا ہے حالانکہ ان منصوبے کے لئے خطیر فنڈز ایک کروڑ بیس لاکھ روپے جاری ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹیسکو بجلی فراہم نہیں کررہی ہے جبکہ دوسری طرف علاقے میں پانی کی قلت ہے جس کی وجہ سے ہمارے روز گار تباہ اور ہمارے بچوں کی تعلیم بھی تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے جائز حقوق دے کر پانی کے منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کریں تاکہ علاقے میں پانی کی کمی دور ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے پوراعلاقہ کربلا کا منظر پیش کررہا ہے جوکہ حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے س لیے ان کے ساتھ امتیازی سلوک فوری طور پر بند کرے بصورت دیگر وہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے اپنے احتجاج کو ملک کے دیگر علاقوں تک بڑھائے گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر