عمرہ کے دوران اس پاکستانی خاندان کے ہاں قبل از وقت بیٹی کی پیدائش، ویزہ ختم ہونے اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بچی سعودی عرب ہی چھوڑ کر واپس آنا پڑگیا، لیکن پھر ایک دن سعودی عرب سے ایسی کال آئی کہ میاں بیوی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا، وہ کام ہوگیا جس کا وہ صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے

عمرہ کے دوران اس پاکستانی خاندان کے ہاں قبل از وقت بیٹی کی پیدائش، ویزہ ختم ...
عمرہ کے دوران اس پاکستانی خاندان کے ہاں قبل از وقت بیٹی کی پیدائش، ویزہ ختم ہونے اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بچی سعودی عرب ہی چھوڑ کر واپس آنا پڑگیا، لیکن پھر ایک دن سعودی عرب سے ایسی کال آئی کہ میاں بیوی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا، وہ کام ہوگیا جس کا وہ صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے

  


جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی شہری حامد عبداللہ اور ان کی اہلیہ چند ماہ قبل عمرہ کیلئے سعودی عرب گئے تو ان کے ساتھ ایک انتہائی غیر متوقع واقعہ پیش آگیا جس کی وجہ سے وہ انتہائی دکھی دل کے ساتھ وطن واپس آئے۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق جب یہ جوڑا سعودی عرب گیا تو حامد عبداللہ کی اہلیہ چھ ماہ کی حاملہ تھیں۔جب وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپسی کی تیاری کررہے تھے تو اچانک خاتون کی طبیعت بگڑی اور انہیں مدینہ کے ایک ہسپتال میں داخل کروادیاگیا۔ ان کے ہاں قبل از وقت ایک بچی کی پیدائش ہوئی جس کی حالت تشویشناک تھی۔

بدقسمتی سے حمید عبداللہ اور ان کی اہلیہ کے ویزے کی مدت ختم ہوچکی تھی اور ان کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ مزید قیام کا بندوبست کر سکتے، لہٰذا ان کے پاس بچی کو مدینہ میں ہی چھوڑ کر واپس کراچی آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ حالت نازک ہونے کے باوجود بچی کی جان بچ گئی۔ بچی کے صحتیاب ہونے پر ہسپتال اور امیگریشن حکام کی جانب سے پاکستانی قونصلیٹ کے ساتھ رابطہ کیا گیا، اور تب کراچی میں حامد عبداللہ کو بھی یہ خوشخبری سنا دی گئی، جسے سن کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔

’مجھے لوگوں نے دھمکیاں دیں، بے تحاشہ رقم کی پیشکش بھی کی لیکن میں نے اپنے مرحوم باپ سے کیا گیا وعدہ نہیں توڑا اور۔۔۔‘ اس عرب خاتون نے اپنے باپ سے ایسا کیا وعدہ کیا تھا؟ جان کر آپ بھی بے اختیار تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل شہریار اکبر خان کی کوششوں سے حامد عبداللہ اور ان کی اہلیہ کو ایک بار پھر سعودی عرب کا ویزہ جاری کیا گیا اور دونوں میاں بیوی جب اپنی ننھی بچی کو لینے کیلئے دوبارہ مملکت سعودی عرب پہنچے تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں اور پاکستانی قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا جبکہ قانونی معاملات میںمدد اور دستاویزات کے حصول میں مدد کیلئے کمیونٹی ویلفیئر قونصل عبدالعباسی اور وزارت حج کے چودھری عبدالوحید کا بھی شکریہ ادا کیا۔

مزید : عرب دنیا