سندھ کا 11 کھرب 44 ارب روپے کا ’ٹیکس فری‘بجٹ پیش

سندھ کا 11 کھرب 44 ارب روپے کا ’ٹیکس فری‘بجٹ پیش
سندھ کا 11 کھرب 44 ارب روپے کا ’ٹیکس فری‘بجٹ پیش

  

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے مالی سال 19-2018 کے لیے23ارب روپے خسارے پر مشتمل 11 کھرب 44 ارب 44 کروڑ 88 لاکھ روپے کا بجٹ پیش کردیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج خان درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 2018-19 کے لیے 11 کھرب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کردیا۔آئندہ منتخب حکومت کو مالی سال کے باقی عرصے کے اخراجات کی اسمبلی سے منظوری لینا ہوگی، صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے بلاک ایلوکیشن کے ذریعے50ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں جو نومنتخب حکومت اپنے پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی۔ بجٹ میں صحت کیلیے 96ارب ، تعلیم کے لیے 208ارب روپے، امن وامان کے لیے100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا تاہم ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں40ارب روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیاہے۔

وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے سندھ کی موجودہ حکومت کا چھٹا اورآخری بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد، ہاؤس رینٹ میں50فیصد اضافے کا اعلان کیا جبکہ کم ازکم پنشن کی حد بھی4ہزار سے بڑھا کر 10ہزار روپے مقررکردی گئی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ پولیس میں11259 اہلکاروں کی بھرتی، سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کیلیے2782 اہلکاروں کی بھرتی سمیت تربیت کی فراہمی کے لیے 2959 بھرتیوں کا اعلان کیا۔ بجٹ میں بجلی کے شعبے کے لیے 23ارب 90کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے سندھ حکومت کے اداروں اور محکموں پر واجبات کی ادائیگیوں کے لیے مختص20ارب روپے شامل ہیں یہ ادائیگیاں کے الیکٹرک، حیدرآباد الیکٹرک اور سکھر الیکٹرک کمپنیوں کو کی جائیں گی۔

آب پاشی کے لیے50 ارب روپے، سندھ پولیس کے لیے 89ارب90کروڑ روپے، زراعت کے لیے15ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزکے مطابق آئندہ مالی سال وفاقی حکومت کے قابل تقسیم پول سے605 ارب 28 کروڑ 57 لاکھ، تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں 43 ارب 52 کروڑ 73 لاکھ روپے جبکہ آکٹرائے ٹیکس کے نقصانات کی مد میں16 ارب 27 کروڑ 24 لاکھ روپے حاصل ہوںگے۔نئے مالی سال میں محاصل اور غیرمحاصل وصولیوں کی مد میں 243 ارب 8 کروڑ 20 لاکھ روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالیاتی ذرائع سے75 ارب 78 کروڑ 95 لاکھ روپے ملنے کی توقع ہے جس میں 60 ارب روپے کے بینک قرضے بھی شامل ہوںگے۔ سندھ حکومت نے جاری مالی سال میں خرچ نہ ہونے والے 55 ارب روپے کو بھی آئندہ مالی سال کی آمدنی میں شامل کیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں محاصل اخراجات کا تخمینہ 773 ارب روپے اور کیپیٹل اخراجات کا تخمینہ 27 ارب 30 کروڑ 6 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی سالانہ ترقیاتی پروگرام 343 ارب 91 کروڑ 12 لاکھ روپے کا ہوگا جس میں صوبائی ترقیاتی پروگرام کے252 ارب روپے، غیرملکی معاونت کے 46 ارب 89 کروڑ 45 لاکھ روپے، وفاقی گرانٹ کے 15 ارب 1کروڑ67 لاکھ روپے جبکہ اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے30ارب روپے شامل ہیں۔

