وہ وقت جب کلثوم نواز عدالت میں پیش ہوئیں اور حسین نواز کے بارے میں ایسی بات کہی کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

وہ وقت جب کلثوم نواز عدالت میں پیش ہوئیں اور حسین نواز کے بارے میں ایسی بات ...
وہ وقت جب کلثوم نواز عدالت میں پیش ہوئیں اور حسین نواز کے بارے میں ایسی بات کہی کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) کالم نگار محمد سعید چوہدری نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے اکتوبر1999ءمیں منتخب حکومت کا تختہ الٹائے جانے پر شریف خاندان نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی وساطت سے جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی ایک درخواست دائر کی گئی ۔ اس درخواست میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر گرفتار افراد کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔ملک کی کسی بھی عدالت میں اس فوجی حکومت کے خلاف یہ پہلی درخواست تھی ۔

حضرت لال شہباز قلندرؒ کے سالانہ عرس پر اضافی رش کے پیش نظر تین سپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ :خواجہ سعد رفیق

کالم نگار محمد سعید چوہدری نے اپنے تازہ کالم میں انکشاف کیا کہ شریف خاندان کی جانب سے حبس بے جا کی دائر درخواست کی سماعت جسٹس راشد عزیز خان کی سربراہی میں فل پنچ کر رہا تھا۔ایک دن شریف خاندان کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے فل بنچ سے استدعا کی کہ بیگم کلثوم نواز کو روسٹرم پر آنے اور اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی جائے ،عدالت نے یہ استدعا منظور کرلی۔

کالم نگارکے مطابق بیگم کلثوم نواز روسٹرم پر آئیں اور انہوں نے اپنے زیرحراست بیٹے حسین نواز کے حوالے سے عدالت کو بتایا کہ وہ ان کا درویش بیٹا ہے جسے بلا وجہ قید میں رکھا گیا ہے۔ بیگم کلثوم نواز کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لئے ایسا درد اور ممتا کی تڑپ تھی کہ فاضل بنچ کے تمام ارکان اپنی نشستوں پر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔کلثوم نواز نے حسین نواز کے لئے ایک سے زیادہ بار درویش کا لفظ استعمال کیا۔بیگم کلثوم نواز کے طرز تخاطب میں ایک طرف اپنے خاندان کی بے گناہی کا یقین تھا تو دوسری طرف ایک ممتا کی التجا تھی.

اس دوران کئی صحافی عدالت میں موجود تھے جب بیگم کلثوم نواز عدالت سے باہر آئیں تو کئی صحافیوں نے انہیں گھیر لیا ایک سینئر صحافی جلیل الرحمن نے جھٹ سے سوال داغ دیا کہ آپ کے شوہر پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

بھارت ،مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی فی الفور ختم کرے:اقوام متحدہ

بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف اس الزام کی پرزور تردید کی بلکہ صحافیوں سے کہا کہ آپ لوگ ہماری کرپشن کے کم ازکم کسی ایک واقعہ کی نشاندہی کر دیں۔ وہ صحافی بھائی کرپشن کے اپنے سوال پر مصررہے تو بیگم کلثوم نواز بھڑک اٹھیں ، ان کے لئے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا لگتا تھا کہ وہ سوال کرنے والی صحافی پر جھپٹ پڑیں گی۔ اخبار نویسوں اور بیگم کلثوم نواز کے درمیان طعنہ نما تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور خبر بن گئی۔کالم نگار کے مطابق ان کی یادداشت کی لوح پر یہ منظر پوری طرح محفوظ ہے، کرپشن کے سوال پر بیگم کلثوم نواز کے چہرے پر کرب اور اذیت کے جو تاثرات ابھرے وہ ان سے کہیں گہرے اور دکھ بھرے تھے جو حسین نواز کی حراست کے حوالے سے اپنا موقف بیان کرتے وقت ان کے چہرے پر تھے۔

سعید چوہدری کہتے ہیں کہ انہیں یوںلگا کہ انہیں اپنے شوہر کی ساکھ اور عزت اپنے بیٹے کی رہائی سے زیادہ عزیز ہے ، اپنے اس بیٹے کی رہائی سے بھی زیادہ جسے وہ بار بار درویش کہہ رہی تھیں

مکمل کالم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مزید : قومی