کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا معاملہ، بھارت عالمی عدالت میں جاکر بہت بڑی غلطی کر بیٹھا، ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ جان کر آپ کو بھی اس حماقت پر ہنسی آجائے گی

کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا معاملہ، بھارت عالمی عدالت میں جاکر بہت بڑی ...
کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا معاملہ، بھارت عالمی عدالت میں جاکر بہت بڑی غلطی کر بیٹھا، ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ جان کر آپ کو بھی اس حماقت پر ہنسی آجائے گی

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار کلبھوشن یادو کی سزائے موت پر بھارت سرکار اس طرح تڑپ رہی ہے اور ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جیسے وہ قاتل جاسوس نہیں بلکہ بھارت سرکار کا پاکستان میں متعین کردہ سفیر ہو۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اب بھارت سرکار نے اس کی سزا پر عملدرآمد رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر لیا ہے لیکن یہ عدالت اسے کیا دے سکے گی؟ اس سوال کا جواب خود بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے دے دیا ہے۔ اخبار اپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ ”پاکستان کو نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں واقع اس عالمی عدالت کا فیصلہ قبول تو کرنا چاہیے لیکن ایسا ہو گا نہیں، کیونکہ خود بھارت ماضی میں اس عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کر چکا ہے اور پاکستان کے ساتھ کئی تنازعات میں اس کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر چکا ہے۔“

’ یہ کام میں نہیں ہونے دوں گا ‘ ترک صدر طیب اردگان نے اسرائیل کے خلاف تاریخی اعلان کر دیا، ہر مسلمان کا دل جیت لیا

اس حوالے سے ہندوستان ٹائمز نے عالمی قوانین کے ماہر، انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاءکے سیکرٹری جنرل نریندر سنگھ سے بھی بات کی۔ نریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ”میرے خیال میں کلبھوشن کے معاملے میں بھارت کا عالمی عدالت میں جانا کوئی عقلمندانہ اقدام نہیں ہے کیونکہ وہاں پاکستان 1999ءکے اس مقدمے کا حوالہ دے سکتا ہے جس میں بھارت نے عالمی عدالت سے کہا تھا کہ وہ ان دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی۔“ نریندر سنگھ 1999ءمیں بھارتی فوج کی طرف سے رن آف کچھ کے علاقے میں پاکستانی جنگی طیارہ گرائے جانے کے مقدمے کا حوالہ دے رہے تھے۔ اس طیارے کو بھارتی حدود میں مارگرایا گیا۔ اس پر پاکستان نے اسی عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن بھارت نے یہ کہہ کر عدالت کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے پاکستان اور بھارت کے تنازعات میں قانون نافذ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

اس حوالے سے بھارت کا موقف ہے کہ جو ممالک کامن ویلتھ کے رکن ہیں ان کی حکومت کے باہم تنازعات سننے اور ان کا فیصلہ کرنے کا حق عالمی عدالت کے پاس نہیں ہے۔ اب چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں کامن ویلتھ کے رکن ہیں چنانچہ پاکستان عالمی عدالت میں بھارت ہی کے اس موقف کا حوالہ دے کر اس کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے عالمی عدالت دائر درخواست میں کہا ہے کہ ”پاکستان کو پابند کیا جائے کہ وہ کلبھوشن یادو کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے اور ان اقدامات کے متعلق عالمی عدالت کو رپورٹ کرے۔ پاکستان کو پابند کیا جائے کہ وہ کلبھوشن یادو اور بھارت کے خلاف کوئی متعصبانہ اقدام نہ اٹھائے۔ بھارت نے درخواست میں عالمی عدالت انصاف کے صدر سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ عالمی عدالت کے قوانین کے آرٹیکل 74کی شق 4کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرے۔“

مزید : بین الاقوامی