بجٹ خسارے میں کمی کے لیے پبلک اکاؤنٹس سے بھی23 ارب 12 کروڑ 31 لاکھ روپے حاصل کیے جائیںگے اس طرح صوبے کی مجموعی وصولیاں 11 کھرب 23 ارب 99 کروڑ 13 لاکھ روپے ہونے کی توقع ہے جبکہ بجٹ کا مجموعی حجم11 کھرب 44 ارب 44 کروڑ 88 لاکھ روپے ہوگا جس میں خسارے کا تخمینہ20 ارب 45 کروڑ 75 لاکھ روپے رکھا گیا ہے جو تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے اپوزیشن کے شور شرابے میں مالی سال19-2018 کے لیے اپنی آخری بجٹ تقریر میں کہاکہ ہماری آمدنی کا تقریباً 75 فیصد وفاقی منتقلیوں، وفاقی قابل تقسیم پول میں سے حصہ، براہ راست منتقلیاں اور آکٹرائے ضلع ٹیکس کی معطلی کے نتیجہ میں نقصان کو پورا کرنے کی مد میں گرانٹ پر انحصار ہے جوکہ این ایف سی فارمولا کے تحت صوبوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، نویں این ایف سی ایوارڈ پر فیصلہ کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

این ایف سی ایوارڈ نہ ملنے سے سندھ کو بڑے معاشی خسارے کا سامنا ہے ، ہم نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ سندھ سے ریونیو وصولی دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں صوبوں کو صرف ایک ٹیکس وصولی کا اختیار ہے لیکن باوجود اس کے ایک دہائی سے وفاقی حکومت یہ دلیل دیتی ہے کہ صوبوں کے پاس ٹیکس وصولی کی صلاحیت نہیں ہے، ثابت کیاہے کہ نہ صرف ہماے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود ہے بلکہ مزیدبہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ سندھ حکومت نے تعلیم، صحت ، صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی منصوبہ بندی کی ہے۔

کراچی میںBRTSاورنج لائن اور ریڈ لائن کے ذریعے اربن ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی کی ہے، تعلیم، صحت، غذا کی فراہمی، فوڈ سیکیورٹی، واٹرسپلائی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ مالی سال 18-2017 کے دوران ترقیاتی بجٹ کے لیے274 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، روا ں ما لی سال اے ڈی پی کے714منصوبے مکمل کیے جائیں گے جبکہ گزشتہ مالی سال536 منصو بے مکمل کیے گئے تھے۔

مرادعلی شاہ نے کہاکہ موجودہ مالی سال 18-2017 کے بجٹ تخمینے کی رقم 966.6 ارب روپے ہے، رواں سال کے مقابلے میں نظرثانی شدہ آمدنی 1028.9 ارب روپے مقرر تھی، صوبائی حکومت بڑے پیمانے پر وفاقی منتقلی پر انحصار کرتی ہے جو اس کے محاصل کا 61 فیصد پر مشتمل ہوتا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے منتقلی میں یہ کمی صوبائی وصولی پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتی ہے، وفاق کی جانب سے حکومت سندھ کو منتقلی مالی سال کے دوران تخمینہ سے کم رہی، مالی منتقلیوں میں غیرمتوقع طور پر کمی صوبائی حکومت کے بجٹ کی تیاری پر اثر انداز ہوتی ہے، غیر ترقیاتی اور ترقیاتی مد میں اخراجات کا انحصار انہی منتقلیوں پر ہوتا ہے۔ وفاق نے27 ارب 30 کروڑ روپے میں سے20 ارب40 کروڑ روپے کم کردیے تھے۔

وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں کہاکہ صوبائی ریونیو وصولی کے حوالے سے ٹیکس وصولی کی مد میں ہم بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں، سندھ ریونیو بورڈ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ اپنے ٹیکس اہداف پورے کرنے میں کامیاب رہے ہیں، رواں مالی سال کے دوران زمینوں کی خرید و فروخت کے باعث ٹیکس وصولی کے ہدف میں چھوٹ دی گئی ہے، 199.6 ارب روپے کے تخمینے کے مقابلے میں صوبائی ٹیکس اور غیر ٹیکس وصولیوں میں197 ارب روپے تک نظر ثانی کی گئی ہے۔

