33 سالہ نوجوان جسے بچپن میں اغواءکرلیا گیا تھا، اس نے اپنی تصویر انٹرنیٹ پر ڈالی تو آگے سے اچانک ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ اسے زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے

33 سالہ نوجوان جسے بچپن میں اغواءکرلیا گیا تھا، اس نے اپنی تصویر انٹرنیٹ پر ...
33 سالہ نوجوان جسے بچپن میں اغواءکرلیا گیا تھا، اس نے اپنی تصویر انٹرنیٹ پر ڈالی تو آگے سے اچانک ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ اسے زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹیکنالوجی کی جدت حضرت انسان کو ترقی کی نئی جہتوں سے روشناس کرا رہی ہے اور نت نئے فوائد سے اس کا دامن بھر رہی ہے۔ اب جدید ٹیکنالوجی نے بچھڑوں کو ملانے کا فریضہ بھی اپنے سر لے لیا ہے اور گزشتہ دنوں چین میں 27سال قبل بچپن میں ہی اغواءہوجانے والے بچے کو اس کے والدین سے ملا دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 33سالہ فو ژوئی نامی نوجوان 1984ءمیں چین کے شہر چونگ کیانگ میں پیدا ہوا اور1990ءمیں، محض 6سال کی عمر میں اغواءہو گیا۔

چین کی ایک ویب سائٹ ’بے بی کم ہوم‘ (Baby Come Home)ہے جو لاپتہ بچوں کو ان کے والدین سے ملانے کا کام کرتی ہے۔ والدین اور گم ہونے والے بچے اپنی تصاویر اس ویب سائٹ پر پوسٹ کرتے ہیں اور ویب سائٹ کا مصنوعی ذہانت کا حامل نظام بچوں اور ان کے والدین کے چہرے کے خدوخال کو باہم ملاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کون سے بچے کے والدین کون ہیں۔ فوژوئی کے والدین اس کے اغواءسے لے کر آج تک اس کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ انہوں نے بھی اس ویب سائٹ پر اپنی تصاویر پوسٹ کر رکھی تھیں۔

22 سال قبل قتل ہونے والے 7 سالہ بچے کے دل نے بالآخر دھڑکنا بند کردیا

کچھ عرصہ قبل فو ژوئی نے بھی اپنی بچپن کی ایک تصویر ویب سائٹ پر پوسٹ کی تو اس نے اس کے چہرے کے عوارض کو اس کے والدین سے ملا کر اسے اپنے والدین کا پتہ بتا دیا اور وہ گھر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق گھر پہنچنے پر اس کا اور اس کے والدین کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا جس سے تصدیق ہو گئی کہ وہ انہی کا لاپتہ ہونے والا بیٹا ہے۔ اپنے بیٹے کو27سال بعد واپس پا کر فوژوئی کے والدین کی خوشی دیدنی تھی۔ واضح رہے کہ چین میں یہ ویب سائٹ کافی مقبول ہے اور اس پر 60ہزار سے زائد لوگوں نے اپنی تصاویر پوسٹ کر رکھی ہیں۔

فوژوئی کے کیس کے متعلق بے بی کم ہوم کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ”فو ژوئی کی شکل اس کے والدین سے بہت ملتی تھی اور ان کے نام بھی کافی حد تک مماثل تھے۔ چنانچہ ویب سائٹ نے فوری نتائج دیتے ہوئے اس کے والدین کی نشاندہی کر دی۔“رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے کے خدوخال کا تقابل کرکے کسی بچھڑے بچے کا والدین سے ملنے کا چین میں یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے چین کے ان کروڑوں والدین کو امید بندھی ہے جن کے بچے لاپتہ یا اغواءہو چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس