فارم ہاﺅسز میں پارٹیاں، اعلیٰ شخصیات کے بچے ملک دشمنوں کے آلہ کار بننے لگے، حساس ادارے متحرک، کریک ڈاﺅن متوقع

فارم ہاﺅسز میں پارٹیاں، اعلیٰ شخصیات کے بچے ملک دشمنوں کے آلہ کار بننے لگے، ...
فارم ہاﺅسز میں پارٹیاں، اعلیٰ شخصیات کے بچے ملک دشمنوں کے آلہ کار بننے لگے، حساس ادارے متحرک، کریک ڈاﺅن متوقع

  


لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں قائم بااثر شخصیات کے فارم ہاﺅسز پر مختلف پارٹیوں میں اعلیٰ شخصیات کی اولادیں ملک دشمن عناصر کا آلہ کار بننے لگیں، نوجوان نسل کو مختلف ممنوعہ دل کش مناظر سے گرویدہ بنایا جاتا ہے، دوبارہ آنے پر ان سے ملکی سلامتی اور مفادات کے برعکس حسب ضرورت کام لئے جانے کا انکشاف ہوا ہے، صوبائی دارالحکومت میں 30 سے زائد جبکہ پنجاب بھر 474 سے زائد فارم ہاﺅسز اور ڈیرے بارونق ہیں جن سے نمٹنے کے لیے  حساس اداروں سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی تیار کرلی جبکہ جلد کریک ڈاﺅن متوقع ہے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں قائم سیاسی بیورو کریسی کی اعلیٰ شخصیات سمیت دیگر بااثر شخصیات کے فارم ہاﺅسز پر ہونے والی رنگین پارٹیوں کی آڑ میں ملک دشمنع ناصر کی سوچ نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے اس حوالے سے ایک مکمل رپورٹ تیار کی گئی ہے جس میں شہر میں موجود ایسے فارم ہاﺅسز اور ڈیروں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں پاشا فارم ہاﺅس، ڈی فارم ہاﺅس رائیونڈ، باوجوہ فارم ہاﺅس بیدیاں روڈ،گرین فیلڈ پھول نگر، اے ایم فارم ہاﺅس بیدیاں، صوفیہ فارم ہاﺅس، جلیانی فارم ہاﺅس اور حذیفہ فارم ہاﺅس جو بیدیاں روڈ پر واقع ہیں جہاں پر نوجوان نسل کیلئے رنگین پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے پارٹیوں میں ”کپل“ کی صورت میں داخل ہونے کیلئے 5 سے 10 ہزار روپے سوشل اور جدید میڈیا ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹکٹ فروخت کئے جاتے ہیں جن کے ساتھ پارٹی آرگنائزر سے منشیات خریدنا بھی لازم قرار دیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق منشیات کی نئی قسم کو ڈانسنگ پلز کا نام دیا گیا ہے اور مختلف انٹرنیشنل برانڈز کی پلز کو نوجوان نسل کو 3500 روپے سے لے کر 15ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جس کے بعد انسان اپنے ہش و حواس کھو کر کئی کئی گھنٹوں ڈانس کرتا ہے اور مختلف نازیبا حرکات سے خود کو روک پانا یا کسی دوسرے کو منع کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہوتی جس کا رنگین پارٹیوں کے آرگنائزر فائدہ اٹھاتے ہوئے نشے کی لت میں مبتلاءکرکے ممنوعہ حرکات کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرتے ہیں اور یہ بلیک میلنگ جنسی استعمال سے لے کر ان نوجوانوں کو ملکی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے تک کی جاتی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حساس اداروں کو ملنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے نمائندوں کے تعلقات کی بنا پر ایسی پارٹیوں کا انعقاد کروایا جارہا ہے جہاں پر نوجوان نسل کو مختلف ممنوعہ دل کش مناظر سے گرویدہ بنای اجاتا ہے اور بعدازاں دوبارہ آنے پر ان سے حسب ضرورت غیر قانونی کام لئے جاتے ہیں جو کہ ملکی سلامتی اورمفادات کے برعکس ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے نمائندے ان سے غیرقانونی قریبی تعلقات قائم کرتے ہیں اورا ن سے والدین اور دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرکے انہیں اپنے ہدف کا نشانہ بناتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں رائیونڈ، ہیر، ہڈیارہ، چوہنگ اور سندر سمیت دیگر علاقوں میں تقریباً 30 سے زائد فارم ہاﺅسز قائم ہیں جبکہ پنجاب بھر کے مختلف شہروں فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور دیگر اضلاع میں موجود 474 سے زائد فارم ہاﺅسز اور ڈیروں پر ”رنگین پارٹیوں“ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف واقعات کے دوران اعلیٰ شخصیات کے رشتے داروں سمیت 7 نوجوان نشے کی زیادتی کے باعث دل کے دورہ اور دماغ کی شریان پھٹنے سے جان کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ لڑائی جھگڑوں میں تقریباً 10 کے قریب افراد شدید زخمی ہوچکے ہیں۔ ایسی ہی ڈانس پارٹیز اور دیگر رنگین پارٹیوں میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکات کا حصہ بننے والے متعدد سیاسی، سماجی اور بیوروکریٹس سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات اور ان کی اولادوں کی متعدد ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر نشر ہوچکی ہیں۔

مزید : لاہور