اخراجات کے حوالے سے بجٹ میں1043.2 ارب روپے میں سے987.8 ارب روپے تک کی نظرثانی کی گئی ہے، موجود ہ اخراجات میں666.5 ارب روپے میں سے685.2 ارب روپے تک نظرثانی کی گئی ہے، 344ارب روپے کے مقابلے میں ترقیاتی اخراجات میں282.4 ارب روپے تک نظر ثانی کی گئی ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی فنڈ کا بھر پور استعمال بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔کل تک ترقیاتی اخراجات 143.3 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔انھوں نے کہاکہ سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے سمیت خصوصی یو نٹس بھی تشکیل دیے گئے ہیں جن میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ، ریپڈ رسپانس فورس، اینٹی کار لفٹنگ سیل اور آئی ٹی کیڈر شامل ہیں۔

سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں اس کے لیے فوج کی نگرانی میں تربیت، بہتر پیکیج، ویلفیئر اسکیم، شہید کمپنسیشن ایکٹ بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہید ہونے والوں کے خاندانوں اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی مالی معا ونت کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، این ٹی ایس کے ذریعے10ہزا ر پولیس اہلکار بھرتی کیے گئے۔آئندہ مالی سال میں بھی 89 ارب 90 کروڑ روپے پولیس کے لیے رکھے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ نئے مالی سال میں سی پیک کی سیکیورٹی کے لیے 2782، تربیت کیلیے 2959 اور مختلف رینکس میں 11259 بھرتیاں کی جائیں گی ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں رواں مالی سال میں 178 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے جو اب بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لیے 205 ارب 73 کروڑ 90 لاکھ روپے کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح صحت کیلیے 96 ارب 38 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایاکہ صوبہ سندھ کو اپنے بچوں میں کم غذائیت اور سوکھے کی بیماری کا چیلنج درپیش ہے۔ سندھ کے48 فیصد بچے غذائی قلت اور سوکھے کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ حکومت سندھ نے ورلڈ بینک کے تعاون سے کثیرالجہت منصوبوں کا آغاز کیا ہے جس سے بچوں میں آئندہ 5 سال میں سوکھے کی بیماری کی سطح کو کم کرکے30 فیصد تک لایا جاسکے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم بغیر کسی مذہبی تفریق کے ملک کے تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ سندھ میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوںکی تزئین وآرائش کے لیے مختص رقم 50 کروڑ روپے سے بڑھاکر 75 کروڑ روپے کی جارہی ہے۔

مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں کہاکہ سندھ حکومت کے محکمہ توانائی نے رواں مالی سال میں مختلف بجلی کے منصوبے بر وقت مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سی پیک کے تحت بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، حقیقت ہے کہ پورا صوبہ بڑے پیمانے پر بجلی کی لوڈشیڈنگ اور قدرتی گیس کی کمی کا عذاب بھگت رہاہے، صوبائی دارالحکومت کراچی بھی بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مفلوج ہے ، ہمیں یقین ہے کہ ملک میں بجلی کے بحران کا حل سندھ کے پاس ہے، سندھ ملک کی توانائی کا مرکز ہے جو پاکستان کو روشن رکھے گا، تھر کے کوئلہ سے روایتی توانائی پورے ملک سے بجلی بحران کا مکمل خاتمہ ہوسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق زراعت اور آب پاشی کے شعبے میں دیہی معیشت کے لیے پانی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت آب پاشی نظام کی بہتری اور بحالی اور نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے کا عزم رکھتی ہے، ملک کے زیریں حصے میں ہونے کے باعث صوبہ سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس بحران پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ آئندہ مالی سال میں248 اسکیموں بشمول تھر کول انفرااسٹرکچرکی ترقی کے لیے 3 اسکیموں اور 4 میچنگ پروجیکٹ کے لیے11 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، آب پاشی کے نئے منصوبو ں کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبے کے تحت50 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، ترقیاتی بجٹ میں غیرملکی منصوبوں کی معاونت کی مد میں8 ارب50 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ سندھ گنجان شہری علاقہ اور ملک کا سب سے بڑا شہری صوبہ ہے جہاں ملک کی مجموعی آبادی کا24 فیصد حصہ رہائش پذیر ہے، شہروں کی طرف منتقلی کا رجحان اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی نے پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی اور کچرے کو ٹھکانے لگانے جیسی خدمات کو متاثر کیا ہے اسی وجہ سے ان مسائل پر قابو پانے کے لیے مختص رقم7 ارب 96 کروڑ روپے سے بڑھاکر 14 ارب 71 کروڑ روپے کی جارہی ہے۔ مراد علی شاہ نے ایوان کو بتایاکہ آئندہ مالی سال سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ ہائوس رینٹ کی مد میں 50 فیصد کا اضا فہ کیا جارہا ہے۔ حکومت سندھ کے پنشنرز کی پنشن کی کم از کم حد6ہزار سے10ہزار اور فیملی پینشن کی حد4500روپے سے بڑھاکر 7500 روپے جبکہ 75 سال سے زائد عمر کے تمام پنشنرز کی کم از کم پینشن 15000 روپے کی جا رہی ہے۔ ڈرائیور اور ڈسپیچ رائیڈرکے اوور ٹا ئم کو 40 روپے سے بڑھا کر 80 روپے فی گھنٹہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح نرسنگ کے طالب علموں کا وظیفہ6ہزار 860 روپے سے بڑھاکر 15 ہزار880 روپے کیا جارہاہے جبکہ مشکل علاقوں میں جانے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے الاؤنس میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرصدارت جمعرات کی صبح سندھ سیکریٹریٹ میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں11 کھرب 44 ارب 44 کروڑ 88 لاکھ روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ترقی میں معاون اور فلاحی بجٹ ہے، اس لحاظ سے بجٹ اخراجات کا سب سے زیادہ 27فیصد حصہ صوبے میں تعلیم کی بہتری کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے 96 ارب 38کروڑ روپے کی رقوم مختص کی ہیں جومالی سال2017-18 کے مقابلے میں 13.6 فیصد زائد ہیں۔سندھ حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں 14.67فیصد اضافہ کیا ہے، سندھ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے پر 230 ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کرے گی۔

جس میں جاری اخراجات میں سے 208 ارب 23کروڑ روپے جبکہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے 24 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، 24.4 ارب روپے کے صوبائی اے ڈی پی میں 3.2 ارب روپے بورڈ اور یونیورسٹیوں کیلیے مختص کیے گئے ہیں، 95 کروڑ 85 لاکھ روپے سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کیلیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ خصوصی تعلیم کیلیے 20کروڑ، کالج ایجوکیشن کیلیے 5 ارب روپے جبکہ اسکول ایجوکیشن کیلیے 15ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، سالانہ اے ڈی بی کے علاوہ صوبے میں 3 ارب روپے غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، سندھ حکومت آئندہ بجٹ میں کشمور اور کندھکوٹ کے قریب کرم پور کیڈٹ کالج کے قیام کیلیے 25کروڑ 80 لاکھ روپے فراہم کرے گی، سندھ بھر میں 4560 اسکولوں کی تعمیر ومرمت پر 8ارب 69کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

کراچی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے قیام کیلیے بجٹ میں 25کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، کراچی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی تعمیر و مرمت اور اپ گریڈیشن کیلیے 12کروڑ 50لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کیلیے 9 ارب 60کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی، اسکولوں میں فرنیچر، اسٹیشنری، سفری اخراجات کی مد میں 4ارب 90کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، طالبات کو وظیفے کی ادائیگی کیلیے ایک ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، اسکول منیجمنٹ کمیٹیوں کیلیے ایک ارب 20کروڑ روپے، رجسٹریشن فیس، انرولمنٹ اور سالانہ امتحانی فیس کی چھوٹ کی مد میں بھی 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

