ڈان لیکس کا مسئلہ حل ہو چکا ، سوشل میڈیا پر پاک فوج کی قیادت کے خلاف مہم چلانے والے عناصر کا کھوج لگایا جائے: مجیب الرحمان شامی

ڈان لیکس کا مسئلہ حل ہو چکا ، سوشل میڈیا پر پاک فوج کی قیادت کے خلاف مہم چلانے ...
ڈان لیکس کا مسئلہ حل ہو چکا ، سوشل میڈیا پر پاک فوج کی قیادت کے خلاف مہم چلانے والے عناصر کا کھوج لگایا جائے: مجیب الرحمان شامی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اگر سول ملٹری قیادت میں دوریاں نہ ہوتیں تو یہ معاملہ ایک وضاحت پر ختم ہوجاتا ۔ جب چوہدری نثار کی جماعت اپوزیشن میں تھی تو وہ اسی طرح کھیلا کرتے تھے جس طرح کے وہ اپوزیشن پر الزامات لگاتے ہیں۔ باقی تمام مسائل میں تو بھارت تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرتا تو اب اسے کلبھوشن کے معاملے پر بھی اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کی قیادت کے خلاف مہم چلانے والے عناصر کا کھوج لگایا جائے۔

نجی ٹی و ی دنیا نیوز کے پروگرام ” نقطہ نظر“ میں گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ جب ڈان لیکس کا مسئلہ اٹھا تو اس وقت سول ملٹری قیادت میں تناﺅ تھا ، اگر وہ سب نہ ہوتا تو ایک تردید یا وضاحت سے یہ بلا ٹل جاتی لیکن دل دور ہونے کی وجہ سے بات کا بتنگڑ بن گیا۔ اگر آپ کو کسی سے محبت ہو اور اسے لقوہ بھی ہو جائے تو آپ کہتے ہیں کیا ادا ہے لیکن اگر کسی سے نفرت ہو تو اس کا اچھا بھلا چہرہ بھی ٹیڑھا نظر آتا ہے، ڈان لیکس کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا لیکن اب یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔

نئے پاکستان کا حشر دیکھنا ہے تو پشاور کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا نظارہ کریں ، لوڈشیڈنگ پیپلز پارٹی حکومت کا ملک کو تحفہ ہے: نواز شریف

انہوں نے کہا کہ جب چوہدری نثار کی جماعت اپوزیشن میں تھی تو وہ اسی طرح کھیلا کرتے تھے جس طرح کے وہ اپوزیشن پر الزامات لگاتے ہیں۔ اپوزیشن میں ہیں تو حکومت کو ہر طرح سے زچ کرنا اور حکومت میں ہیں تو اپوزیشن کی بات نہ سننا مناسب رویہ نہیں، کوئی ایسا وقت آنا چاہیے کہ آپ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، آپ کے سکے ایک طرح کے ہوں۔ اچھی جمہوریت میں اس طرح کا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ بات بات کے طور پر لی جاتی ہے، حکومت کو زچ کرنے کیلئے نہیں لی جاتی، اپوزیشن اور حکومت کی لڑائی کی حدود ہونی چاہئیں۔

مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج کی قیادت کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کردی گئی ہے، ان بد بخت عناصر کا کھوج لگانا چاہیے، پاک فوج ہماری بہت بڑی متاع ہے، موجودہ حالات میں ہم یہ افورڈ نہیں کرسکتے کہ فوجی قیادت کے دل میں وسوسہ پیدا ہو، حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاک فوج کے بارے میں کوئی بات منہ سے یا قلم سے نہ نکالی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ساری رونق جمہوری عمل کے دم سے ہے ، اور دستور کی حکومت کے دم سے ہے، سب انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئیں اور اس کے علاوہ کوئی اور کام نہ کریں، جو کمیٹیز یا ادارے قائم ہو چکے ہیں انہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ باقاعدہ ایک سسٹم قائم ہو اور دوبارہ قومی سلامتی کی بات لیک ہونے کی نوبت نہ آئے۔

سول ملٹری تعلقات پر تماشا نہیں لگانا چاہئیے ، حکومت نے کچھ چھپانا یا کسی کو بچاناہوتا تو کمیشن نہ بناتی ، کسی کو زیادہ یا کم سزا ہوئی تو حکومت کی ذمہ داری نہیں : چودھری نثار علی خان

کلبھوشن یادیو کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن کے معاملے پر پاکستان کو جو خط لکھا گیا ہے اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ کلبھوشن کی سزا پر سٹے آرڈر دیا گیا ہے۔ پہلے اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ اگر ایک ریاست کو دوسری ریاست سے شکایت پیدا ہو ں تو اس کی حدود کیا ہیں، کلبھوشن کے معاملے میں بھارت عالمی عدالت پہنچا ہے لیکن مسئلہ کشمیر سمیت کسی بھی دوسرے مسئلے میں وہ تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرتا تو اس معاملے پر بھی اپنے موقف پر قائم رہے۔

مزید : لاہور