سوڈان میں تبدیلی

سوڈان میں تبدیلی
سوڈان میں تبدیلی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سوڈانی عوام گزشتہ چار مہینوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ ملک میں مہنگائی ہوئی اور خاص طور پر جب روٹی کی قیمت بڑھی تو سوڈانیوں جیسے صابر و شاکر لوگ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور احتجاج پر اُتر آئے۔

گزشتہ سال دسمبر میں عتبرہ شہر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوئے جو جلد ہی خرطو م تک پھیل گئے۔ مختلف پیشہ ورانہ تنظیمات اور سیا سی جماعتیں بھی میدان میں آگئیں اور صدر جنرل عمر حسن احمد البشیر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے لگیں۔ البشیرنے مظاہرین کو ملک دشمنوں کے آلہ کار قرار دیا اور مستعفی ہونے سے انکار کیا۔ مظاہرین بھی اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے اوریوں حالات بگڑتے گئے۔
11 اپریل کو نائب صدراور وزیر دفاع جنرل احمدعوض ا بن عوف نے تیس سال سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان سوڈان کے مرد آہن جنرل عمر حسن احمد البشیر کو معزول کرکے عنان اقتدارسنبھا ل لی اور ایک عبوری فوجی کونسل کے قیام کا اعلان کیا جو دو سال کے اندر اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل کرے گی۔احتجاج کرنے والوں نے بشیر کے اقتدار سے دستبردار ہونے پر خوشی تو منائی لیکن جنرل عوف کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اُنہوں نے اعلان کیا کہ وہ کسی ایسے شخص کی حکومت تسلیم نہیں کریں گے جوسابق حکومت کا حصہ رہا ہو۔ اس کے جواب میں جنرل عوف نے ایک طویل تقریر کی اور عوام کویقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ اقتدار سے چمٹے نہیں رہیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ دو سال سے پیشتر اقتدار عوام کے نمائندوں کے حوالہ کردیں۔ اُنہوں نے کہا ”ہم سوارالدھب کی اولاد ہیں“ اوراُس نے جو روایت قائم کی ہے اُ س کی پاسداری کریں گے۔

یاد رہے کہ جنرل سوارالدھب نے 1985ء میں کرنل جعفر النمیری سے اقتدار چھین کر صاف اور شفاف انتخابات منعقد کرائے اور اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے سوار الدھب کون تھا اورکوئی دوسرا جرنیل سوارالدھب کیوں نہیں بن سکتا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں سوڈان کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی جہاں اقتدار کی کشمکش سیاسی اورفوجی حکومتوں کے عروج و زوال کی طویل داستان ہے اورکئی لحاظ سے پاکستان کی تاریخ سے مماثلت بھی رکھتی ہے۔
ہمیں برطانیہ سے اور سوڈان کو مصر اور برطانیہ سے آزادی ملی۔ہم سوڈان سے نو سال پہلے آزادہوئے لیکن وہ وقت ہم نے آئین بنانے میں صرف کیا۔23مارچ 1956ء کو ہمار آئین بنا اور اُسی سال یکم جنوری کو سوڈان آزاد ہواجہاں ایک منتخب حکومت نے اقتدار سنبھالا۔

دو سال بعد 1958ء میں جنرل ایوب خان نے ملک کے آئین کو بیک جنبش قلم منسوخ کرکے مارشل لاء نافذ کیا اور یہی کام اُسی سال سوڈان میں اُس کے ہم منصب جنرل ابراہیم عبود نے انجام دیا۔ یہ دونوں نوزائیدہ ممالک کے لئے مارشل لاء کے پہلے ادوار تھے۔ 11 سال بعد 1969ء میں جب ایوب خان نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کیا تواِسی سال کرنل جعفر النمیری نے سوڈان میں منتخب حکومت کو گھر بھیج کراپنے 16 سالہ اقتدار کی بنیاد رکھی۔ان کے آنے سے پہلے پانچ سال تک (1964-69ء) سوڈان میں عوامی سیاسی دور رہا۔ ہمارے ہاں عوامی دور اُس وقت آیا جب ذوالفقار علی بھٹو 1971-73میں صدر اور 1973-77میں منتخب وزیر اعظم رہے۔