تعلیم کے معیار کی بہتری کیلیے ایجوکیشن منیجمنٹ آرگنائزیشن کیلیے بجٹ میں ایک ارب روپے، سندھ صوبے میں حکومت سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ امتحان میں اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طلبا کو نقد انعامات بھی دے گی جس کیلیے بجٹ میں ایک ارب 20کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، سکھر میں لاکالج کے قیام کے ساتھ نوشہروفیروز، سکھر، جیکب آباد، دادو اور عمر کوٹ میں آئی بی اے کے 5 کمیونٹی کالجز بھی قائم کیے جائیں گے، ڈسٹرکٹ حیدرآباد، کورنگی، ملیر،کراچی ویسٹ، عمرکوٹ ، سکھر، جامشورو، شکارپور، جیکب آباد میں ایک ایک جبکہ سانگھڑ میں 2 ڈگری کالج تعمیر ہوں گے۔

علاوہ ازیں سندھ حکومت نے صحت کیلیے 96 ارب 38کروڑ روپے کی رقوم مختص کی ہیں،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ذیابیطس، خون کے سرطان، گردوں کے امراض، کینسر ، آنکھوں کے امراض، غذائی قلت کے خاتمے کیلیے فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا گیا جبکہ مختلف نجی اور سرکاری طبی مراکز اور میڈیکل انسٹی ٹیوٹس سمیت فلاحی اداروں کیلیے بھی بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بھی 12.5 ارب روپے صحت کیلیے رکھے گئے ہیں جس میں سے 6.5 ارب روپے اسپتالوں کی بہتری، 1.4ارب روپے تربیتی اسپتالوں جبکہ 3ارب روپے کی رقوم بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام پر خرچ کی جائے گی۔

غیرملکی معاونت سے بھی صوبے میں صحت کی بہتری پر 2.3 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، بجٹ میں دواؤں کی خریداری کیلیے 9.5ارب روپے رکھے گئے جو مالی سال 2017-18 سے 20 فیصد زائد ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے منصوبوں کیلیے فنڈز 70کروڑ سے بڑھا کر 2.3ارب روپے کردیے گئے جو 230فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں، قومی ادارہ امراض قلب کیلیے بجٹ 54فیصد بڑھا کر 8.9ارب روپے رکھا گیا ہے، سکھر، حیدرآباد، سہون اور کراچی میں مزید مراکز کیلیے بھی رقوم رکھی گئی ہیں۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی ٹرانسپلانٹ کیلیے سندھ کے بجٹ میں 5.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، چائلد لائف فاؤنڈیشن کیلیے بجٹ میں 77کروڑ 50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کیلیے 5کروڑ 80لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، امراض چشم کے ادارے ایل آر بی ٹی کیلیے بجٹ میں 7کروڑ روپے کی رقوم رکھی گئی ہیں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کیلیے 36 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقوم رکھی گئی ہیں ، فاطمید فاؤنڈیشن کیلیے 8 کروڑ روپے، بچوں میں غذائی قلت دور کرنے کیلیے بجٹ میں رقوم 112 فیصد بڑھا کر 5.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

پی پی ایچ آئی سندھ کے لیے رقوم 17فیصد بڑھا کر 5.84ارب روپے کردی گئی ہے، سندھ میں کیمیکل جانچ، بائیولوجی سائنس اور ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کیلیے 22 کروڑ روپے، خون کے سرطان میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلیے 37 کروڑ روپے، ذیابیطس کی روک تھام کیلیے 10کروڑ روپے، انڈس اسپتال کراچی کیلیے ایک ارب روپے، سہون میں عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیلیے ایک ارب 25کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

