شادی یا ڈیٹنگ؟نوجوانوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہئے

شادی یا ڈیٹنگ؟نوجوانوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہئے
شادی یا ڈیٹنگ؟نوجوانوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہئے

  


تحریر: ذوالفقار علی

ایک دانشورانہ پلس احمقانہ سوال۔۔۔ سوچنے والے بھی سوچتے ہیں ہو نگے کہ ایک سوال بیک وقت دانشورانہ اور احمقانہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ سوال میرے نزدیک دانشورانہ ہے مگر آپ کی نظر میں احمقانہ ہو سکتا ہے۔بہر حال سوال یہ ہے کہ آج کل کی نوجوان نسل نے ڈیٹنگ کی جو اصلاح نکالی ہے اس کی تشریح کیا ہے؟اس کا مفہوم کیا ہے؟

مغربی معاشرے کے نقاداور اندھا دھند تقلید کے باعث ایسی ایسی بیہودگیاں ہماری سماجی زندگی میں داخل ہو چکی ہیں بحیثیت مسلمان تو کیا ایک مہذب انسان کے طور پر گھن آتی ہے ایسی واہیات حرکتوں پر۔ڈیٹنگ کے جس کلچر کی میں بات کر رہا ہوں۔ یہ چند سال پہلے تک بڑے شہروں کے پوش ایریاز تک محدود تھا اور بگڑے ہوئے رئس زادوں کا محبوب ومرغوب مشغلہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب گاؤں سے پڑھنے کیلئے شہر آنے والے غریب طلبہ وطالبات بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا۔انہیں نہ بوڑھے باپ کی آنکھوں کے ادھورے خواب یاد رہتے ہیں ناں بہنوں کے ارمان ۔وہ یورپی معاشرہ جس نے ڈیٹنگ کا تصور دیا آج یہ اختراع واصطلاح ان کیلئے ہی درد سر بنی ہوئی ہے ۔پورے یورپ میں معاشی ماہرین پریشان ہیں کہ کسادبازاری کے اس دور میں جب ایک ایک پیسہ اہمیت کا حامل ہے تو قومی وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ ڈیٹنگ جیسی فضول سرگرمی پر کیوں ضائع ہو رہا ہے ۔چند دن پہلے طویل تحقیق کے بعد ایک برطانوی ادارے نے رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق صرف برطانیہ میں روزانہ 10ہزار 3.3بلین پاؤنڈز کا خطیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔یعنی ساڑھے چار کھرب روپے بنتے ہیں(135.53روپے فی پاؤنڈز) رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک باقاعدہ صنعت کے طور پر ڈیٹنگ اکانومی معرض وجود میں آ چکی ہے۔ہر سال ڈیٹنگ کی غرض سے بازار میں انٹرٹینمٹ پر 1.3 بلین پاؤنڈز خرچ کئے جاتے ہیں۔864ملین پاؤنڈز ڈیٹ پر جانے کیلئے نئے ملبوسات خریدنے میں لگ جاتے ہیں ۔421 ملین پاؤنڈز ٹرانسپورٹر یا ٹیکسی ڈرائیور کماتے ہیں ،377ملین پاؤنڈزکی کاسمٹیکس خریدی جاتی ہے، ہیئر ڈریسرز کی چاندی ہو جاتی ہے اور ہر سال ڈیٹنگ کے خواشمند لڑکے لڑکیاں 324 ملین پاؤنڈز بال بنوانے پر خرچ کر دیتے ہیں جبکہ 199 ملین پاؤنڈز کے تحائف خریدے جاتے ہیں۔ویسے عدالت میں ڈیٹ ہو یا لڑکی کیساتھ ڈیٹ دونوں صورتوں میں جیپ خالی ہو جاتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ایک ڈیٹ پر اوسطاً کم از کم 47 پاؤنڈز خرچ ہوتے ہیں جبکہ ہر برطانوی شہری جو اکیلا ہے وہ سال بھر میں 1107.44پاونڈز ڈیٹنگ پر خرچ کرتا ہے ۔بناؤ سنگھار پر 119.62 پاؤنڈز خرچ ہوتے ہیں ،63.36پاؤنڈز کے گفٹ خریدتا ہے،ہیئر کٹنگ پر 103پاؤنڈ لگتے ہیں،نئے کپٹروں اور جوتوں کی خریداری پر 274.22پاؤنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ڈیٹنگ کے دوران کھانے پینے پر خرچ ہوتے ہیں۔

اس رپورٹ مرتب کرنے والوں نے جو نتیجہ اخد کیا وہ نہایت دلچسپ اور حقیقت کے عین مطابق ہے۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ یہ جو عمومی تاثر ہے کہ شادی کے بعد اخراجات بڑھ جاتے ہیں یہ تاثر سراسر غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ غیر شادی شدہ افراد ،شادی شدہ افراد سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں اور ڈیٹنگ جیسی خرافات میں مبتلا ہوئے ہیں لہذا موزوں وقت پر شادی کر لینی چایئے خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

آپ کیا کہتے ہیں ،ڈیٹنگ سے تو شادی بھلی ،ایسے ہی نوجوان وہم کرتے ہیں شادی خرچہ بڑھاتی ہے،ارے بھائی مذکورہ بالا حقائق کو مدنظر رکھیں اورشادی کرلیں،ڈیٹنگ تو سراسر خرچہ ہے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