خاتون سے "بداخلاقی "ناقابل راضی نامہ جرم ہے ،صلح کی بنیاد پر مجرم کیوں کر بری کیا جاسکتا ہے ،ہائی کورٹ نے معاونت طلب کرلی

خاتون سے "بداخلاقی "ناقابل راضی نامہ جرم ہے ،صلح کی بنیاد پر مجرم کیوں کر بری ...
خاتون سے

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کو"بداخلاقی "کے بعد قتل کے مجرم کی سزائے موت کوراضی نامے کی بنیاد پر بری کرنے کے لئے دائر درخواست پرایڈووکیٹ جنرل پنجاب اورپراسیکیوٹرجنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کے لئے طلب کر لیاہے۔

شہباز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ، 1200میگاواٹ کے منصوبے پرمستقبل کے لائحہ عمل کا جائز ہ

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے قراردیا کہ کسی خاتون سے بداخلاقی ناقابل راضی نامہ جرم ہے ۔بادی النظر میں صلح کی بنیا د پر کسی مجرم کو رہا نہیں کیا جاسکتا جبکہ قتل ایک قابل راضی نامہ جرم ہے ،زیرنظر کیس میں درخواست گزار نے بداخلاقی کے بعد خاتون کو قتل کیا ۔ایسی صورت میں صلح کی بنیاد پر خاتون سے بداخلاقی کے مجرم کو کیوں کر بری کیا جاسکتا ہے ؟مجرم مدثر عرف یسریٰ کوپھالیہ میں مقدس بی بی نامی خاتون کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے کے مقدمہ میں ٹرائل کورٹ نے 3بار سزائے موت کا حکم سنایا تھا جس کے خلاف اس نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔

مجرم کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ مقتولہ کے ورثاءنے راضی نامے کی بنیاد پر اسے معاف کر دیا ہے ،ٹرائل عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی 3مرتبہ سزائے موت کو ختم کیا جائے۔عدالت نے مزیدریمارکس دیئے کہ کسی خاتون سے بداخلاقی ریاست کے خلاف جرم ہے ، عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ ریاست کے خلاف جرم کو کس قانون کے تحت راضی نامے کی بنیاد پر ختم کیا جا سکتا ہے،عدالت نے اپیل کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اورپراسیکیوٹرجنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی معاونت کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید : لاہور