سوڈان میں 1985ء میں اس وقت کے آرمی چیف اور وزیر دفاع جنرل عبدالرحمن سوار الدھب نے صدر نمیری سے اقتدار لے کر صاف اور شفاف انتخابات منعقد کر ائے اور 1986ء میں جیتنے والی پارٹی کے حوالے حکومت کر کے گھر چلے گئے۔ ہے نا عجیب بات؟ ایسا کبھی ہوا نہیں ہے کہ کوئی زبردستی حکومت لے اور رضامندی سے چھوڑدے۔

سوڈانی آج سوارالدھب کہاں سے لائیں؟ ہمارے ہاں پہلی دفعہ صاف اور شفاف انتخابات جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں منعقد کرائے۔ بدقسمتی سے انتخابات کے بعد ہمارے ملک کا مشرقی حصہ جدا ہوکر بنگلہ دیش بن گیا اور سوڈان میں چالیس سال بعد جنرل بشیر کے اقتدار کے دوران 2011ء میں جنوب کا حصہ علیحدہ ہوکرجنوبی سوڈان بن گیا۔ہمارے ہاں یہ تبدیلی انتخابات کے نتائج پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں اور سوڈان میں ایک ریفرنڈم کے نتیجے کو تسلیم کرنے کے نتیجے میں آئی۔
پاکستان میں 1977ء کے متنازع انتخابات نے جنرل ضیاء الحق کو 1977ء میں اقتدار پر قبضہ جمانے اور ایک طویل مارشل لاء کا راستہ ہموار کرنے میں مدد دی۔ جنرل ضیاء کا دور حکومت ان کے ایک حادثے میں جان بحق ہونے پر اگست 1988ء میں اختتام پذیر ہوا۔

لیکن سوڈان کے طویل مارشل لاء کا دورایک سال بعد 30 جولائی 1989ء کو کرنل عمر حسن احمد البشیر کے اقتدار پر قبضہ کرنے سے شروع ہوا جو 11اپریل 2019ء تک جاری رہا۔اس دوران پاکستان میں کئی مختصر عوامی دورگزرے جبکہ سوڈان میں فوجی حکومت ہی برقرار رہی۔ 1999ء میں صدر بشیر نے سیاسی جماعتوں پرسے پابندی ہٹا دی اور پارلیمان کا انتخاب ہوا۔ اُن کے قریبی ساتھی اور سیاسی اُستاد حسن ترابی نئی پارلیمان کے سپیکر منتخب ہوئے۔ جلد ہی بشیر سیاسی سرگرمیوں سے اُکتا گئے اور پارلیمان توڑ کر ترابی کو جیل بھیج دیا۔ یہ مقدمہ جب ملک کی آئینی عدالت کے سامنے پیش ہوا توعدالت نے پاکستان میں صدر کی آئین توڑنے کی نظیر (پر یسیڈنٹ) کا حوالہ دے کر مقدمہ خارج کر دیا۔ تاریخ کا جبر دیکھیں۔ اُسی سال اکتوبر میں جنر ل مشرف نے پاکستان میں اقتدار سنبھال لیا اور2008ء تک اقتدار میں رہے۔
صدرجنرل عمر حسن البشیر تیس سال تک سوڈان کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ماضی میں کئی دفعہ اُن کے خلاف احتجاج کی لہریں اُٹھیں اورجلد ٹھنڈی پڑ گئیں۔ لیکن پچھلے سال دسمبر سے اُن کے خلاف جو عوامی سیلاب اُمڈ آیا ہے وہ ٹلنے کانام نہیں لیتا۔

آج سوڈان کا مرد آھن پس زندان ہے۔ اُن کے نائب صدر جنرل عوف بھی عوامی دباؤ کے نتیجے میں ایک دن کے اندر اقتدار سے علیحدہ ہوئے اور جنرل عبدالفتاح برہان سربراہ بن گئے لیکن عوامی احتجاج کاسلسلہ رکا نہیں۔ خرطوم میں دھرنا جاری ہے۔عوام کامطالبہ ہے کہ سول حکومت کا قیام ہونا چاہیئے۔ سوڈانی بڑے اَچھے لوگ ہیں۔

اُن کو بھی اپنے ملک میں ایک جمہوری حکومت کا حق ہے۔سیاسی جماعتوں اور ارباب اقتدار کے درمیان مشورے جاری ہیں۔ دیکھتے ہیں اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -