فصلوں میںگاجر بوٹی کا خاتمہ ‘سی اے بی آئی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ جاری 

    فصلوں میںگاجر بوٹی کا خاتمہ ‘سی اے بی آئی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ جاری 

  

لاہور(پ ر)سی اے بی آئیCABI نے ایک نیا مشاہداتی نوٹ شائع کیا ہے جس میں انتہائی مضر گاجر بوٹی (پارتھینیم) کے خاتمہ کے حوالے سے سفارشات کی فہرست بیان کی گئی ہے جس کے انسانی صحت، ماحول، جانوروں کی افزائش، صحت اور فصلوں کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ رپورٹ جس کا عنوان گاجر بوٹی (پارتھینیم) : وسطی مغربی ایشیاءمیں اس کے اثرات اور روک تھام کی حکمت عملی“ میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے پھیلنے والی گاجربوٹی جس کی اب ایک اعلیٰ بوٹی کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے، 30 ہزار بیج فی پودا تک پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے جو پاکستان اور بھارت سمیت 48 ممالک میں اس کے عالمی پھیلاﺅ کا اہم عنصر ہے۔ CABI کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ پارتھینیم بوٹی انسانوں اور حیوانات میں مختلف الرجیوں کا باعث بن سکتی ہے اور ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی پناہ گاہیں بنا سکتی ہیں، مثال کے طور پر بھارت میں یہ 80 سے 90 فیصد سے زیادہ مقامی پودوں کی انواع کو تبدیل اور چراگاہ کی صلاحیت کو کم کر رہی ہے، چراگاہ کی زمین کی بحالی کی لاگت ہر سال 6.7 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ مشاہداتی نوٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ گاجر بوٹی کے فصلوں پر بہت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ براہ راست مقابلہ کے ساتھ ساتھ بیجوں کی تخفیف کی روک تھام کے ذریعے ایتھوپیا میں سرغو کے بیج کی فصل میں 40 سے 97 فیصد کمی واقع ہوئی۔ 

پاکستان میں CABI's آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروگرام عبدالرحمان نے کہا کہ گاجر بوٹی کی دنیا بھر میں پانچ اہم بوٹیوں کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے جو انتہائی مضر بوٹی ہے اور اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کے مختلف پہلوﺅں اور متاثرہ کمیونٹیز پر اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے والے اثرات کو محدود کرنے کے لئے اس کے پھیلاﺅ پر کڑی نگاہ رکھی جا سکے۔ 

پاکستان میں مکئی کی فصلوں میں نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ فی مربع میٹر 20 پارتھینیم بوٹیوں کی شرح سے مکئی میں 50 فیصد فصل کا نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پارتھینیم کے موجودہ پھیلاﺅ کے بارے میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایری گیشن اور فلڈنگ ایونٹس کے لئے واٹر کینال سسٹم اور روڈ نیٹ ورک کے ذریعے سہولیات درکار ہیں۔ 

عبدالرحمان نے کہا کہ جنوبی پنجاب جیسے موسمی اعتبار سے کم درجہ رکھنے والے علاقوں بشمول سندھ اور بلوچستان صوبوں کے دیگر علاقے بوٹی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایری گیشن نیٹ ورک کے بعد پارتھینیم کی افزائش کی بنیاد پر یہ بوٹی پنجاب کے جنوب مغربی علاقوں میں پھیل رہی ہے جس سے پاکستان کی کاٹن کی صنعت کو خطرات درپیش ہیں۔ 

بوٹی کے خاتمہ کی کوششوں کے بارے میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کوئی ایک طریقہ نہیں ہے، CABI نے اپنی رپورٹ میں جہاں تک ممکن ہے زیادہ ماحول دوست پائیدار حیاتیاتی کنٹرولز کو استعمال کرنے کے بارے میں بہت سی سفارشات شامل کی ہیں۔ 

پارتھینیم سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کے بارے میں اقدامات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جہاں بوٹی موجود پائی جائے وہاں گاڑیوں، لائیو اسٹاک، بیج اور فیڈ کا معائنہ کیا جائے تاکہ ان کی گذر گاہوں کے ذریعے گاجر بوٹی کے بیج کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ نرسریوں اور بوٹیوں کی شناخت کے بارے میں آگاہی اور پھولوں کی مصنوعات کے تعارف کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اگر گاجر بوٹی کی موجودگی ظاہر ہو تو ریگولیٹرز کو بوٹی کے وسیع پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے کلاسیکل اور اضافی حیاتیاتی کنٹرول کی کوششوں کے ذریعے حیاتیاتی کنٹرول ایجنٹس کی حوصلہ افزائی اور ان کی رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنی چاہئے۔ جہاں کیمیکل کنٹرول کا استعمال کیا جاتا ہے اسے سڑک کے کناروں، پبلک پارکس اور نجی املاک جہاں پر یہ موجود ہو، پر بھی استعمال کیا جائے۔ متاثرہ ممالک کو اس کے مزید پھیلاﺅ کو کم کرنے کے لئے پارتھینیم مینجمنٹ اسٹریٹیجی کے نفاذ کی تیاری میں مدد کرنی چاہئے۔ 

جب گاجربوٹی کی موجودگی پائی جائے اور یہ مضبوطی سے موجود ہو تو پارتھینیم کو مضر صحت پودا قرار دینے سمیت ہدایات جاری کی جائیں اور اس کے انتظام کے لئے مناسب بجٹ مختص کرتے ہوئے عوامی و سیاسی حمایت کو یقینی بنایا جائے۔ CABI نے یہ بھی تجویز کیا کہ بوٹی پر قابو پانے کے مختلف طریقوں کے لئے اقتصادی مشاورت بشمول صحت اور ماحولیاتی اثرات کی بھی ضرورت ہے۔ 

OOO

مزید :

کامرس -