روسیوں کا شاندارجشن فتح

روسیوں کا شاندارجشن فتح
روسیوں کا شاندارجشن فتح

  

اس ہفتے روس میں سابقہ سوویت یونین کی تمام سابقہ ریاستوں اور موجودہ آزاد ممالک میں دوسری جنگ عظیم کا یوم فتح منایا گیاہے۔ نازی جنہوں نے جنگ کو ایک کھیل بنا دیا تھااور ہٹلر کی قیادت میں وہ مشرقی و مغربی یورپی ممالک پر دنوں اور ہفتوں میں قبضہ کرتے جا رہے تھے جب انہوں نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو انہیں ’’ماں ‘‘ یاد آگئی اور یہیں سے ان کی شکست اور تباہی مقدر بن گئی۔ ہٹلر نے کمال چابکدستی اور عیاری سے فن لینڈ اور پولینڈ کے مسئلے پر سوویت ریاست سے معاہد ہ کر کے اسے اس جنگ میں غیر جانبدار کر دیا، ویسے بھی سوویت ریاست کا بنیادی نظریہ ’’دنیا بھر میں امن ‘‘ سے ہی وابستہ تھا ، اور وہ 1917 کے سوشلسٹ انقلاب اور لمبی سول دار کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور تعمیر و ترقی میں مصروف تھی، اس لئے کسی بھی جنگ کے لیے نہ تو خواہشمند تھی اور نہ ہی تیار۔

ڈیڑھ سال میں نازیوں نے یورپ کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کے بعد جب فرانس و بلجیم پر چند دنوں میں قبضہ کر لیا تو ان کے دل بڑھ گئے اب انہیں خیال ہوا کہ جلد ہی امریکہ بھی جنگ میں کود کر ہماری فتوحات میں سے اپنا حصہ مانگے گا۔ تو اس کے لیے پیشگی انتظامات یوں کرنا چاہیے کہ سوویت یونین کے جنوبی مغربی علاقوں پر قبضہ کر کے تیل اور خام مال اکٹھا کر لیں تاکہ جب امریکا سے جنگ ہو تو اسکا مقابلہ کیا جا سکے ۔اس کے بعد کیاہوا،یہ تفصیل طلب اور متنازعہ باب ہے، راقم کا مقصد دوسری عالمگیر جنگ کی تفصیل میں جانا نہیں صرف اس کی یاد میں ہونے والی تقریبات پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب ماسکو میں ہوئی۔ کریملن کے سامنے روسی افواج نے 9 مئی کے روز پریڈ کی جس میں دس بارہ ہزار فوجیوں نے حصہ لیا۔ روس کی جنگی تکنیک اور ائیرفورس کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ، پہلے نوجوان سپاہی سامنے آئے،خواتین فوجیوں کے کئی دستے بھی چاک و چوبند مارچ کر رہے تھے۔ جنگی تکنیک کی سربراہی ٹینک T34 کر رہا تھا۔ کہتے ہیں جرمنوں کو روس میں شکست کا اندیشہ نہیں تھا۔ جرمنوں نے یورپ سے اپنی اکثر افواج روس کے بارڈر پر منتقل کر دیں۔ یورپ کے افرادی و مادی اور فوجی و سائل تو اب ان کے ہاتھ میں آگئے تھے۔ فرانس کا سارا اسلحہ اور فرانس و بلجیم میں برطانوی افواج کا سارا اسلحہ بھی ان کے ہاتھ لگا تھا۔ یہ تمام گاڑیاں ، ٹینک اور گولا بارودان کو جوش دلا رہا تھا کہ اب سوویت یونین پر بھی چند ہفتوں میں قبضہ کیا جا سکتا ہے ۔ برطانوی افواج اور شہری زیر زمین ریلوے میں دبک کر بیٹھ گئے اور لندن شہر کی جرمن طیاروں نے اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ جب ہرجگہ جرمنوں کی حکومت تھی تو 1941 کے موسم گرما میں سوویت یونین پر دنیا کی سب سے بڑی طاقتور افواج نے حملہ کر دیا۔ سٹالن کو اگرچہ اطلاع تھی تاہم اسے یقین نہیں تھا کہ ہٹلر جن کے وفد نے اکتوبر انقلاب کی سالگرہ مناتے ہوئے نومبر 1940 میں باقاعدہ ماسکو کا دورہ کیا تھا اور جعلی محبتوں کا یقین دلایا تھا، وہ ہٹلر روس پر حملہ کردے گا۔

جرمن جو کہ روس کو چند مہینوں میں فتح کرنے کا عزم صمیم کیے ہوئے تھا ۔ اس کا منصوبہ شمال میں لینن گراڈ (موجودہ سینٹ پیٹر) ، سامنے مشرق میں ماسکو اور جنوب میں کیف کو چند ہفتوں میں قبضہ کرنے کا تھا ۔ وہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ کیونکہ کمیونسٹوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا خیال بھی نہ کیا تھا ۔ لیکن جرمن فوجیوں کو آخر کیوں شکست ہوئی۔ ایک تو پرانے جرمن آج بھی کہتے ہیں ’’یار یہ ایوان خوب لڑتا ہے ‘‘ اس سے مراد روسی فوجی ہے جو کہ چار فوجیوں کے پاس ایک بندوق رکھنے کے باوجود بوتلوں سے پٹرول بم بنا کر جرمن ٹینکوں کے سامنے ڈٹ جاتا ، دوسرے وہ سوویت کسان مرد اور عورتیں بلکہ بچے جو کہ باقاعدہ فوجی تو نہ تھے لیکن گوریلے بن جاتے اور جرمن سپلائی کے راستوں کو تہس نہس کر دیتے۔ پھر روس نے اپنی صنعت کو بچا کر مشرق میں لے جا کر اس کو چند ماہ میں اتنا بڑھا دیا کہ زمانہ امن کے مقابلہ میں اس میں دس گنا اضافہ کر لیا اور یہ ساری صنعت اب دفاعی اسلحے تیارکرنے لگ گئی۔ اس کا کمال تھا کہ افسانوی ٹینک T 34 اور افسانوی تیز ترین گولا باری کرنے والا سسٹم KATUSHA کیتوشا بنایا گیا، جس نے جرمنوں کے چھکے چھڑا دیے۔ دوسری طرف عوم کے حوصلوں اور عظمتوں نے سینٹ پیٹر اور ماسکو کو بھی زیر قبضہ نہ آنے دیا۔ ۔

