ٹیکنالوجی کا جال

ٹیکنالوجی کا جال
ٹیکنالوجی کا جال

  

انٹرنیٹ نے جہاں ہماری زندگی میں کئی سہولتیں پیدا کی ہیں وہیں بے حساب نقصانات کا سبب بھی بنا ہے۔ سب سے بڑا نقصان تویہ ہواہے کہ اب لوگ قریب بیٹھ کر بھی دور بیٹھے ہوتے ہیں اور ملاقات بھی ملاقات نہیں کہلائی جا سکتی۔ مکالمے کا فقدان معاشرے میں طرح طرح کی شدت پسندی اور عدم برداشت کو راہ دے رہا ہے۔

اوراس کی وجہ سے کئی طرح کی وحشتیں جنم لے رہی ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ تو نوجوان نسل کا ہے جسے معلومات کے جنگل میں بے سمت چھوڑ دیا گیا ہے۔اب ان کے پاس غور و فکر کا وقت نہیں،کیونکہ معلومات اورتفریح آپس میں کچھ ایسے گڈ مڈ ہو گئے ہیں کہ ایک دھاگے کو دوسرے سے جداکرنا مشکل ہے۔تخلیق کاروں کا تخلیقی عمل بھی متاثر ہواہے۔

ویسے توجب خیال کی کوئی کرن نمودارہوتی ہے تو تخیل کو خود بخود پر لگ جاتے ہیں،لیکن اب ایسا ہوتا ہے کہ اتنے میں کسی اور بریکنگ نیوز یا کسی تفریحی پوسٹ پر نظر پڑجاتی ہے اور سب کچھ وہیں کا وہیں دھرا رہ جاتا ہے اور خیال کا پرندہ زمیں پر اتر آتا ہے۔اس سب کے علاوہ یہ بھی پریشان کن ہے کہ اب کسی فرد کی زندگی میں کچھ بھی خفیہ نہیں رہا۔پرائیویسی نام کی کوئی چڑیا نہیں رہی۔آپ کا کہا سنا اورکیا دھرا سب کچھ کہیں نہ کہیں محفوظ ہو رہا ہے۔ہم اب زندگی کا تصور ایپلی کیشنز کے بغیر کر ہی نہیں سکتے۔

ایسے واقعات اب ہماری زندگی کا معمول بن چکے ہیں۔ہمیں موسیقی سے شغف ہے سو اگلے دن موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے گانوں کی ایک ایپلی کیشن سے گانے سنے۔ہم اسلام آبا دپہنچ گئے، دو دن وہاں رکے اور جب لاہور کا رخ کیا تو ابھی سفر آغاز ہی کیا تھا کہ اسی ایپلی کیشن کی طرف سے ایک پیغام موبائل کی سکرین پر جگمگایا کہ کیا آپ واپسی کے سفر میں بھی ہماری ایپلی کیشن سے گانے سننا پسند کریں گے۔میں تو حیران رہ گئی کہ انھیں کیسے معلوم کہ ہم واپسی کا سفر شروع کر چکے ہیں اوریہ بھی کہ ہم لاہور ہی جا رہے ہیں۔

اب بندہ اسلام آباد سے براستہ موٹروے کئی اور شہروں کو بھی جا سکتا ہے۔سوچیے کہ ہماری زندگیاں کس طرح اس ٹیکنالوجی کے حصار میں قید ہو چکی ہے ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہوپا رہا۔ہم جو پہلے زمان و مکاں کی قید میں تھے، کافی آزاد تھے، لیکن اب جو حصار اس انٹرنیٹ کا ہمارے گرد بن گیاہے کافی سخت اور مضبوط ہے۔سوچنا تو یہ بھی چاہیے کہ ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اس کے ایجاد کردہ خدا جانے اب کون سے جدید ترین آلات کے ساتھ کن منزلوں کو سر کرنے کا سوچ رہے ہوں گے۔

اس ٹیکنالوجی نے سرمایہ داریت کا شکنجہ مزید سخت اور فول پروف کر دیا ہے۔اب سرمایہ دار آسانی سے سوچ سکتا ہے کہ اس کی کہاں کہاں کس صورت میں ضرورت ہے اور اسے کیسے پھلنا پھولنا ہے۔ جب ہماری اپنی زندگیاں ہمارے قابو میں نہیں ہیں تو اگلی نسلوں کی رہنمائی کا سوچنا بھی اب کارِ لاحاصل ہے۔