کڈنی سینٹر کراچی کیلیے فنڈز 150فیصد اضافے سے 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، اسلام کوٹ تھر میں اسپتال کے قیام کیلیے 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، کینسر فاؤنڈیشن کیلیے 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ، صوبے میں نئے بی ڈی ایس اور نرسنگ اسکولوں کے قیام کے لیے بجٹ میں 58 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ، سندھ میں ویکسینیشن کرنے والے عملے (بی ایس 16) ملازمین کیلیے 4000 روپے اسپیشل الاؤنس کا اعلان کیا گیا، اسی طرح نرسنگ کے طالب علموں کا وظیفہ 6 ہزار 860 روپے سے بڑھاکر 15 ہزار 880 روپے کیا جا رہا ہے جبکہ مشکل علاقوں میں جانے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے الاؤنس میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

سندھ کے دور دراز علاقوں بشمول تھرپارکر میں بی ایس ایک سے بی ایس 20تک کے طبی عملے اور ڈاکٹروں کو ہارڈ شپ الاؤنس 10ہزار سے بڑھا کر 14ہزار روپے کر دیا گیا ہے، جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ کے ملازمین کیلیے ان کی بنیادی تنخواہوں کے نصف ہیلتھ پروفیشن الاؤنس کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ماتحت کام کرنے والے فارماسسٹس کو بھی ان کی ایک بنیادی تنخواہ کا ماہانہ الاؤنس دینے کا اعلان کیا گیا۔

سندھ حکومت نے بھی بجٹ میں مزدوروں کو نظر انداز کردیا

مزدوروں کی جماعت ہونے کی دعوے دار پیپلز پارٹی کی حکومت نے وفاق میں سرمایہ داروں کی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ نہیں کیا۔ وفاقی حکومت نے صنعتی انجمنوں اور سرمایہ کاروں کے دباؤ پر مزدوروں کی کم از کم تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے مزدوروں کو یکسر نظرا نداز کردیا اور بجٹ میں اس حوالے سے اعلان نہیں کیا گیا جس سے مزدوروں کے حقوق کی انجمنوں اور ٹریڈ یونینز میں مایوسی پھیل گئی ہے۔آئندہ مالی سال کے لیے نیا ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کے بجٹ میں فنانس بل پیش نہیں کیا گیا حالانکہ درآمدی گاڑیوں، اسپورٹس اور 150 سی سی موٹر سائیکل کے ٹیکس، ٹرانسفر فیس، سی این جی اور پٹرول پمپ کی فیس اوروائن شاپ لائسنس فیس میں اضافے کی تجویز بجٹ میں موجود تھی جسے کابینہ کے اجلاس میں رد کردیا گیا۔سندھ حکومت کے ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولیوں کے حجم میں اضافے کے پیش نظر امکان ہے کہ آنے والی حکومت ٹیکسوں میں ردبدل کا فنانس بل اسمبلی میں پیش کرے گی۔ موجودہ حکومت نے الیکشن کی وجہ سے ٹیکسوں کی شرح بڑھانے سے گریز کیا ہے۔

سندھ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران عوام کو سستے داموں آٹے کی فراہمی کے لیے گندم پر 5ارب 10کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ بجٹ میں رمضان کے مہینے میں غریب خاندانوں میں نقد معاونت کے لیے 4.2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ذریعے مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جائیگی۔ سندھ سیکریٹریٹ کے ملازمین ہیلتھ انشورنس پالیسی کے لیے بجٹ میں 55کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔سندھ حکومت نے حادثاتی موت کی صورت میں لواحقین کو ایک لاکھ روپے کے یونیورسل ڈیتھ انشورنس کی فراہمی کی اسکیم آئندہ مالی سال بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے بجٹ میں 2.2ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں زبردست احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے گلی گلی میں شور ہے، پپو، پھوپھو پارٹی چور ہے کے نعرے لگائے جبکہ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑکر ایوان میں اڑا دیں، اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی کے باعث وزیراعلیٰ کو اپنی بجٹ تقریر جاری رکھنا دشوار ہوگیا۔

مزید : بجٹ