اس فتح کی یاد میں ماسکو میں سرکاری ٹی وی چینل نے پیرڈ کا کوریج پچاس آٹومیٹک کیمروں اور کئی ہیلی کاپٹروں سے یوں کیا کہ ہر پہلو سے ناظرین کو آگاہ کیا گیا۔ پریڈ سے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خطاب کیا اور روسی فوجیوں کے ساتھ ساتھ ان تمام قومی سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کیا جو اس جنگ میں سوویت ریاستوں کے لڑاکوں کی حیثیت سے روسیوں کے ساتھ مل کر کندھے سے کندھا ملا کر بھائیوں کی طرح نازیوں کے خلاف لڑ رہے تھے ۔ جنگی ٹیکنیک میں میزائیل سسٹم 5-400 سکندر ، ٹائیفون ، نئے ٹینک ارماتا T14 ، T72 ، جہازوں مگ 29 ، 5u34 غرض جدید ترین فضائی وزمینی اسلحے دکھائے گئے ، دن کے 3 بجے عوام کا جلوس نکلا ۔انہوں نے اپنے ان عزیزوں و آباؤ اجداد کی تصویر یں اٹھا رکھی تھیں جنہوں نے اس جنگ میں مادر وطن کا دفاع کیا تھا۔ جلوس کی قیادت خود صدر روس ولادی میر پیوٹن نے کی ۔

یوم فتح کو نہ صرف ماسکو میں بلکہ روس کے تمام بڑے شہروں میں بالکل اسی طرح منایا گیا جیسے کہ ماسکو میں، دوسری طرف سابقہ سودیت ریاستوں کے دارلحکومتوں اور بڑے شہرں میں عوام نے اپنے اپنے انداز میں یہ عظیم دن منایا ، ازبیکستان کے دارلحکومت تاشقند میں صبح سویرے صدر ازبیکستان شفقت میر ضیائیف آزادی چوک پہنچ گئے۔ ملٹری بینڈ نے دھنیں بجائیں اور صدر نے مادر وطن کی یاد گار پر پھول چڑھائے اس 72 ویں یومِ آزادی کی سرکاری تقریب میں 500 سابقہ فوجی مدعو کیے گئے تھے جنہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا تھا۔ یاد رہے کہ اس موقع پر جاری ہونے والے صدارتی فرمان میں ہر ایسے سابقہ بزرگ فوجی کو نہ صرف مالی مدد دی گئی بلکہ ضرورت مندوں کو مفت رہائش گاہیں بھی مہیا کی گئیں۔ اگر وہ کار خریدنا چاہیں تو رعایتی سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے۔ اس موقع پر ممبرانِ پارلیمنٹ و سینٹ، دانشوروں ، شاعروں اور عام عوام نے جگہ جگہ اکٹھ کئے۔ ملک بھر میں چوکوں اور پارکوں میں گہما گہمی رہی، جگہ جگہ مفت کھانوں اور رتفریحی تقریبات کا بندوبست کیا گیا، ان ساری تقریبات کا انتظام وزارتِ دفاع ، وزارت داخلہ ، وزارتِ ثقافت ، ریاستی کمیشن برائے ویمن ، نوجوانوں کی تحریک کمالات ، آرٹ اکیڈمی ، نوارانی ( VETERAN COMET ) اور محلہ کمیسٹوں نے کیا۔ ہر جگہ اس قسم کے بینرز آویزاں تھے۔ ’’ 9 مئی یوم عزت اور یاد ، یوم فتح پر مبارک ہو، خدا کرے کہ ہمارے ملک میں ہمیشہ امن ہو اور صاف آسمان کا سایہ رہے ، مادرِ وطن اپنے ہیروؤں کو کبھی بھی بھولے گی نہیں‘‘۔

ہر جگہ فوجی بینڈ دھنیں بجا رہے تھے۔ باغوں اور پارکوں میں رقص و گانوں کے ساتھ ساتھ 1941-45 دوسری جنگ عظیم کے دور کی فوجی تکنیک کی نمائشیں بھی منعقد کی گئیں۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم سرمایہ دار ممالک کی باہمی لڑائیوں اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضے کی جنگیں تھیں۔ اس وقت دنیا بھر کے تمام سرمایے کے برابر سرمایہ دنیا کے صرف آٹھ افراد کے پاس ہے۔ دوسری طرف غریب عوام اور قومیں معاشی بھوک کا شکار ہور ہی ہیں۔ اس عالم میں بھی امریکہ اور سات بڑے دنیا کے وسائل اور غریب قوموں کے بچے کھچے وسائل پر قبضے کرنے کیلیئے آپس میں گول میز مذاکرات کرتے رہتے ہیں ۔ کیا دنیا کی چند امیر ترین قومیں اور ممالک پھر غریب اور کمزور قوموں پر چڑھ دوڑیں گے کہ اب مرتی ہوئی انسانیت کی لاش کو تیسری جنگ عظیم کی مدد سے بھنبھوڑ سکیں تاکہ چوتھی جنگ عظیم کا موقع ہی نہ آئے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