جیسا کہ عرض کیا، ہم ایپلی کیشن کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کر سکتے، اور یہی ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ اس نے ہمیں رفتہ رفتہ اپنا محتاج بنا دیا ہے۔وہ یوں کہ ٹیکسی سروس کی ضرورت اور شہر میں کوئی پتہ ڈھونڈنے کے لئے ، لوکیشن سروس کو ہر وقت آن رکھنا بھی ضروری ہے سو اس کے ذریعے آپ کی دن بھر کی مصروفیات بھی ریکارڈ ہو رہی ہیں کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور کیاکرتے ہیں۔

اس میں کچھ نہ کچھ مزاح کاعنصر بھی پیدا ہوتا رہتا ہے، مثلا آپ کسی ریسٹورینٹ کے قریب جا کر رکیں، آپ کاگوگل میپ اور لوکیشن سروس آن ہوتو سمجھا جائے گا کہ آپ ابھی پیٹ پوجا کر کے اٹھے ہیں چاہے بھوک سے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں۔ جب آپ سے پوچھا جائے گا کہ ہوٹل کا کھانا کیسا تھا تو آپ پر کیا گزرے گی؟ باقی تما م ایپلی کیشن جن کا ہماری زندگی میں ہمہ وقت عمل دخل ہے، مثلا وٹس اپ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر، یہ سب ایک جال کی صورت ہمارے گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ہم مجبور ہیں کہ ان کے ذریعے ہی زندگی کی گاڑی چلائیں اور انھیں ہمارے روز وشب کا حساب رکھنے میں سہولت فراہم کریں۔اب تو تھری ڈی پرنٹنگ ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ جسے فوٹو کاپی مشین کی طرح کوئی حکم دیں، کوئی نقشہ دیں اور وہ ہو بہو وہ چیز بنا کر آپ کے سامنے رکھ دے گی، کاغذپر نہیں بلکہ اصل ٹھوس صورت میں۔اس حوالے سے انسانی اعضا بنانے کا کام شروع ہو چکا ہے جو حیران کن اور مفیدکارنامہ ہے، لیکن اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جب عام کی گئی اس وقت ان ایجادات کرنے والوں یعنی اصل طاقت وروں کے پاس اس سے بہترٹیکنالوجی آچکی تھی۔ہم مغرب کی موجودہ عہد میں بنائی گئی فلمیں دیکھیں تو ان میں مستقبل کی ٹیکنالوجی کے بارے میں جو کچھ بتایا جا تا ہے ہم اس پر حیران ہوتے ہیں اور بعض اوقات لگتا ہے کہ یہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا،لیکن کچھ بھی زیادہ نہیں۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں

محو حیرت ہو ں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

مستقبل کی ایجادات کے حوالے سے جو کچھ کہا جارہا ہے، اسے مانے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس کے لئے 1995ء میں بننے والی ایک فلم دی نیٹ دیکھیں۔ ایک تو اس میں میری پسندیدہ اداکارہ سینڈرا بلاک ہے، دوسرا آج سے لگ بھگ چوبیس برس قبل ٹیکنالوجی کی طاقت کا اظہار ہے۔ان دنوں ہم اسی دنیا میں تھے۔

ہمارے پاس نیا نیا کمپیوٹر بھی آ گیا تھا، لیکن ہمیں اس کی گیمز کی ٹیکنالوجی، وائرس کی طاقت اور انٹرنیٹ وغیرہ کا علم نہ تھا،لیکن اس فلم میں دیکھیں کہ کس طرح اس لڑکی کی زندگی کو ہی بدل دیا جاتا ہے۔

اسے کمپیوٹر گیمز کے ذریعے کیسے جال میں پھنسایا جاتا ہے اور پھر اس کا سارا ریکارڈ، نام پتہ، شناخت سب کچھ بدل دیا جاتا ہے وہ پاگلوں کی طرح بتاتی پھرتی ہے کہ وہ وہ نہیں ہے جو اسے سمجھا جا رہا ہے،لیکن کوئی اس کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جگہ اس کا متعلقہ ریکارڈ بدل چکا ہوتا ہے اور اب وہ ایک ایسی مجرم ہے جو پولیس کو مطلوب ہے۔یعنی آج سے چوبیس برس قبل فلم جو کچھ بتا رہی تھی وہ آج ممکن ہی نہیں بلکہ عام ہے۔

تو سوچیے آج سے دو دہائی بعد یہ دنیا کیسی ہو گی۔ اب تو ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔اب تو سکرینیں بھی ہمیں دیکھ رہی ہیں۔کیا خبر ان طرح طرح کی سکرینوں کے ذریعے، ان روشنی کے قمقموں کے ذریعے، بلکہ ہر وہ چیز جس میں بجلی دوڑتی ہے۔ اس کے ذریعے ہمیں ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔خدا جانے۔

مزید :

رائے -کالم -